صدر زرداری کے دانت

کالم نگار  |  اثر چوہان

خبر ہے کہ ” صدر آصف علی زرداری نے ، دو روز قبل کراچی کے نجی ہسپتال میں، ایک گھنٹے تک ،اپنے دانتوں کا چیک اپ کرایا“۔ خبر میں بتایا گیا ہے کہ ۔” صدر صاحب نے ایک ماہ پہلے بھی اپنے دانتوں کا معائنہ کرایا تھا “۔ ایک نیوز چینل پر، اِس خبر کے ساتھ ، صدر صاحب کی مُسکراہٹ بھری تصویر بھی دکھائی گئی جِس میں صدر صاحب کے، چمکتے دمکتے دانت بھی دکھائے گئے ۔ کیا ہی اچھا ہو کہ ٹوتھ پیسٹ فروخت کرنے والی کوئی کمپنی ،صدرصاحب کی اجازت سے ، اپنے ٹوتھ پیسٹ کی پبلسٹی کے لئے استعمال کر لے ۔ اِس صورت میں صدر صاحب کو کروڑوں روپے کی رائیلٹی مِل سکتی ہے، جو وہ انتخابی مُہم چلانے کے لئے پارٹی کے لئے ، پارٹی فنڈ میں دے سکتے ہیں۔ مجھے، لاہور سے بابا غلام عباس چیمہ آف داتا دربار ،کا ٹیلی فون آیا ۔ انہوں نے خبردار کیا کہ صدر زرداری ، مخالفین کے خلاف تُند وتیز تقریریں کرنے کے لئے اپنے دانت تیز کروا رہے ہیں “ ۔ بابا چیمہ نے مجھے صدر زرداری کی حمایت میں کسی پرانے شاعر کا یہ شعر بھی سُنایا ۔۔” کھٹّے کئے ہیں ، دانت رقِیبوں کے ، لاکھ بار حاضر جواب ہُوں ، میں کبھی ، چُوکتا نہیں “فارسی زبان میں ، اِس صورتِ حال کو ۔ ” تیز کردن دندان بر چِیزے “۔ کہتے ہیں۔ ایک ضرب اُلمثل ہے کہ ۔” دانت تھے تو چنے نہ تھے اور چنے ہُوئے تو دانت نہ تھے “۔ یہ ضرب اُلمثل اُن بوڑھے لوگوں کے بارے میں ہے جو ،جوانی میں مضبوط دانتوں کے ہوتے ہوئے بھی چنے خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے تھے ، لیکن جب بڑھاپے میں وہ چنے خریدنے کے قابل ہوئے ، تو اُن کے سارے دانت جھڑ چکے تھے ۔ ہر بوڑھا اتنا امیر بھی نہیں ہو تاکہ وہ، مصنوعی دانت لگوا کر ، چنے چبانے کا شوق پورا کر لے ۔ مولانا احتشام اُلحق تھانوی ( مرحوم) پاکستان کے غریبوں کی حالتِ زار بیان کرتے ہوئے ، اپنے جلسوں میں یہ شعر پڑھا کرتے تھے ۔۔۔۔” سنبھالا ہوش ، تو مرنے لگے ، حسِینوں پر ہمیں تو ، موت ہی آئی ، شباب کے بدلے “ہمارے غریب طبقے کی گاڑی ، جنہیں بار بار ” انقلاب“ کا خواب دِکھا کر، بہلایا جاتا ہے ، شباب کے سٹیشن پر رُکتی ہی نہیں ۔پتہ اُس وقت چلتا ہے ، جئب گاڑی سکریپ بن کر ، موت کے” بلال گنج “کی نذر ہو جاتی ہے ۔بیس برس کی عُمر سے چالیس برس کی عُمر تک کے زمانے کو شباب کہا جاتا ہے ،لیکن کیفیت کُچھ یوں ہو جاتی ہے ۔۔۔” جھُریاں تو ، سارے بدن پر ، پڑ گئیں  دانت کیا ، داڑھیں بھی ساری ، جھڑ گئیں “ نچلے طبقے کے لوگوں کے، دانت ہوتے ہیں اور داڑھیں بھی ، لیکن اُن دانتوں میں کوئی ،عقل داڑھ نہیں ہوتی ۔ گذشتہ دِنوں وزیرِاعظم راجا پرویز اشرف نے فیصل آباد میں ، جلسہءعام سے خطاب کرتے ہوئے پنجابی زبان کی ایک ضرب اُلمثل سنائی تھی کہ ۔” جِیدے گھردانے ، اوہدے کملے وی سیانے“۔ یعنی خوشحال اور متّمول گھرانوں کے بےوقوف افراد بھی عقل مند ہوتے ہیں ۔ بجا فرمایا ۔ راجا صاحب کے، دونوں بھائیوں راجا جاوید اشرف اور راجا عمران اشرف بھی آئندہ انتخابات میں، قومی اور صوبائی اسمبلی کے امیدوار بن گئے ہیں۔ وزیر اعظم کے اپنے داماد راجا عظیم اُلحق بھی بہت عظیم ثابت ہوئے کہ سُسر صاحب نے ”میرٹ“۔ پر انہیں ورلڈ بنک کا ، ایگزیکٹو ڈائریکٹر نامزد کر دیا ہے ۔ اِس پوسٹ کے ،موتی چُننے کے کئی دوسرے ہنس بھی امیدوار تھے ۔ اُستادسحر کہتے ہیں ۔۔۔۔” دوڑتے ہیں ہنس ، مو تی چُننے کو آواز پر  اُلفتِ دنداں میں ، جب روتا ہُوں ، دھاڑیں مار کر “اب محروم طبقے کے لوگ اگر، راجا صاحب کے بھائیوں اور داماد سے حسد کریں ، غُصّہ کریں یا دانت پیسنے کی کوشش کریں تو، اُن کی مرضی ، حضرتِ آتش نے دانت پیسنے والے کو اپنا محبوب قراردیتے ہوئے کہا تھا ۔۔۔” جب دیکھتا ہے یار ، تو ہے ، دانت پیستا ڈوبوں گا مَیں ، ڈبوئے گا ، آبِ گُہر مجھے “صدر زرداری عام طور پر ، مُسکراتے دکھائی دیتے ہیں ۔ اسی مُسکراہٹ کے جال میں ، پہلے مُسلم لیگ ن اور پھر ایم کیو ایم ، عوامی نیشنل پارٹی اور پھر مُسلم لیگ ق ، بخوشی آئی ۔ مُسکراہٹ میں دانتوں کی نمائش بھی ہو جاتی ہے ۔ ائر ہوسٹس کی مُسکراہٹ بھی مشہور ہے ، جِسے دیکھ کر کئی مسافروں کو خوش فہمی ہو جاتی ہے ۔ ساحر لدھیانوی کو اپنی محبوبہ کی مُسکراہٹ پر شُبہ ہو گیا تھا ، جب انہوں نے کہا تھا ۔۔۔۔” مَیں جِسے پیار کا انداز ، سمجھ بیٹھا ہوں  یہ تبسّم ، یہ تکلّم ، تیری عادت ہی نہ ہو “ صدر زرداری ، اپنی دلکش مُسکراہٹ اور چمکتے دمکتے دانتوں کے حوالے سے ، واقعی جادو گر ہیں ۔ بقول عبداُلحمید عدم ( مرحوم ) ۔۔۔” وہ پرندے ، جو آنکھ رکھتے ہیں  سب سے پہلے ، اسِیر ہوتے ہیں “زرداری صاحب جادُو بیان ہیں ۔ اُن کا جادُو سر چڑھ کو بولتا ہے ۔ یہاں تک کہ دوست اور مخالف سب ، اپنے اپنے دانت تلے انگلی دبانے پر مجبور ہو جاتے ہیں ۔ صِرف ایک باراُن کی جادُو گری کام نہیں آئی تھی،جب انہوں نے کہا تھا کہ۔ ” مَیں نے اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کو بحال کرنے کا جو وعدہ کِیا تھا ، وہ کوئی حدیث نہیں تھی ،بلکہ ایک سیاسی بیان تھا “۔ وزیرِاعظم راجا پرویز اشرف نے بھی پرسوں گوجر خان میں کہا ۔” ہم سیاستدان ہیں ۔ ہمیں کسی سے سیاست کا سبق لینے کی ضرورت نہیں “۔ درست فرمایا راجا صاحب نے ۔۔۔” سیاست کو رکھو ، ہمیشہ عزیز سیاست سے بڑھ کر ، نہیں کوئی چیز “صدر زرداری کے زیرِ سایہ ساڑھے چار سال، یوسف رضا گیلانی نے ، دانتوں سے زمین پکڑ کر یعنی بڑی مضبوطی سے حکومت کی اور اب راجا جی اپنا کردار نباہ رہے ہیں ۔جب کوئی وعدوں کا تذکرہ کرتا ہے تو راجا جی، دانت نکال دیتے ہیں ۔ لوگ ناسخ سیفی کو یاد کر کے کہتے ہیں ۔۔۔” تارے نہیں ، نکال دئیے ، دانت چرخ نے دہشت ہے ، اِس قدر ، مری شبہائے تار کی “بہر حال مجھے جنابِ زرداری کے دانتوں کے بارے میں بہت تشویش ہے ۔ یہ الگ بات کہ مَیںاور میرے طبقے کے لوگ ۔” اِس طرح سے ، رہ رہے ہیں ” صاحبوں“ کے درمیاںجِس طرح ، بتّیس دانتوں میں ، اکیلی ہے زباں “