پت جھڑ کی ایک دکھ بھری شام.... کے نام

کالم نگار  |  بشری رحمن

میں اس شام اسلام آباد میں تھی۔ چند دنوں کا ایک نومولود بھی میری گود میں تھا اور جنگ شروع ہوتے ہی میرے شوہر نے بال بچوں سمیت مجھے اسلام آباد بھیج دیا تھا۔ اس عالم میں ان دنوں اسلام آباد ایک جادو نگری نہیں بنا تھا۔ نیم تعمیر اور نیم تاریک.... جبکہ راتوں کو کرفیو کی وجہ سے اندھیرا چھا جاتا تھا۔ سائرن بجنے لگتے تھے گھروں کی بتیاں بجھ جاتی تھیں۔ لوگوں نے گھروں کے اندر جو خندقیں بنائی تھیں اس میں جا بیٹھتے تھے۔ اندھیرا ہوتے ہی ٹی وی لگا لیتے اور سانسوں کا رشتہ ٹی وی کے خبرنامے کے ساتھ جوڑ لیتے تھے....خبریں بڑی امید افزا آ رہی تھیں ”خبرنامہ“ غلو سے کام لے رہا تھا۔ ویسے بھی پاکستان کے عوام کو 1965ءکی جنگ کے بعد پاک فوج پر ایک اندھا سا اعتماد ہو گیا تھا.... اعتماد سے کچھ زیادہ یعنی ایمان.... اندر کی پالیٹکس سے نہ عوام آشنا تھے نہ خواص.... کامیابی سے گندھی خبریں سننے کے سب متمنی تھے جس رات خبرنامے میں پاکستانی فوج کے ہتھیار ڈالنے کی خبر آگئی۔خبر.... یہ خبر نہیں تھی۔ یہ آگ تھی۔ جس نے تن من کو جلا دیا۔ یہ زہر تھا جو اعتماد کے جسم میں سرایت کر گیا۔ یہ شکست نہیں یہ ذلت تھی۔ ہزیمت تھی۔ اذیت تھی.... کوفت تھی.... بھلا کون اسے برداشت کر سکتا تھا....ہم عورتیں جو گھروں میں بیٹھی پرامید نظروں سے خبریں سن رہی تھیں۔ ہماری چیخیں نکل گئیں۔ ہم ایک دوسرے کے گلے لگ کر رونے لگیں۔ میرے ننھے بچے مجھے روتا دیکھ کر بے چین ہو اٹھے اور پھر وہ بھی مجھے لپٹ لپٹ کے رونے لگے....اف وہ شام.... پت جھڑ کی زرد شام.... زرد اور بے جان پتے ایک دوسرے سے گلے مل کر زمین پر ڈھیر ہوئے جاتے تھے.... ماحول نے سانسیں روک رکھی تھیں۔ بادل زمین والوں کی حالت دیکھ کر اپنی جگہ پر ٹھٹھک گئے تھے۔ سردی کے دل سے دھواں نکلا اور کہر بن کر چاروں طرف پھیل گیا.... یہ قہر ہوا بھی تو کیسے....؟اور تم سمجھ رہے ہو کہ بے غیرت قوم ہےنہیں بے غیرت نہیں۔ بے حس ضرور ہے۔ اس کی غیرت کو جگانے کے لئے ہمیشہ تازیانے کی ضرورت ہوتی ہے قدرت نے لگایا تازیانہ.... اور دشمن نے آزادی میدان میں مقدس لباس پہننے والوں کو ننگا کر دیا بے آبرو کر دیا۔ زمانے میں نشر کر دیا، حشر کر دیا! اف اللہ!!خبر نامے میں شراب سے لدی ہوئی.... بے مقصد، لایعنی آواز ابھری جیسے کوئی شراب میں قلم ڈبو ڈبو کر لکھتا ہے تو لفظ بے حجاب اور بے معنی ہو جاتے ہیں۔ یوں لفظ چھلکے چھلکے تھے.... عذر ہلکے ہلکے تھے۔ سہارے ڈھلکے ڈھلکے تھے۔ فرد واحد کے ماتھے پر لکھی ایک منحوس لکیر نے دوستوں کے درمیان جدائی کی لکیر ڈال دی....؟یہ 16 دسمبر1970ءکی شام تھی۔ بھئی مجھے کیا ہوا تھا۔ میں کیوں بچوں کو سینے سے لگا کر رو رہی تھی کیونکہ میرے بابا کی نگری لٹ گئی تھی۔ اتحاد کی نیا ڈوب گئی تھی۔ یقین محکم کی رسی ٹوٹ گئی تھی۔ تنظیم کی سانسیں ڈوب گئی تھیں۔ تو کیا یہ ستم مجھ اکیلی پر نازل ہوا تھا....؟ اسی رات اسلام آباد اور راولپنڈی کے غیور عوام سڑکوں پر نکل آئے تھے۔ اندھیرے، سردی اور بارش کی پرواہ نہ کرتے ہوئے۔ پہلا ردعمل جو ہوا انہوں نے شراب کی ساری دکانیں توڑ دیں بوتلیں اٹھا اٹھا کر فرش پر دے ماریں۔ نشے کی ہر چیز کو اپنی دانست میں مٹانے کی کوشش کی۔ ہم نے بھی سڑکوں پر نکل کر دیکھا، وہ شام شراب کی بوتلوں سے لہولہان ہوئی پڑی تھی۔ وہی نہیں پورا پاکستان شراب کی بوتلوں سے دو لخت ہو گیا تھا....کون تھا جو نہیں رویا.... بابائے قوم کی سسکیاں میں نے خود سنیں۔ ارے میں تو تحریک پاکستان میں شامل بھی نہیں تھی۔ پھر مجھے آشیانے کے تنکے بکھر جانے نے کیوں ہلا کے رکھ دیا؟ ہجوم کو منتشر کرنے کےلئے حکماً فوج باہر نکل آئی۔ کیا پاک فوج آزردہ نہیں تھی....؟ اور اے شراب کی بوتلیں توڑنے والے پاکستانیو!اور اے بچے کھچے پاکستان کو گلے لگا لگا کر رونے والے پاکستانیو!پھر تم اس سانحہ کو بھول ہی گئے۔ ہر سال16 دسمبر کی پت جھڑ میں ڈوبی شام تمہیں یاد دلانے آتی ہے تم نے تو بوتلیں توڑی تھیں۔ بوتلیں جو فاتر العقل بنا دیتی ہیں۔ تم نے تو قسمیں کھائی تھیں کہ باقی ملک کو بچا کر رکھو گے۔ بنا کر رکھو گے۔ سنبھال کر رکھو گے۔ خوشحال بنا کر رکھو گے۔ اب تمہیں بلوچستان نظر نہیں آ رہا ہے....پختونخواہ نظر آ رہا ہے؟ وانا وزیرستان اور ساری سرحدیں....کیا تم نے بیماری کی شناخت کر لی ہے۔ کیا تم اپنے دشمن کو پہچان گئے ہو....؟ قومیں کیوں ہارتی ہیں جان گئے ہو؟قرض کی مے پینے والے.... تنگدست ہو جاتے ہیں۔ قرض کی روٹی کھانے والے حال مست ہو جاتے ہیں۔ دشمن کو دوست سمجھنے والے زیر دست ہو جاتے ہیں۔ کیسے پروان چڑھا رہے ہو اپنی نسلوں کو....روٹی بھیک کی....نصاب اغیار کا....کلچر بے حیائی کا....دوپٹہ رسوائی کا ....ایجنڈا جگ ہنسائی کا....سب کچھ اپنے گھر میں ہے۔ دشمن بھی اپنے گھر میں ہے۔ تم باہر مانگتے پھرتے ہو۔ باہر ڈھونڈتے پھرتے ہو۔ فیصلے کرنے میں دیر کر رہے ہو.... اپنے رب کو منانا نہیں چاہتے.... پھر بوتلوں کے گھیرے میں، پھنستے جا رہے ہو....تاریخ تمہیں پکار رہی ہے۔ تمہارا جغرافیہ کراہ رہا ہے اور کہہ رہا ہےوقفِ الم نہ تھا کہ میں وقفِ ستم نہ تھا کس دن فراقِ دوست کا مجھ پہ الم نہ تھاباد سموم تھی میرے سینے میں دم نہ تھااک زہر تھا کہ پینا پڑا عمر بھر مجھےلے آیا کس مقام پہ دردِ جگر مجھے!اب تو بھی آ کے دیکھ لے اے چارہ گر مجھے!!