اس حبس کے صحرا کو ہوا کیوں نہیں دیتے....؟

کالم نگار  |  بشری رحمن

اپنا موضوع شروع کرنے سے پیشتر میں جناب مطلوب وڑائچ کے کالم (16 فروری) ”جب بھی کبھی ضمیر کا سودا ہو....“ کی دل کھول کر داد دیتی ہوں۔ اور ان کی جرا¿ت سخن طرازی کو خراج پیش کرتی ہوں۔ یہ آج کا سب سے سنگین موضوع ہے۔ اور اس کے بارے میں کوئی دیانت دار دلیر کالم نگار ہی لکھ سکتا تھا.... میرا خیال ہے۔ جس طرح روزانہ کرپٹ سیاست دانوں کے پرخچے اڑائے جاتے ہیں۔ اسی طرح ہم خیال صحافی اور کالم نگار بھی میدان میں نکل آئیں۔ اور ان سب کو بے نقاب کریں۔ ہر روز الیکٹرانک میڈیا پر کرپٹ سیاست دانوں اور حکمرانوں کے بارے میں باتیں ہوتی ہیں۔ مگر انہی سیاسی لوگوں کے اندر آج بھی بہت دیانتدار، امانت دار سیاسی شخصیات موجود ہیں۔ جن پر ایک پیسے کی کرپشن کا بھی الزام نہیں لگ سکتا۔ مگر آج تک کسی چینل نے ان کا نام تک نہیں لیا۔ بلکہ ایسے لوگوں کو اپنے پروگرام میں بلاتے ہی نہیں۔ ہر سال جب الیکشن کمیشن کو ارکان اپنے اثاثوں کی تفصیل بھیجتے ہیں۔ تو دستور بن چکا ہے جن کے اثاثے بڑھ جاتے ہیں۔ انہیں الیکٹرانک میڈیا پر خوب گھسیٹا جاتا ہے۔ مگر متعدد ایسے منتخب ارکان، خواتین و حضرات بھی ہیں کہ جن کے اثاثے روز اول سے ویسے کے ویسے ہیں۔ کسی چینل نے کبھی ان کا نام تک نہیں لیا۔ نہ ان کے حق میں کلمہ¿ خیر کہا ہے۔ جب جعلی ڈگریوں کا فراڈ سامنے آیا تو منتخب ارکان پر لعنت ملامت کی گئی۔ اب یہ بات کھل رہی ہے کہ ہر شعبہ میں جعلی ڈگریوں والے موجود ہیں۔ بیورو کریسی اور پولیس، قانون، اساتذہ اور اسمبلیوں کے عملے کے اندر بھی کیا صحافیوں میں جعلی ڈگریوں والے نہیں ہیں....حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے فرمایا کہ کوئی اچھا عمل یا برا عمل، خواہ تحت الثریٰ میں ہو، یا زمینوں کے اوپر ایک دن ظاہر ہو کے رہتا ہے....صاف ہی کرنا ہے اس ملک کو، تو سب کو قطار میں لائیے.... صرف سیاسی لوگ ہی کیوں؟ اپنی گل افشانی¿ گفتار کے پتھر، دن رات سیاست دانوں کی طرف پھینکنے والوں سے بھی کہئے کہ وہ بیرون ملک اور اندرون ملک اپنے اثاثے ظاہر فرمائیں۔ اور یہ بھی بتائیں کہ ان کی کمائی کا ذریعہ کیا تھا....؟حدیث ہے کہ اصولاً گنہگار نہ ہوںگنہگار پہ پتھر اچھالنے والےوہ اپنی آنکھ کے شہتیر کی خبر لیں ذراہماری آنکھ کے کانٹے نکالنے والے؟ان لوگوں کی وجہ سے سارے ملک میں ایک شک کی فضا بن گئی ہے۔ حتٰی کہ گرد و غبار بھی شک آلود ہو گیا ہے ساری دنیا جانتی ہے ۔ کون پہلے کیا تھا.... اور اب کیا بن بیٹھا ہے....؟آئین کی شق 62/61 پر آجکل زوروں شوروں سے گفتگو ہو رہی ہے.... قلم کی قسم باری تعالیٰ نے قرآنِ پاک میں کھائی ہے تو کیا اہل قلم کے لئے کوئی شق، کوئی حلف نہیں ہے....؟ ایک بار پھر الیکشن کمشن نے منتخب نمائندوں کو تلقین کی ہے کہ وہ اپنی تعلیمی اسناد کی تصدیق پندرہ دن کے اندر اندر کروا دیں۔ ورنہ انہیں الیکشن لڑنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ یہ تو دوہرا جرم ہو گیا، پہلے جعلی ڈگری بنوائی جائے۔ پھر اس ڈگری کے اوپر کسی قانون ساز ادارے کی نمائندگی کا حلف اٹھایا جائے۔ نہ صرف آئین کے ساتھ دھوکا ہے.... اپنے حلقے کے ساتھ بھی ایک دھوکا ہے.... اور پھر جو شخص جھوٹ بول کر ایوان میں داخل ہوا ہے اس کی کارکردگی سے آپ کس قسم کی توقع رکھ سکتے ہیں۔ اس کے ہر کام کی بنیاد جھوٹ پر ہی ہو گی۔ تو کیا دھوکا دہی، فریب، غبن، رشوت خوری صرف سیاست دانوں کے لئے معیوب ہے۔ قلم والے، علم والے، بولنے والے، تولنے والے، بھید کھولنے والے، یونیفارم والے، کیا سب اس سے مستثنٰی ہیں۔ 62/61 سب پر لاگو کیوں نہیں ہوتا۔ الیکشن کمشن کے ذمے اب اور بہت کام ہو گئے ہیں۔ بلکہ ان کے کام بڑھ گئے ہیں۔ دیکھنا ہے انہوں نے کہ کس کس نے ٹیکس ادا نہیں کیا۔ کوئی بینکوں کا مقروض تو نہیں۔ اور کیا یوٹیلٹی بلز کا باقاعدہ ریکارڈ رکھا گیا ہے یا نہیں۔ سب سے بڑی بدنصیبی یہ ہے کہ جو لوگ ٹی وی پہ بیٹھ کے بڑے بڑے بھاشن دیتے ہیں۔ کیا وہ اپنی آمدنی ظاہر کر کے باقاعدہ ٹیکس دیتے ہیں۔ ایوانوں میں داخلے کے لئے ٹیکس نمبر دکھانا ضروری ہے۔ تو ہر سرکاری اور غیر سرکاری ادارے کے فارم پر بھی ٹیکس نمبر کا اندراج ہونا چاہئے۔ ہمارے ہاں جتنے بجلی چور ہیں۔ اس سے زیادہ ٹیکس چور ہیں۔ اگر یہاں دیانت داری سے ٹیکس ادا کرنے کی رسم ہوتی تو معیشت یوں منہ کے بل نہ گرتی۔ تمام ترقی یافتہ ملکوں کی ترقی کا راز یہی رہا ہے کہ لوگ قانون کی پاسداری کرتے ہیں۔ اور باقاعدہ ٹیکس ادا کرتے ہیں۔ یہاں عجیب رسم دیکھی جو سب سے زیادہ بددیانتی کا مرتکب ہوتا ہے۔ وہ بڑھ چڑھ کر پاکستان کو برا کہتا ہے۔ آج اگر کوئی چاہتا ہے کہ پاکستان کے حالات سنبھل جائیں۔ تو اسے اپنا آپ ٹھیک کرنا چاہئے۔ یہ ہر شخص کی انفرادی ذمہ داری ہے۔ روزانہ کہتے ہیں کہ نچلے طبقے اور متوسط طبقے سے لوگ اسمبلیوں کے اندر لائے جائیں۔ یہ تجربہ بھی کئی لوگوں پر کر دیکھا ہے۔ جو بھوکے پیٹ سے آتا ہے۔ وہ دونوں ہاتھوں سے سمیٹنا شروع کر دیتا ہے کیونکہ اس کا احتیاج تو بھوک سے شروع ہوتا ہے۔ یہ سب کام تربیت نفس سے ہوتے ہیں۔ کہ کیسے ماحول سے آئے ہیں۔ اور کونسی صلاحیتیں لیکر آئے ہیں۔ دنوں میں ہی ان کا دل چاہتا ہے۔ ان کے پاس بڑی بڑی گاڑیاں، گن مین اور کوٹھیاں ہوں۔ توکل، تقویٰ، توقیر اور تدبیر ایسے لوگوں کی حرص اور ہوس لے اڑی ہے۔ کل یہ چیزیں سیاست دانوں کی جانب تھیں۔ آج آپ بعض مذہبی رہنماﺅں کو دیکھ لیں بعض میڈیا والوں کو دیکھ لیں....بدنصیبی وہاں سے شروع ہوئی۔ جب اس ملک کے اندر، احترام بربنائے دولت کا رواج ہو گیا.... خاندانی وجاہت، نجابت، شرافت منہ کے بل جا گری۔ جن کے پاس آسان ذریعوں سے دولت آ جاتی ہے۔ وہ کہیں بھی بیٹھے ہوں۔ آپ ان کو پہچان سکتے ہیں۔ ان کی گردن میں سریا آ جاتا ہے اور لہجے میں فرعونیت سرائیت کر جاتی ہے....کون ہے جو اٹھ کر کہے....تم اپنے آپ کو کیا جانے کیا سمجھتے ہو؟خدا نہیں تو کچھ اس سے سوا سمجھتے ہو؟