کائرہ نے سچ کہا

کالم نگار  |  محمد مصدق

انتخابات بھی جب قریب آتے ہیں تو سمجھدار اور زیرک سیاستدان اپنے محفوظ مستقبل کے لئے اہم فیصلے لیتے ہیں اور ان فیصلوں کے ٹریلر سے آئیڈیا ہو جاتا ہے کہ اصل فلم میں کیا کچھ ہو گا۔ چنانچہ نو ممبران اسمبلی نے مسلم لیگ میں شمولیت کا اعلان کر کے پی پی پی کی قیادت کو ایک سلامی پیش کی اور انہیں باور کرانے کی کوشش کی ہے کہ وہ اپنے پانچ سالہ دور حکومت کا تجزیہ کریں کہ انہوں نے قوم کو لوڈشیڈنگ، گیس مینجمنٹ اور اب تو گیس کے گھریلو بلوں میں چار چار ہزار کا اضافہ، مہنگائی اور بے رورزگاری کا تحفہ دینے کے بعد بھی دعویٰ ہے کہ عوام ووٹ بھی انہیں دیں گے۔
 مسلم لیگ ن میں شامل ہونے والے بعض ارکان سے کچھ چینلز نے انٹرویو کئے تو انہوں نے مسلم لیگ (ن) میں آنے کا تمام کریڈٹ وزیر اطلاعات قمر زمان کائرہ کو دیا کہ انہوں نے کہا تھا کہ ”سیاست سیکھنی ہے تو میاں محمد نوازشریف سے سیکھو“ اب یہ محض اتفاق ہے یا قدرت پاکستان پر مہربان ہو رہی ہے کہ بجلی کی لوڈشیڈنگ کے اوقات میں کافی کمی ہو گئی ہے اور گیس کا پریشر بھی جن علاقوں میں کم تھا وہ اب بہتر ہو رہا ہے اور ساتھ ہی دو دن کے لئے ہی سہی پنجاب کی انڈسٹری کو گیس ملنے لگی ہے
 ویسے یہ عجیب ستم ظریفی ہے کہ وزیراعظم نے دورہ برطانیہ کے موقع پر برطانوی سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی دعوت دی ہے۔ جاپانیوں کی طرح برطانوی بھی مہذب قوم ہیں انہوں نے وزیراعظم سے جوابی سوال نہیں کیا کہ پاکستانی سرمایہ کاروں کو تو بجلی اور گیس دستیاب نہیں پھر وہ بنیادی سہولتوں کے بغیر پاکستان میں سرمایہ کار کیسے کریں۔
مسلم لیگ (ن) کی ایک خوبی ہے کہ وہ مسلسل محنت اور کارکردگی سے محروم عوام کے دلوں میں اپنا مقام بہت مضبوط بنا چکی ہے اور یہ جو نو ممبران اسمبلی نے ن لیگ میں شمولیت اختیار کی ہے تو اسے دیگ کے چند دانوں کی مثال سمجھا جائے جب 16 مارچ کو نگران حکومت بنے گی اور موجودہ حکومت ختم ہو جائے گی تو پھر دیگ کے زیادہ دانے مسلم لیگ (ن) کی پلیٹ میں ہی آئیں گے۔