سلام! حسینؓ!!

صحافی  |  ریاض الرحمن ساغر

شبیر! تیرے صبر، تیری پیاس کو سلام!
دُکھ کے سفر میں رب سے تیری آس کو سلام!
پہنچا نہ ترے بعد کوئی اس مقام پر
اسلام کیوں نہ فخر کرے تیرے نام پر
نانا کے دیں کو زندہ و تابندہ کر دیا
ہر نسل کو یزید کی شرمندہ کر دیا
سیکھا تھا جس وقار سے جینا، جیا، حسینؓ!
کتنا درست فیصلہ تو نے کیا، حسینؓ!
بیعت نہ کی یزید کی اور کی نثار جان
سر کو کٹا کے جامِ شہادت پیا، حسینؓ
ارفع و اعلیٰ، فکر کو، احساس کو سلام
دُکھ کے سفر میں رب سے تیری آس کو سلام
راہِ وفا میں تیرے لہو سے جلے چراغ
مہکے ہیں نقشِ پا سے ترے رنگ و بو کے باغ
پھر آج ہے یزیدوں سے ملت کو واسطہ
یہ قوم پھر حسینؓ کا تکتی ہے راستہ
کرتے ہیں اور کرتے رہیں گے تجھے سلام
اعلیٰ ہے اور اعلیٰ رہے گا تِرا مقام
جھوٹوں کو تُو نے یوں دیا سچائی کا پیام
سارے جہان نے کہا، سچوں کا تُو امام!
شبیر! تیرے صبر تیری پیاس کو سلام
دُکھ کے سفر میں رب سے تری آس کو سلام