امریکہ میں پاکستانیوں سے کوئی امتیازی سکول نہیں ہو رہا: احتشام ارشد نظامی

صحافی  |  سیف اللہ سپرا
امریکہ میں پاکستانیوں سے کوئی امتیازی سکول نہیں ہو رہا: احتشام ارشد نظامی

لاہور (سیف اللہ سپرا) پاکستان میں عام طور پر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ امریکہ میں پاکستانیوں اور مسلمانوں پر بہت مظالم ہو رہے ہیں حالانکہ وہاں پر ایسی صورتحال بالکل نہیں، اگر 9/11 جیسا واقعہ پاکستان کے کسی علاقے میں ہوتا اور اس میں یہ تعین ہو جاتا کہ اس واقعہ میں کوئی گورا ملوث ہے تو جس طرح کا ہمارا مزاج ہے اس سے اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اس ملک میں غیر پاکستانیوں کے ساتھ کیا سلوک ہوتا۔ ان خیالات کا اظہار امریکہ میں مقیم پاکستانی صحافی اور ڈائریکٹر فوکس نیٹ ورک یو ایس اے احتشام ارشد نظامی نے نوائے وقت کے مقبول سلسلہ گیسٹ ان ٹاﺅن میں گفتگو کے دوران کیا۔ انہوں نے ایڈیٹر انچیف نوائے وقت جناب مجید نظامی سے ملاقات تبھی کی۔ احتشام ارشد نظامی نے مزید کہا کہ امریکہ میں مقیم پاکستانیوں کے وہی مسائل ہیں جو وہاں کے مقامی لوگوں کے ہیں۔ وہاں پر پاکستانیوں کے ساتھ کس قسم کا کوئی امتیازی سلوک نہیں ہو رہا۔ تاہم وہاں پر پاکستانیوں کے لئے صرف ایک مسئلہ ہے کہ جب الیکشن آتا ہے تو پاکستانیوں کے لئے یہ فیصلہ کرنا مشکل ہوتا ہے کہ وہ کس کو ووٹ دیں کیونکہ امیدوار چاہے ری پبلکن کا ہو یا ڈیموکریٹ کا اس کی پالیسی پاکستان یا مسلمانوں کے بارے میں ایک ہی ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 9/11 کے بعد امریکہ میں مقیم پاکستانیوں اور مقامی امریکیوں کے درمیان جو خلیج پیدا ہوئی اس کو دورکرے کے لئے میں نے فوکس نیٹ ورک کے نام سے ایک ادارہ بنایا۔ میں بنگلہ دیش میں محصور پاکستانیوں کے لئے بھی کام کر رہا ہوں اور اس سلسلے میں 28 دسمبر کو ایک ہفتے کے لئے بنگلہ دیش جا رہا ہوں۔ اس سے قبل 2009ءمیں میں بنگلہ دیش گیا تو وہاں پر محصورین پاکستانیوں کی حالت دیکھ کر دل کو بہت تکلیف ہوئی۔ پاکستان میں جناب مجید نظامی واحد شخصیت ہیں جو پاکستانیت کی بنیاد پہ نہ صرف ان سے محبت کرتے ہیں بلکہ ان کی مالی مددد بھی کر رہے ہیں۔میں جب بھی محصورین کے کیمپوں میں گیا تو وہاں کے لوگ جناب مجید نظامی کے بارے میںضرور پوچھتے ہیں اور ان کی خدمات کی تعریف کرتے ہیں۔ امریکہ میں رہنے والے پاکستانی بھی محصورین بنگلہ دیش اور نظریہ پاکستان کے حوالے سے جناب مجید نظامی کی خدمات کی تعریف کرتے ہیں۔