ہندو ثقافت پر مبنی ڈراموں پر کوئی اعتراض نہیں‘ لیکن

کالم نگار  |  محمد مصدق
ہندو ثقافت پر مبنی ڈراموں پر کوئی اعتراض نہیں‘ لیکن


ایک زمانہ تھا جب پاکستان کی فلم انڈسٹری نئی ہونے کے باوجود اتنی عمدہ فلمیں بناتی تھی کہ انڈیا کے سینماﺅں میں انڈین فلموں کا بزنس ٹھپ کر دیتی تھیں۔ علاﺅالدین کی شاہکار فلم ”کرتار سنگھ“ اس کی ایک چھوٹی سی مثال ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ پاکستانی فلم انڈسٹری نے نئے آئیڈیاز کی جگہ چربہ فلموں کے مرکزی خیال سے فلمسازی شروع کر دی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ فلم انڈسٹری کا زوال شروع ہو گیا۔ اگرچہ بہترین بزنس کرنے والی فلمیں بھی وجود میں آتی رہیں‘ ”چوڑیاں“ کی کامیابی کوئی دور کی بات نہیں ہے لیکن بدقسمتی سے فلم انڈسٹری بقول علاﺅالدین ”اپنی جہالت پر گھمنڈ کرنے لگی“ جب تک سلطان راہی زندہ رہا‘ فلموں کا بزنس پاکستان کی حد تک بہت شاندار رہا سلطان راہی کی وفات نے پاکستان کی فلم انڈسٹری کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا اور ابھی تک ہماری فلم انڈسٹری اس قابل نہیں ہوئی ہے کہ کم از کم پاکستان کے تیس چالیس سینماﺅں کا پیٹ بھر سکے۔ سینما انڈسٹری سے لاکھوں افراد کا روزگار وابستہ ہے انڈین فلموں کی درآمد نے وقتی طور پر سینماﺅں میں بیروزگاری نہیں پھیلنے دی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ فلم کی دنیا کم از کم ان فلموں سے کچھ تو سیکھے جو صرف دو ہفتوں میں پاکستانی کرنسی میں اڑھائی ارب روپے کا بزنس کر رہی ہیں۔ اب بزنس میں ستر کروڑ روپے غیر ممالک فلموں کی نمائش سے حاصل ہوئے۔ جس کا صاف مطلب ہے کہ اب دنیا میں اردو فلم کی اچھی خاصی مارکیٹ پیدا ہو چکی ہے اور اگر پاکستانی فلمساز تخلیقی فلمسازی کریں تو پاکستان سے زیادہ منافع انہیں دنیا کے دوسرے ممالک میں فلم کی نمائش سے حاصل ہو سکتا ہے۔
 پاکستان میں ٹیلی ویژن کے چینلز بڑھتے جا رہے ہیں۔ ہر کوئی اپنے اپنے پسندیدہ چینل پر اپنا پسندیدہ پروگرام دیکھتا ہے ”وقت ٹی وی“ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مقبولیت حاصل کر رہا ہے۔ ایک زمانے میں پی ٹی وی کا نعرہ تھا کہ یہ فیملی چینل ہے لیکن آج اگر پی ٹی وی خود سروے کرائے کہ پاکستان کا سب سے مقبول فیملی چینل کون سا ہے تو وہ بھی حیران رہ جائے گا کیونکہ زیادہ ووٹ ”وقت ٹی وی“ کو حاصل ہوں گے۔ اس کا بنیادی سبب یہ ہے کہ پی ٹی وی عوام سے بجلی کے بلوں میں ماہانہ پینتیس روپے جمع کر کے سال میں اڑھائی ارب روپے جمع کر کے فضول خرچی اور شاہ خرچی میں اڑا دیتا ہے۔ یہی سبب ہے کہ اب پی ٹی وی کا ڈرامے کا معیار بھی ماضی جیسا نہیں رہا جس کا فائدہ نئے چینلز اٹھا رہے ہیں ۔
اب اتنے سارے چینلز نے ایک دوسرے سے بازی لے جانے کیلئے نئے کام تو کرنے ہیں۔ کچھ عرصہ تک دستور تھا کہ انڈیا کے بور کر دینے والے ڈرامے دکھائے جا رہے تھے۔ تمام ڈراموں میں ہندو ثقافت کی بھرپور عکاسی ہوتی ہے۔ پاکستانی خواتین میں اس کا بہت ”کریز“ تھا لیکن پھر تمام خواتین ایک جیسی ثقافت دیکھ کر پاکستانی ڈراموں کی طرف لوٹ آئیں۔ لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی کے شعبہ صحافت کی سربراہ ڈاکٹر انجم ضیاءکے پی ایچ ڈی کے مقالے کا عنوان یہی تھا اور بہت اچھی ریسرچ کی تھی۔
 حال ہی میں ایک چینل سے ترکی ڈرامہ عشق ممنوع مقبولیت حاصل کر گیا ہے‘ اس ڈرامے کو اردو میں ڈب کیا گیا ہے اور اس کی مقبولیت دیکھ کر دوسرے چینلز بھی اب ترکی ڈرامے اردو میں ڈب کر کے شروع کر رہے ہیں لیکن پرائیویٹ پروڈیوسروں نے اس پر خوب احتجاج کرنا شروع کر دیا ہے کیونکہ ان کا خیال ہے کہ اس طرح ان کے سستے بنائے ہوئے ڈرامے پاکستانی ٹی وی چینلز مہنگے داموں نہیں خریدیں گے۔ ویسے بات ہے تو سچ کیونکہ اکثر پرائیویٹ ڈرامہ پروڈیوسر چند بڑے آرٹسٹوں کو تو وقت پر منہ مانگے معاوضے کی ادائیگی کر دیتے ہیں لیکن چھوٹے فنکاروں سے جو وعدہ کیا جاتا ہے اس سے بہت کم معاوضہ ادا کیا جاتا ہے جس کا پیمرا کو نوٹس لینا چاہئے۔