آزادی ٹرین۔۔۔۔۔ قوم سازی کا شاندار ذریعہ

کالم نگار  |  نعیم احمد
آزادی ٹرین۔۔۔۔۔ قوم سازی کا شاندار ذریعہ

برصغیر کے مسلمانوں کی طرف سے حصولِ پاکستان کی جدوجہد تاریخ اسلام میں ایک نمایاں مقام کی حامل ہے۔ دین اسلام کے نام پر قائم ہونے والی اس مملکت کی بنیادیں ان لاکھوں مسلمانوں کے پاک خون سے سیراب ہوئی ہیں جنہوں نے ایک آزاد وطن کی خاطر اپنی جانیں قربان کردی تھیں۔ زندہ اور غیور اقوام کی طرح پاکستانی قوم بھی اپنے بزرگوں کی جدوجہد پر فخر کرتی ہے اور ماہ اگست میں جشن آزادی کی تقریبات کا خصوصی اہتمام کرتی ہے۔ ان تقریبات میں عوام الناس کا جوش و خروش دیدنی ہوتا ہے۔ گزشتہ چند برسوں سے وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق کی قیادت میں پاکستان ریلوے بھی یومِ آزادی کو پُرتپاک انداز میں منانے میں پیش پیش ہے۔ اس مقصد کی خاطر وہ خصوصی ریل گاڑی بعنوان ’’آزادی ٹرین‘‘ چلاتی ہے جو وطن عزیز کے مختلف شہروں کے ریلوے سٹیشنوں پر معینہ وقت کے لئے رکتی ہے اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد اس کا دورہ کرتے ہیں۔ اس بار 15تا 17اگست یہ ٹرین لاہور ریلوے سٹیشن پر موجود ہے جسے دیکھنے کی خاطر عوام کا جم غفیر امڈا چلا آرہا ہے۔ یہ ٹرین حصولِ آزادی کی جدوجہد کے سنگ ہائے میل کی عکاسی کرتی تاریخی تصاویر سے مزین ہے۔ آزادی کے 70سالوں میں پاکستان نے تعمیر و ترقی کا جو سفر طے کیا ہے‘ اس کی تصاویر اور ماڈلز کے ذریعے عکاسی کی گئی ہے۔ پاک فوج کے محکمۂ تعلقات عامہ (ISPR) کی طرف سے مادرِ وطن کے دفاع کی خاطر جام شہادت نوش کرنے والے افواجِ پاکستان کے بہادر افسروں اور سپاہیوں کی تصاویر بھی آویزاں کی گئی ہیںاور پاکستان میں تیار کردہ جدید ہتھیاروں کے ماڈلز بھی رکھے گئے ہیں۔ کشمیر کے لئے ایک خصوصی کمپارٹمنٹ مختص کیا گیا ہے جس میں مقبوضہ کشمیر کے مظلوم مسلمانوں کی بھارت کے جبرو استبداد کے خلاف جدوجہد کو نمایاں کیا گیا ہے۔ پاکستان کے چاروں صوبوں کی ثقافت کو اجاگر کرنے کے لئے متعدد فلوٹس بھی آزادی ٹرین کا حصہ ہیں۔
حسب سابق اس مرتبہ بھی نظریۂ پاکستان ٹرسٹ کے سیکرٹری جناب شاہد رشید کی قیادت میں ایک وفد نے لاہور ریلوے سٹیشن پر کھڑی آزادی ٹرین کا دورہ کیا جہاں پہنچنے پر ڈویژنل سپرنٹنڈنٹ لاہور سفیان ڈوگر اور ڈائریکٹر جنرل پبلک ریلیشنز پاکستان ریلوے نجم ولی خان اور دیگر اعلیٰ حکام نے ان کا خیر مقدم کیا۔ اس موقع پر ریلوے پلیٹ فارم پر لوگوں کا اژدھام دیکھنے کو ملا۔ ایک طرف ریلوے بینڈ ملی نغموں کی دھنیں بکھیررہا تھا تو دوسری جانب ڈھول کی دل نشیں تھاپ لوگوں کو مسحور کررہی تھی۔ وفد نے آزادی ٹرین کے مختلف حصوں کو دیکھا اور جناب شاہد رشید نے ریلوے انتظامیہ کی اس کاوش کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے تجویز دی کہ اس ٹرین کو محض ماہ اگست اور بڑے شہروں تک ہی محدود نہ رکھا جائے بلکہ برانچ لائنوں پر چلا کر چھوٹے شہروں کے باسیوں کو بھی اسے دیکھنے کا موقع فراہم کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ٹرین ہماری عظیم الشان جدوجہد آزادی اور قومی زندگی کے دیگر پہلوئوں کے متعلق آگہی کا بہترین ذریعہ ہے اور اس پر اٹھنے والے اخراجات کی بجائے اس کے اثرات کو دیکھنا چاہیے۔ جس سٹیشن پر بھی یہ ٹرین رُکے‘ وہاں ایک دن خواتین اور طالبات کے لئے مخصوص کردیا جائے تاکہ وہ پورے اطمینان سے اسے دیکھ سکیں۔ انہوں نے کہا کہ آئی ایس پی آر کی جانب سے شہداء کی قربانیوں کو اجاگر کرنے سے ہماری نئی نسلیں قوم کے ہیروز کی خدمات سے آگاہ ہوں گی اور ان میں جذبۂ حب الوطنی مزید فروغ پائے گا۔ اُنہوں نے آگاہ کیا کہ نظریۂ پاکستان ٹرسٹ کی تجویز پر حکومت پاکستان نے 2003ء کو سالِ مادرِ ملتؒ کے طور پر منایا تھا اور اس موقع پر ’’مادرِ ملت ٹرین‘‘ بھی تیار کی تھی جس کے ذریعے محسنۂ ملت کی حیات و خدمات کو اجاگر کیا گیا تھا۔ رہبر پاکستان محترم مجید نظامی نے بذات خود اس ٹرین کا دورہ کرکے اسے سراہا تھا۔
قارئین کرام! آزادی ٹرین قوم سازی کے عوامل میں ایک اہم عامل ہے۔ اس کی بدولت ہماری نسل نو کو اپنے بزرگوں کی تاریخ ساز جدوجہد سے آگہی اور اپنی قابل فخر تاریخ سے شناسائی حاصل ہورہی ہے۔ وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق اس اقدام پر مبارکباد کے مستحق ہیں۔ خواجہ سعد رفیق تحریک پاکستان کے مخلص کارکن شہید جمہوریت خواجہ رفیق شہید کے صاحبزادے ہیں۔ ان کے بزرگوں نے تحریک پاکستان میں بھرپور حصہ لیا تھا اور اب نئی نسلوں میں تحریک پاکستان کے ولولوں اور جذبوں کو اجاگر کرنے کے لیے اِن کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ وہ زور دار فیصلوں کے لئے مشہور ہیں۔ وہ آزادی ٹرین کو اس مملکت خداداد کے تمام علاقوں تک لے جانے کا فیصلہ کریں۔