پاکستان سٹیل ملز میں لوہا گرم ہے

کالم نگار  |  ڈاکٹر محمد اجمل نیازی
پاکستان سٹیل ملز میں لوہا گرم ہے


مجھے معلوم نہیں کہ میں یہ کالم پاکستان سٹیل ملز کراچی کے بارے میں لکھ رہا ہوں یا اس کے چیئرمین دلیر دلنواز محنتی مخلص ایمان و یقین کی خوشبو سے بھرے ہوئے جسم و جاں کی ساری صلاحیتیں اپنے وطن پاکستان کے لئے وقف کئے ہوئے سپاہ جنرل جاوید کے لئے لکھ رہا ہوں۔ انہیں دوبارہ پاکستان سٹیل ملز کا چیئرمین بنایا گیا ہے۔ پہلے دور میں انہوں نے پاکستانی سٹیل مل کی راکھ میں اڑتی ہوئی ساکھ کو سنبھالا دیا اور اس خاکستر میں گمشدہ چنگاریوں کو یکجا کیا۔ ایک چراغ بنایا اور اسے سٹیل ملز کے سارے مزدوروں اہلکاروں انجینئروں اور انتظامیہ کے لوگوں کے دلوں میں رکھ دیا۔ اس کی روشنی چاروں طرف پھیلی اور خسارے میں سے نکل کر یہ ادارہ سرخرو ہوا اور یہاں کام کرنے والے سرشار ہوئے۔
جنرل جاوید کو میں کبھی ریٹائرڈ نہیں کہتا۔ اللہ کا سپاہی کبھی ریٹائر نہیں ہوتا۔ وہ میدان جنگ میں نہیں ہوتا مگر میدان میں تو ہوتا ہے۔ وہ اپنے گھر کے صحن کو میدان بنا لیتا ہے۔ اب تو سارا پاکستان میدان جنگ بنا ہوا ہے۔ جنرل جاوید واہ فیکٹری کے سربراہ تھے۔ تو اُسے کام کرنے والوں کے لئے جنت نما بنا دیا تھا۔ مجھے وہاں جانے کا اتفاق ہوا تھا پھر وہاں سے آنے کو جی نہیں چاہتا تھا۔ صاف شفاف ماحول اور اجلے اجلے لوگ۔ ہر چہرے پر محنت اور محبت کا رنگ نظر آیا تھا۔ پھر انہیں پاکستان سٹیل ملز بھیجا گیا تو وہاں بھی انہوں نے جان ودل کی ساری توانائیوں کے ساتھ کام کیا۔ یقین و عمل کی ایسی کیفیت ان کی شخصیت میں ہے جو سب کو اپنا گرویدہ بنا لیتی ہے۔ انتظام چلانے والے لوگ اور کام کرنے والے مزدور مل جل کر اور رل مل کر رہتے ہیں اس طرح کام کرنے کی جگہ پر ایک گھر کا ماحول بن جاتا ہے۔ اس کے بعد گھر میں کام کرنے کی بھی عادت پیدا ہو جاتی ہے۔
انہیں وہاں سے سبکدوش کر دیا گیا۔ تو سب لوگ اداس تھے۔ وہ جس طرح گئے تھے اسی دل سے واپس آ گئے۔ ہر لمحے میں انہیں ایک اچھی زندگی گزارنے کا ہنر آتا ہے۔ سٹیل ملز کا حال پھر خراب ہو گیا اور جنرل صاحب کا دل خراب ہونے لگا۔ یہ بھی کوئی راز ہے کہ حکمرانوں کو پھر جنرل جاوید کی یاد آئی اور انہیں پیشکش ہوئی کہ وہ دوبارہ سٹیل ملز جائیں اور اُسے ٹھیک کریں مگر اب یہ معرکہ کوئی آسان نہ تھی۔ جنرل صاحب کچھ ہچکچائے مگر ان کے دل میں اس ملک کی عزت کا بہت خیال ہے۔ پہلے یہ شوق فراواں تھا۔اب بھی ذوق و شوق کا چراغ ٹمٹماتے ہوئے جل رہا ہے۔ کبھی کبھی اس کی لَو کانپتی ہے مگر اندر کے کسی جذبے نے اُسے بجھنے نہیں دیا۔ جنرل صاحب کے ایک بابا جی ہیں۔ بابا عرفان الحق۔ وہ جہلم میں ہوتے ہیں۔ عرفان و حکمت محبت اور خدمت کی روشنی سے نکھرتے ہوئے بابا جی امید اور حوصلے کا پہاڑ ہیں وہ مایوسی پھیلانے والوں کو پسند نہیں کرتے۔ ان کے نزدیک مایوس شیطینیت ہے۔ میرا یہ جملہ انہیں اچھا لگا۔ سچے لوگ مایوس نہیں ہوتے مغموم ہوتے ہیں۔ جنرل صاحب نے ان کے سامنے اپنا یہ مسئلہ رکھا تو انہوں نے فرمایا کہ چلے جاﺅ۔ اللہ تمہاری مدد کرے گا اور وہ چلے گئے۔ اب پھر پاکستان سٹیل ملز کی طرف سے اچھی خبریں آنے لگی ہیں۔ پچھلی بار بھی کچھ رکاوٹیں آئی تھیں۔ لوگ خواہ مخواہ کوئی پروپیگنڈا کرنے لگے تھے۔ وہ لاہور میں مجید نظامی سے ملے اور ان کی ساری مشکلیں دور ہو گئیں۔
دوبارہ کسی ادارے کی سربراہی اس شخص کی کریڈیبلٹی کی بہت بڑی گواہی ہے۔ جنرل جاوید امید اور آواز کو اپنا رہنما بناتے ہیں اور کام کرتے ہیں۔ کام کام اور کام یہ بابائے قوم قائداعظم کا فرمان ہے اور وہ کراچی میں آسودہ¿ خاک ہیں۔ اس طرف سے بھی ہوائیں ان کے لئے پیغام لاتی ہیں۔ جنرل صاحب سوچتے ہیں کہ یہ مل پاکستان کی معیشت کے لئے بہت ضروری ہے۔ اس مل کے ساتھ بہت لوگوں کی زندگیاں وابستہ ہیں۔ یہاں کام کرنے والے کے گھرانوں کی بقا کا دارومدار بھی اس پر ہے۔ سٹیل ملز چلتی رہے اور منافع میں رہے۔ حکومت نے بھی بہت مدد کی ہے اور کچھ فنڈز فراہم کئے ہیں۔ فی الحال جنرل صاحب کے نزدیک یہ بات اہم ترین ہے کہ اس قومی اثاثے کو بچایا جائے۔ قومی اثاثے ہی قومی ادارے ہوتے ہیں۔ اسے بیچا نہ جائے۔ پرائیویٹ سیکٹر والے اسے اپنے مفاد اور مقاصد کے ساتھ باقی رکھیں گے۔ اگر گھوڑا بیمار ہے۔ تو اس سے جان نہیں چھڑائی جاتی۔ بیچنا بھی ہے تو پہلے اُسے ٹھیک کیا جانا ہے۔ سستے داموں پر کسی بڑے ادارے کو بیچنا کسی طور پر بھی مناسب نہیں۔ ہمیں اللہ سے پوری امید ہے کہ ہم پاکستان سٹیل ملز کو اس مقام پر لے آئیں گے کہ جب یہ بنائی گئی اور اس کے ساتھ بڑی امیدیں اور ارادے وابستہ کئے گئے تھے۔ یہ روس کی طرف سے ایک دوستدار تحفہ ہے۔ آجکل روس کے ساتھ نئے روابط کے معاملہ ہمارے سامنے ہے تو اس حوالے سے پاکستان سٹیل مل کی اہمیت اور بھی زیادہ ہو جاتی ہے۔
اس کے بعد جنرل جاوید نے جو بات کی وہ ان کے وژن مشن یقین ایمان عزم صمیم کی عکاس ہے۔ اس میں قائداعظم کا یہ فرمان جھلکتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ یقیں محکم عمل پیہم محبت فاتح عالم۔ جنرل صاحب نے کہا ”قیادت۔ ماحول۔ وسائل“ یہ تینوں چیزیں کسی منصوبے ارادے اور معرکے میں یکجا ہوں تو کوئی بھی اسے یکتا ہونے سے نہیں روک سکتا۔ ادارے صرف اس جہد مسلسل اور مستقل اخلاص اور بھرپور امید کے ساتھ بہتری کی طرف جاتے ہیں۔ سٹیل ملز ہمارے لئے ایک چھوٹا سا پاکستان ہے۔ ہم نے پاکستان کو ایک شاندار مملکت بنانا ہے اور یہ ہمارا ایمان ہے کہ ایک دن یہ واقعہ ہو گا اور ہم سب سرخرو بھی ہوں اور سرشار بھی ہوں گے۔
جنرل جاوید نے بتایا کہ نومبر 2012 میں ہم نے پروڈکشن بہتر کرنا تھی۔ وہ ہم نے بہت حد تک کر لی ہے۔ جنوری تک اور بھی اچھائیاں ہونے کی امید ہے۔ قومی سطح پر یہ فیصلہ کرنے کی ضرورت ہے کہ ہم نے کرنا کیا ہے۔ جنرل صاحب میرے ساتھ اپنے دل کی باتیں شیئر کرتے ہیں۔ ہمارے درمیان حضرت محمد الرسول اللہ کی محبت کی ایک سانجھ ہے۔ جو کامیابی اُن کے نصیب میں تھی اور ہے۔ اس کی کوئی مثال ہی نہیں۔ ہم اس مثال سے کوئی نہ کوئی مشعل تو جلا سکتے ہیں اداروں کی بہتری کے لئے کسی قومی پالیسی کی ضرورت ہے۔ پھر یہ ملک اور جو کچھ یہاں ہے وہ نہ صرف سنبھل سکتا ہے بلکہ بدل بھی سکتا ہے۔ پاکستان سٹیل ملز کے حالات تقریباً ٹھیک ہیں اور ٹھیک ہو رہے ہیں۔ جنرل جاوید کو اندرونی سپورٹ تو حاصل ہے سٹیل ملز کے اندر لوگ ان کے ساتھ ہیں۔ سارے ان کے ساتھ چل پڑے ہیں سب کی منزل ایک ہے۔ باہر سے بھی ایک سپورٹ چاہئے۔ اوپر سے سپورٹ تو آ رہی ہے۔ مسلسل آتی رہتی ہے۔ یہ خدا کی مدد ہے۔ جو غیب کی دنیاﺅں سے آتی ہے۔ آتی رہتی ہے۔ یہ وصول کرنے والے کی ہمت ہے اور قسمت ہے کہ وہ وصول کرنا جانتا ہو۔