مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی میں فرق نہیں؟

کالم نگار  |  ڈاکٹر محمد اجمل نیازی
مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی میں فرق نہیں؟


پیپلز پارٹی کی ایم پی اے عظمیٰ بخاری ان لوگوں میں شامل ہیں جنہوں نے ایک دھماکہ کیا ہے۔ آج کل دھمکی سے کام چلتا نہیں ہے۔ میں تب سے پیپلز پارٹی کے خواتین و حضرات سے متعارف ہوں جب یہ لوگ جنرل مشرف کے دور میں اپوزیشن کے بنچوں پر تھے۔ تب مسلم لیگ ن بھی ساتھ ساتھ تھی۔ رانا ثناءاللہ کو جب فیصل آباد میں مار پڑی تو وہ ہمیں بہت اچھے لگے تھے۔ ہم نے احتجاج بھی کیا۔ عظمیٰ کو غم و غصے میں دیکھا۔ تب فرزانہ راجہ بھی بہت جوش و خروش میں تھی۔ رانا صاحب تو اپوزیشن سے پوزیشن میں آ گئے مگر پیپلز پارٹی کے بہت لوگوں کو نظرانداز کیا گیا۔ سوچنے کا مقام ہے کہ جو لوگ اپوزیشن میں پیپلز پارٹی کے ساتھ لگے رہے، اقتدار کے دنوں میں ان کی بیزاری اور بے قراری کیا ہے؟ پنجاب پیپلز پارٹی والوں کے لئے صبر کی رات گزرتی ہی نہیں۔ وہ اب بھی پنجاب میں اپوزیشن میں ہیں۔ اور وہ جو مرکز میں پوزیشن میں ہیں، انہیں ذرا بھر احساس نہیں، انہیں عیاشی اور کرپشن سے فرصت ہی نہیں۔ قربانی کی کہانی کتنی دردناک ہے اور جب اس کہانی کا عنوان ہی نہ ہو تو پھر کیا کیا جائے۔ آج کا دور یادگار جمہوری دور ہے۔ پوزیشن بھی اپوزیشن بھی۔ ایک ٹکٹ میں دو دو مزے۔ یہ صدر زرداری کے لئے سوچنے کا وقت ہے کہ انہوں نے پاکستانی سیاست میں بڑی فتوحات حاصل کی ہیں۔ وہ حریفوں کے لئے بہت تحمل کا ثبوت دیتے ہیں مگر ساتھیوں کے لئے تدبر نہیں دکھاتے۔ تحمل اور تدبیر میں کم فرق ہے۔ یہ بھی ہوا کہ میرے کالموں میں فرزانہ راجہ کے لئے کبھی کبھی تنقیدی باتیں بھی ہو گئیں۔ ورنہ میں دل ہی دل میں اس ہنرمند خاتون کے لئے اچھا خیال رکھتا ہوں۔ عظمیٰ بخاری نے ایک دن فرزانہ کے لئے اچھی باتیں کیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ سیاسی کامیابیوں کے علاوہ صرف بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام ہے جو پیپلز پارٹی کے لئے الیکشن کے دنوں میں کام آئے گا۔ اس پروگرام کی سربراہ فرزانہ راجہ ہیں۔ انہوں نے بہت محنت اور محبت سے اس فلاحی منصوبے کو چلایا ہے۔ کچھ کوتاہیاں تو اچھے کاموں میں بھی ہو جاتی ہیں مگر اس پروگرام کے لئے بیرون ملک میں بھی تقریب ہوئی اور کئی ملکوں میں اس طرح کام شروع کئے گئے۔
ایک بار میں نے عظمیٰ بخاری کے لئے بھی مزاحیہ انداز میں پنجاب اسمبلی میں ایک گفتگو کے حوالے سے کچھ لکھ دیا۔ اس کا فون آیا اور میں نے سمجھا کہ وہ غصے میں ہو گی مگر اس نے میرے اس خیال کو تقویت پہنچائی کہ غم غصے سے بہتر ہے۔ اس سلسلے میں گورنمنٹ کالج میں میرے ساتھی نوید چودھری کا کردار بھی نظر آیا۔ اب عظمیٰ بخاری نے نوید چودھری کو کسی قابل کیوں نہ سمجھا۔ کسی صدارتی عہدے پر آ کر اچھے دل کے لوگوں کے پاس دماغ بھی نہیں رہتا۔ فوزیہ وہاب بہت دلیر عورت تھی۔ فائزہ ملک کے ساتھ میرے گھر بھی آئی تھی۔ وہ تھی تو صرف وہی تھی۔ وہ مر گئی تو اسے پیپلز پارٹی میں یاد کرنے والا بھی کوئی نہیں۔ میرے گھر میں اسے یاد کیا جاتا ہے۔ میرے خیال میں فوزیہ وہاب سے بڑا میڈیا خیرخواہ پارٹی کو اب تک نہیں ملا۔ مخالفین فوزیہ کے خلاف اور خوفزدہ بھی تھے۔ صدر زرداری سے پوچھنا ہے کہ ان کے عہد میں پیپلز پارٹی کو کیا ہو گیا ہے۔ شرمیلا فاروقی اور شازیہ مری کا تعلق سندھ سے ہے مگر پنجاب کو فتح کرنے کے لئے بم پروف قلعہ نما محل میں مورچہ لگانے کے بعد وہ سب سے مل لئے ہوتے۔ یہ تاثر یوں بنتا جا رہا ہے کہ چند مخصوص لوگوں کی پارٹی میں حکمرانی اور من مانی ہے۔ پیپلز پارٹی چھوڑ کر جانے کی روایت پہلے نہ تھی۔ اب یہ حکایت اور شکایت عام ہوتی چلی جا رہی ہے۔
عظمیٰ نے دردمندی سے گہری باتیں بھی کیں۔ اب سیاسی حوالے سے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن میں کوئی فرق نہیں۔ تو ہمیں پارٹی بدلنے کا کیوں دکھ ہو۔ رائٹ اور لیفٹ کی سیاست کا خاتمہ ہو گیا ہے۔ بھٹو اور انٹی بھٹو ووٹرز محرومیوں اور مایوسیوں کی دلدل میں دھنستے چلے جا رہے ہیں۔ میں عظمیٰ کو کیا بتاتا کہ اصل سیاست تو رائٹ اور رانگ کی ہے۔ جو کسی پارٹی میں نظر نہیں آتی۔ عظمیٰ نے کہا کہ اب پیپلز پارٹی میں منظور وٹو اور فواد چودھری کی بات چلتی ہے تو ہم جو ہمیشہ پارٹی میں رہے ہیں ہماری اب کیا ضرورت ہے۔ منظور وٹو اور فواد چودھری پیپلز پارٹی کا چہرہ اور زبان ہیں تو ہم مسلم لیگ ن کے ترجمان کیوں نہیں بن سکتے۔ عظمیٰ بخاری کو پتہ ہو گا کہ اب مسلم لیگ ن کے ترجمان جنرل مشرف کے وزیر طارق عظیم ہیں اور وہاں ماروی میمن بھی ہے۔ مگر یہ بھی ہے کہ مسلم لیگ ن میں مریم نواز بھی ہیں۔ آج کل ڈاکٹر نبیلہ طارق ان کی معاون ہے۔
قمر الزمان کائرہ مایوسیوں کے لہجے میں غصے کی زبان بولتے ہیں۔ کہتے ہیں ہمیں پتہ تھا کہ ان لوگوں نے جانا ہے تو پھر روکا کیوں نہیں۔ رحمان ملک کی طرح جو بی بی کے قاتلوں کو جانتا ہے مگر پکڑتا نہیں۔ کائرہ صاحب حسرت سے کہتے ہیں کہ شہباز شریف چودھری نثار کی باتوں میں آیا رہتے ہیں۔ وہ نواز شریف کے راستے پر نہیں چلتے۔ اس کے جواب میں عظمیٰ کی بات سنیں۔ مسلم لیگ ن میں آنے کے لئے پرویز رشید نے ایک اچھے بھائی کا کردار ادا کیا ہے۔ اس نے چھوٹی بہنوں کی طرح رابطہ کیا۔ یہ بھی اس نے کہا کہ خود محترمہ بے نظیر بھٹو چل کر نواز شریف کی طرف گئیں اور میثاق جمہوریت پر دستخط کئے۔ اب اس کاغذ کو جلا کے آگ سینکنے والے کون ہیں۔ انہیں بی بی کے بچے بھی نہیں جانتے۔ فواد چودھری صدر زرداری کے ترجمان ہیں اور منظور وٹو ان کے نمائندے ہیں۔ یہ پتہ نہیں چلتا کہ وٹو صاحب کو ن لیگ کے لئے لاہور بھیجا گیا ہے یا ق لیگ کے لئے؟
پچھلے کچھ عرصہ سے عظمیٰ خاموش تھی تو کائرہ صاحب کو خیال نہ آیا کہ وہ جا کے اسے پوچھ لیں۔ ان لوگوں کو زکریا بٹ جیسے جیالوں کی ضرورت ہوتی ہے جو پیپلز پارٹی کے ان لوگوں کے آگے پیچھے ہوتے رہیں جو اسلام آباد سے پنجاب میں پارٹی کے حکمران بنا کے بھیجے جاتے ہیں۔ وہ منظور وٹو کا بھی اسی طرح استقبال کرتے ہیں جیسے ایک زمانے میں ڈاکٹر بابر اعوان کا خیر مقدم کرتے تھے۔ وہ لطیف کھوسہ کے بھی ساتھ تھے اور مخدوم صاحب کا ساتھ دینے کے لئے بھی بے تاب ہیں مگر اب عبدالقادر شاہین رستے میں موجود ہیں اور وہ جانتے ہیں کہ کون کیا ہے۔ یہ لوگ فریال تالپور سے بھی دوستوں کو دور رکھنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ انہیں یہ بھی پتہ نہیں کہ وہ لوگ جو کھانے پر ٹوٹ پڑتے ہیں کتنے دنوں کے بھوکے ہیں۔
ہر گھر سے بھوکا نکلے گا تم کتنے بھوکے مارو گے
یہ حال تو نواز شریف کے جلسے میں بھی ہوتا ہے۔ عمران خان کے انقلابی بھی یہی کچھ کرتے ہیں۔ ملک میں بھوکے ننگوں کی تعداد میں بہت اضافہ ہوا ہے مگر سارے سیاستدان ایک جیسی تقریریں کرتے ہیں۔
اب پارٹیاں بدلنے والوں پر اعتراض کی گنجائش نہیں۔ جب کوئی جاتا ہے تو وہ لوٹا ہے۔ جب کوئی آتا ہے تو وہ بااصول ہے۔ پارٹیوں میں جب دوسری پارٹیوں سے آنے والوں کو قبول کیا جاتا ہے تو ان پارٹی لیڈروں کے لئے کیا خیال ہے۔ یہی تبدیلی ہے جو سیاست میں رائج ہے۔ چنانچہ ابھی اس ملک میں تبدیلی کا کوئی امکان نہیں۔ مجھے عظمیٰ کی باتوں سے اختلاف نہیں مگر اس طرح کی باتیں وہ آدمی بھی کرے گا جو مسلم لیگ سے پیپلز پارٹی میں آئے گا۔ منظور وٹو اور فواد چودھری کون ہیں؟ تو یہ طے ہو گیا ہے کہ اب پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ میں کوئی فرق نہیں ہے۔ منظور وٹو....مسلم لیگ ن کا مقابلہ کرنے لاہور آیا اور لڑائی مسلم لیگ ق سے شروع کر دی۔ ایک مسلم لیگ ہو تو شاید کوئی بات بنے۔ وہ لوگ ہر جگہ موجود ہیں۔ جو نہیں چاہتے کہ مسلم لیگ ایک ہو ان کے لئے مسلم لیگیں ٹھیک ہیں۔ اب پیپلز پارٹیاں بھی بن رہی ہیں۔ سارے کے سارے رائٹ بھی ہیں اور لیفٹ بھی ہیں۔ جب بات رائٹ اور رانگ کی آتی ہے تو وہ کہیں نظر نہیں آتے۔ یہ بات کتنی دردناک ہے کہ مسلم لیگ پیپلز پارٹی میں کوئی فرق نہیں؟