حسینؓ کا نیا زمانہ!

کالم نگار  |  ڈاکٹر محمد اجمل نیازی

مواحد حسین نے ایک انوکھی بات کہی کہ حسینی جذبے کا ایک نیا زمانہ شروع ہو چکا ہے۔ مولانا محمد علی جوہر کے اس زندہ شعر کے پورے معانی اب ظاہر ہونے والے ہیں....
قتل حسین اصل میں مرگ یزید ہے
اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد
”حسین“ دنیا کے سب سے طاقتور ملک امریکہ کے صدر کے نام کا حصہ ہے۔ صدارتی حلف برداری کی تقریب میں جب اس کے نام کو اوباما حسین کے بغیر لیا گیا تو خود صدر اوباما نے اصرار کے ساتھ کہا کہ میرا نام بارک حسین اوباما ہے۔ اس نے حسین کا لفظ اپنے نام کے ساتھ بڑی بے قراری کے ساتھ رکھا ہوا ہے بارک حسین اوباما۔ لوگ یہ بحث کرتے رہیں کہ وہ مسلمان ہے نہیں ہے۔ ایک بات طے ہے کہ اس کے اندر کوئی تڑپ ہے جو اسے بے قرار رکھتی ہے پھر وہ اپنے آپ میں سرشار بھی ہوتا ہے کہ اس کی باتوں میں ایسی کیفیت ہوتی ہے جس سے سننے والوں کو کیف محسوس ہوتا ہے اس کیف و سرور کا نور اس کے چہرے پر نظر آتا ہے۔ کالے رنگ کی اپنی جاذبیت ہے جو آسانی سے کسی کو نظر نہیں آتی آسانی سے محسوس بھی نہیں ہوتی۔ کالے رنگ کی رنگا رنگی دیکھنا ہو تو صاحب اسرار بابا یحییٰ خان کی بھید بھری باتوں اور یادوں پر مشتمل کتاب ”پیا رنگ کالا“ کا مطالعہ بڑا ضروری ہے ورنہ ان کی صحبت میں چند لمحے گزار لیجئے وہ ہجوم کے درمیان بھی اپنی صحبت میں رہتے ہیں۔ تنہائی اور تشنگی ان کی دو سہلیاں ہیں تنہائی غار حرا کی اور تشنگی کربلا کی۔ آخر کیا ہے کہ اس کی دادی حج کرنے گئی تو خانہ کعبہ میں عجیب دعا کی۔ ایک دعا جو پوری دنیا میں مشہور ہوئی۔ اے خدا میرے بیٹے اوباما کو مسلمان بنا دے! اس کی دعا کی قبولیت پر کسی کو شک نہیں ہوا کیا ہوا وہ مسلمان نہیں ہے مگر وہ حسینی تو ہے۔ دنیا کو یزیدیت سے آزاد کرانے کی لگن وہ اپنے دل میں رکھتا ہے وہ اس لگن میں مگن ہے لوگ مجبوریوں اور غلامیوں کو بہت بڑا عذاب سمجھتے ہیں۔ عذاب تو اصل میں جبر ہے اور آقائی ہے۔ مجھے ایک اور بہت مشہور شعر یاد آ رہا ہے کوئی بارک حسین اوباما کو یہ شعر سنا دے....
انسان کو بیدار تو ہونے دو
ہر قوم پکارے گی حسینؓ
حسینی جذبے کی ضرورت ساری انسانیت کو ہے لوگ سیرت رسول کریم کا مطالعہ کر لیں اور پھر کربلا میں حسینؓ کی قربانی کی کہانی پڑھ لیں تو وہ اندر سے بیدار ہو جائیں گے وہ ایسا کردار ادا کرنے کے قابل ہو جائیں گے جو پوری دنیا کو ایک بار پھر حیران کر دے گا۔ مجھے یقین ہے کہ صدر اوباما، حسینؓ کے کردار سے واقف ہو گا تو پھر یزید کے عزائم کو بھی مٹانا ہو گا اسے کسی خاص مقصد کے لئے یہ ذمہ داری دی گئی ہے اور مجھے لگتا ہے کہ وہ اپنی ذمہ داری کو پہچانتا ہے۔ دنیا کے یزیدوں کے سامنے اس کا انجام بظاہر حسینؓ والا ہو تو پھر بھی یہ بہت بڑی کامیابی ہو گی سازشیں تو اس کے خلاف ہو رہی ہیں۔ حسینیت کا نیا زمانہ آنے والا ہے۔ میدان کربلا سے بہت قریب بغداد شہر میں عراقی صحافی نے وقت کے عالمی یزید صدر بش پر جوتا پھینکا تھا تو اس کے پیچھے کیا جذبہ تھا۔ پوری دنیا میں خوشی کی لہر دوڑ گئی تھی۔ خود امریکہ میں لوگوں نے جشن منایا تھا اور بہت دنوں تک اس حیران کن واقعے کی یاد سے پورا ماحول آباد رہا۔ لوگوں نے اس واقعے کی وڈیو چلائی اور وڈیو گیم بھی کھیلی۔ بظاہر ابھی تک کوئی بات صدر اوباما کی پالیسیوں میں دکھائی نہیں دیتی مگر وہ کچھ کرے گا ضرور۔ اس کے اگلے چار سال کے لئے بھی لوگ باتیں بنا رہے ہیں مگر اگلے چار سال صدر اوباما کو مل جائیں گے یہ زمانہ اس کا زمانہ ہو گا۔ جب وہ اپنے نام کے پورے معانی دنیا والوں پر آشکار کر دے گا۔ امریکہ کے ختم ہونے کی باتوں میں لوگ روس کے زوال کی بات کرتے ہیں ۔ امریکہ اس طرح ختم نہیں ہو گا وہ ایک نئے امریکہ میں بدل جائے گا اور یہ وہ تبدیلی ہے جو صدر اوباما لے کے آئے گا۔ امریکہ میں نوائے وقت کی شاندار کالم نگار ہماری نمائندگی میں اپنی آرزوئیں شامل کرنے والی طیبہ ضیا، اسلام کی تہذیبی اور تخلیقی کیفیتوں کو دل میں لئے، لکھتی رہتی ہیں گہری اور جینوئن مسلمانیت سے آراستہ یہ خاتون جدید تقاضوں کو نہ تو مذہبی انتہا پسندوں اور نہ ہی لبرل انتہا پسندوں کی طرح دیکھتی ہے وہ صدر اوباما کو پسند کرتی ہے اور سمجھتی ہے کہ یہ شخص امریکیوں اور مسلمانوں دونوں کے لئے ایک نعمت ثابت ہو گا۔ تنگ نظری کی طرح کشادہ دلی بھی ایک کمپلیکس بن جاتی ہے، توازن بڑا ضروری ہے جنگ میں اور محبت میں سب جائز ہوتا ہے۔
مواحد حسین سے ملاقات ساتویں محرم کو ہوئی۔ مشاہد حسین بھی تھوڑی دیر کے لئے آ گیا۔ ان کی عظیم ماں پچھلے دنوں فوت ہوئیں انہوں نے اس گھر کو اعلیٰ روایات اور اقدار کا گہوارہ بنا دیا ہے۔ مشاہد حسین تھوڑی دیر کے بعد اپنے بوڑھے باپ کرنل امجد حسین کے پاس چلا گیا۔ وہ تحریک پاکستان کے ناقابل فراموش لوگوں میں سے ہیں۔ وہ حمید نظامی کے سب سے گہرے دوستوں میں سے ہیں۔ ان رفاقتوں سے بھری ہوئی ان کی باتیں کئی بار ایوان کارکنان پاکستان میں سن چکے ہیں۔ نظریہ پاکستان ٹرسٹ ان یادوں کی آماجگاہ بنتا جا رہا ہے جو ہمیں بھولتی جا رہی تھیں۔ میں نے مواحد حسین کے پاس بیٹھے ہوئے دیکھا کہ سامنے ان کی والدہ کی تصویر لگی ہوئی ہے۔ میری کئی تحریروں کے لئے ماں جی کی شفقت بھری داد و تحسین مواحد حسین نے مجھ تک پہنچائی تھی۔ میں نے کربلا میں حسینی جذبے کو حضرت زینبؓ کی جراتوں اور پاکیزگیوں کے پس منظر میں بیان کرنے کی کوشش کی تھی۔ میں نے لکھا تھا کہ اگر زینبؓ نہ ہوتی تو حسینی جذبے کی تلاش میں ہمیں دشواری ہوتی۔ اب یہ جذبہ ہمیں تلاش کرتا پھر رہا ہے۔ ہم کہاں بھٹک رہے ہیں ہمیں خبر بھی نہیں اور ہمیں کربلا آواز دیتی ہے۔ یزیدوں نے ساری دنیا میں ہمارے لئے کربلائیں کھڑی کر دی ہیں۔ دنیا بھر کی عورتوں اور مسلمان عورتوں کو حضرت زینبؓ کو اپنا آئیڈیل بنانا چاہئے۔ مواحد حسین نے شاہ فیصل کو یاد کیا اور بھٹو صاحب کو بھی یاد کیا سوئیکارنو کی تصویر اپنے والد محترم کے ساتھ ان کی بیٹھک میں لگی ہوئی ہے ان سب سے زیادہ مواحد نے الجزائر کے 90 سال کے بوڑھے بن بااللہ کو یاد کیا جس سے سب کچھ چھین لیا گیا ہے مگر وہ خزانہ آج بھی اس کی بجھتی ہوئی آنکھوں میں چراغ کی طرح جل رہا ہے۔ ایسے ہی کسی چراغ کی روشنی میں وہ گمشدہ حقیقت ملے گی جو ہم اندھیروں میں مزید گم کرتے چلے جا رہے ہیں یہ سب لوگ قربانی کی کسی نہ کسی کہانی کے کردار ہیں ان سب کی زندگی یزیدیت کے خلاف لڑتے ہوئے گم کر دی گئی۔ علامہ اقبالؒ اپنے اس مصرعے میں کوئی اور بات کرنا چاہتا ہے....
قافلہ حجاز میں ایک حسینؓ بھی نہیں
شاید اب ”قافلہ حجاز میں حسینؓ تلاش کرنا پڑے گا۔ ابھی ہمیں سمجھ میں نہیں آ سکتا کہ صدر اوباما نے اپنے پورے نام پر کیوں زور دیا تھا۔ بارک حسین اوباما....!