’’بے چاری جمہوریت‘‘ کو کس سے خطرہ؟

کالم نگار  |  نوازرضا۔۔۔ںوٹ بک
’’بے چاری جمہوریت‘‘ کو کس سے خطرہ؟

پارلیمنٹ ہائوس ہو یا سیاسی تقریب‘ سماجی اجتماع ، ہر جگہ یہی موضوع گفتگو ہے‘ کیا ہورہا ہے؟ معمولی سی بھی سیاسی سوجھ بوجھ رکھنے والا شخص جمہوریت کے بارے میں متفکر نظر آتا ہے ایک طرف اس کی پریشانیوں میں مزید اضافہ نجی ٹیلی ویژن چینلوں پر محافل سجانے والے کررہے ہیں‘ رہی سہی کسر حکومت اور فوج کے درمیان پریس کانفرنسوں اور بیانات کے ذریعے پیغام رسانی نکال رہی ہے اس پر طرفہ تماشا یہ کہ فوج کے ’’خودساختہ ترجمان‘‘ حکومت کے گرائے جانے کی تاریخیں دے کر غیریقینی کی صورتحال پیدا کرنے کی شعوری کوشش کررہے ہیں۔ دوسری طرف وفاقی حکومت میں ’’عقاب صفت‘‘ وزراء نے بھی ’’انت‘‘ مچا رکھی ہے‘ حکومت اور فوج کے درمیان جو بات بند کمرے میں ہونی چاہئے وہ ٹیلی ویژن چینل یا پریس کانفرنس میں کی جا رہی ہے شاید اس طرح ’’پیغام رسانی‘‘ کا مزہ ہی کچھ اور ہے۔ مجھے یاد پڑتا ہے کچھ سال قبل تک فوج کے کسی جونیئر افسر تک اخبار نویس کی رسائی تو بہت دور کی بات تھی اس سے ملاقات کیلئے بڑے پاپڑ بیلنے پڑتے تھے‘ اب تو اخبار نویس کے جی میں جو آتا ہے اس سے کہلوا کر ہنگامہ کھڑا کروا دیتا ہے۔ ہماری عسکری روایات کے مطابق فوج کا ترجمان ہمیشہ اپنی حدود میں رہ کر جچی تلی بات کرتا تھا‘ اس میں سیاست کا کوئی تڑکا نہیں لگا ہوتا تھا لیکن اب صورتحال یہاں تک پہنچ گئی ہے بات بات پر ٹویٹر کے ذریعے پیغام دینے کا ایسا سلسلہ چل نکلا ہے کہ رکنے کا نام نہیں لے رہا۔ انٹر سروسز پبلک ریلیشنز کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل آصف غفور کے ملکی معیشت بارے میں ریمارکس ’’ملکی معیشت بری بھی نہیں تو اچھی بھی نہیں‘‘ پر وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال کی جانب سے ’’فوج کے ترجمان کا ملکی معیشت کے بارے میں بیان کو غیرذمہ دارنہ قرار دینا‘‘ فوج کے ترجمان کیلئے پریس کانفرنس کرنے کا باعث بنا لیکن اس پریس کانفرنس سے معاملہ سلجھنے کی بجائے الجھنے کا اندیشہ ہے۔ ماضی میں حکومت اور فوج کی طرف سے اس طرح کی بیان بازی کبھی نہیں ہوئی حکومت اور فوج ایک ہی ریاست کے دو ادارے ہیں اگر ان کے درمیان کسی معاملہ پر اختلاف رائے ہو تو وزیراعظم اور عسکری قیادت بند کمرے میں بیٹھ کر دور کرسکتی ہے کسی کو کانوں کان خبر نہیں ہوتی۔ ماضی میں ایسا بارہا ہوتا رہا ہے۔ فوج کے ترجمان کی پریس کانفرنس سے کچھ باتوں کے بارے میں کلیریٹی آگئی ہے اس سے بڑی حد تک جمہوریت کے بارے میں پائے جانے والے شکوک و شبہات دور ہوگئے ہیں۔ فوجی ترجمان نے ملک میں مارشل لاء کے نافذ ہونے یا ٹیکنوکریٹ حکومت کے قیام کے بارے میں قیاس آرائیوں کے غبارے سے ہوا نکال دی ہے۔ کچھ عناصر بالخصوص نام نہاد سیاسی و دفاعی تجزیہ کار ٹی وی چینلوں پر بیٹھ کر عوام کو یہ باور کرانے کی کوشش کررہے ہیں کہ ملک میں مارشل لاء لگنے والا ہے‘ ملک میں عبوری مدت کے لئے ٹیکنوکریٹ حکومت آنے والی ہے۔ ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور ابھی تک ملکی معیشت کے بارے میں اپنے بیان پر قائم ہیں کہ ’’میرا کوئی بیان ذاتی نہیں ہوتا بلکہ پوری فوج کا مؤقف ہوتا ہے‘‘ تاہم انہوں نے اپنی پریس کانفرنس میں میں سویلین بالادستی کا برملا اعتراف بھی کیا ہے کہ ’’فوج کوئی فیصلہ خود نہیں کرتی
وزیراعظم کا اختیار ہوتا ہے فیصلہ حاکم وقت کا ہوتا ہے فوج سویلین حکومت کے فیصلے پر عمل کرتی ہے‘‘ آئین اور قانون سے بالاتر کچھ نہیں ہوگا سویلین حکومت ہی آرمی چیف کا تقرر کرتی ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا ہے کہ ’’میں نے کبھی نہیں کہا کہ ملکی معیشت گر گئی ہے‘ میرے بیان پر وفاقی وزیر داخلہ کے بیان سے مجھے بطور سولجر اور پاکستانی مایوسی ہوئی ہے‘‘ انہوں نے اس بات پر اصرار کیا کہ ’’دنیا میں ایسا کوئی ملک نہیں جس میں اداروں میں اختلاف رائے نہ ہوتا ہو‘ اظہار رائے ہر ایک کا حق ہے جمہوریت کو پاک فوج سے کوئی خطرہ نہیں اگر جمہوریت کو کوئی خطرہ ہے تو جمہوری تقاضے اور عوامی توقعات پوری نہ ہونے سے ہوگا اس وقت ہر چیز سویلین بالادستی میں چل رہی ہے‘‘ میرے خیال میں انہوں نے جمہوریت سے فوج کو کوئی خطرہ نہ ہونے کی جو بات کی وہاں تک اس معاملہ پر بات ختم کر دینی چاہئے اس سے زیادہ بات کرنے کی ضرورت نہیں انہیں ایک جمہوری حکومت کو جمہوریت کے بارے میں کوئی درس نہیں دینا چاہئے۔ اگر آپ اس طرح کی باتیں کریں گے تو جواب الجواب کا نہ ختم ہونے کا سلسلہ شروع ہوجائے گا جس طرح حکومت کو فوج کی کارکردگی پر کوئی تبصرہ نہیں کرنا چاہئے اسی طرح سول حکومت جس کی بالادستی کا فوج بھی اعتراف کرتی ہے کسی حکومتی عہدیدار کے غیرضروری تبصرے سے صورتحال خراب ہو سکتی ہے۔ میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ جب ملکی معیشت اچھی ہوگی تو سکیورٹی بھی اچھی ہوگی دونوں ایک دوسرے سے باہم منسلک ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’’آدھے بھرے اور آدھے خالی گلاس کی بات تو ٹھیک ہے لیکن کیا آدھا بھرا گلاس آدھا ہی رہنے دیں یایہ کوشش نہ ہو کہ اس میں کچھ اضافہ بھی ہو‘‘ وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال کا شمار مسلم لیگ (ن) کے ’’عقاب صفت رہنمائوں میں ہوتا ہے۔
سب ہی جانتے ہیں احسن اقبال کواپنا نکتہ نظر بہتر طور پر پیش کرنے کا سلیقہ ہے وہ پہروں بات کر سکتے ہیں ان کی جانب سے فوجی ترجمان کے بیان پر رد عمل نے صورت حال کو مزید گھمبیر کر دیا ہے اس پر طرفہ تماشا یہ کہ میجر جنرل آصف غفور نے ادھر پریس کانفرنس میں جمہوریت پر لیکچر دے ڈالا ادھر اسی روز وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کراچی میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے زور دار انداز میں تمام قوتوں کو یہ پیغام دیا کہ ’’پاکستان جمہوریت کے بغیر ترقی نہیں کر سکتا، ملک میں حکومت بنانے کا فیصلہ کرنے کا اختیار عوام کے پاس ہے جس حکومت نے کام نہیں کیا اسے عوام نے گھر بھیج دیا ، آمریت میں ملک ترقی نہیں کرتا ، انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ’’ غیر جمہوری یاٹیکنو کریٹ حکومت عوام کے مسائل حل نہیں کر سکتی تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان بار بار مارشل لاء کی رٹ لگا کر عوام کو خوفزدہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور اب اس بات کی رٹ لگا رکھی ہے کہ میاں نواز شریف ملک میں مارشل لاء نافذ کروانا چاہتے ہیں جب کہ قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے کہا کہ ’’ مجھے نہیں لگتا نواز شریف مارشل لاء لگوانا چاہتے ہیں‘‘۔ فوج کے’’ خود ساختہ ‘‘ ترجمانوں عمران خان اور شیخ رشید احمد کے بیانات اور سرگرمیوں نے جمہوریت کو سب سے زیادہ نقصان پہنچایا ہے ۔ گذشتہ ہفتہ کے اواخر میں سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے پریس کانفرنس کے لئے ٹیکسلا کا انتخاب کیا ان کی پریس کانفرنس کی حدت دور دور تک محسوس کی جاتی ہے ان کا جہاں پارٹی کے کارکنوں کے لئے واضح پیغام ہوتا ہے وہاں اپنی قیادت کو تصادم کی راہ پر نہ چلنے کی تاکید ہوتی ہے وہ بار بار یہ کہہ رہے ہیں کہ پارٹی میں کوئی گروہ بندی ہے اور نہ ہی پارٹی میں کوئی بغاوت ہے ‘‘ انہوں نے پارٹی قیادت کو احتساب عدالتوں کے سامنے پیش ہونے کا مشورہ دیا ہے وہ فوج کے ساتھ محاذ آرائی کے حق میں نہیں ان کو یہ فکر کھائے جا رہی ہے کہ میاں نواز شریف کے ساتھ اسٹیبلشمنٹ سے محاذآرائی نہ کرنے کا طے ہو جانے کے باوجود پارٹی کے ’’عقاب صفت‘‘ وزراء معاملات کو تصادم کی طرف لے جانے کی کوشش کر رہے ہیں ، ان کے بیانات سے میاں نواز شریف کو کس قدر نقصان پہنچ سکتا ہے کسی کو اس بات کا اندازہ نہیں چوہدری نثار علی خان ان دنوں جو گفتگو کر رہے ہیں اسے عوام بالخصوص مسلم لیگی کارکنوں میں قبولیت حاصل نہیں کیونکہ ان کے مقابلے میں عقاب صفت رہنما ئوں نے مسلم لیگی کارکنوں کو خوش کرنے کے لئے ہارڈ لائن اختیار کر رکھی ہے چوہدری نثار علی خان ٹیکسلا میں زور دار پریس کانفرنس کے بعد لاہور چلے گئے ہیں جہاں ان کی وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف سے ملاقاتیں ہوئی ہیں ان ملاقاتوں کے بعد ہی وزیر اعلیٰ پنجاب نے نیب قانون میں پیپلز پارٹی کی طرف سے نیب کے دائرہ اختیار کو فوج اور عدلیہ تک بڑھانے کی کی تجویز کی مخالفت کے بارے میں بیان دیا ہے ، میاں شہباز شریف نے ریاستی اداروں کو یہ پیغام دیا ہے مسلم لیگ (ن) فوج اور عدلیہ کے احتساب بارے میں کسی قسم کی قانون سازی میں دلچسپی نہیں رکھتی ۔ چوہدری نثار علی خان نے ایک بار پھر پارٹی قیادت کو احتساب کورٹ میں پیش ہونے کا مشورہ دیا ہے میاں نواز شریف نے 19 اکتوبر2017ء کو احتساب کورٹ میں دوسری بار پیش ہونے کا اعلان کر دیا ہے اس سے یہی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ پارٹی کے صلح جو رہنمائوں نے میاں نواز شریف کو ریاستی اداروں سے محاذ آرائی کے راستے پر چلنے سے روک دیا ہے محاذ آرائی کی ایسی صورتحال بھی نہیں کہ ملک میں کسی وقت مارشل لاء لگ جائے۔ وفاقی وزراء اور فوج کے ترجمان کے درمیان بیان بازی کا ایک مثبت پہلو یہ ہے فوج نے جمہوریت کے ساتھ اپنی کمٹمنٹ کا ایک بار پھر اظہار کیا ہے لیکن اب حکومت اور فوج کے ترجمان کو اپنی اپنی حدود میں رہ کر بات کرنی چاہیے اگر کوئی ایسی صورت حال پیدا ہو جائے تو اس پر ٹیلی ویژن یا پریس کانفرنس پر اظہار خیال کرنے کی بجائے تمام ’’گلے شکوے‘‘ بند کمرے میں کرنے چاہئیں اس کے لئے فورم موجود ہیں فوج کے پاس اپنا اصلی ترجمان موجود ہے ان کی موجودگی میں عمران خان اور شیخ رشید احمد کو فوج کی ’’ترجمانی‘‘ کی ضرورت نہیں وہ صورت حال کو خراب کرنے میں اپنا پورا زور لگا رہے ہیں اب ہر روز تماشا لگانے والے مداریوں کو’’ شٹ اپ‘‘ کال ملنی چاہئے۔