وہ کیا کر رہے تھے! یہ کیا کر رہے ہیں؟ (5)

کالم نگار  |  خالد احمد

ایملی الزبتھ ڈکنسن EMILY ELIZBETH DICKENSON کا کہنا ہے کہ ’سچائی‘ اتنی نایاب ہے کہ اس کا بیان بھی ایک مسرت کا درجہ رکھتا ہے!
خواجہ رضی حیدر حکایتِ قائدؒ بیان کر رہے تھے اور یہ حکایتِ لذیذ دراز تر ہوتی چلی جا رہی تھی! ہم جنوبی ایشیاءکے ماضی کے آسمان پر پاکستان کا سورج طلوع ہوتے دیکھتے اور پھر پاک سرزمین پر قائداعظمؒ کی سربراہی میں حوصلہ مندی کا قافلہ جادہ پیما ہوتے دیکھنے میں لگ چکے تھے! ایک بہار مستقل جڑیں پکڑ رہی تھی کہ قائداعظمؒ رحلت فرما گئے! قائدِ ملت، شہید ملتؒ قرار پا گئے! مسلم لیگ دھڑوں میں بٹ گئی! دستور ساز اسمبلی نے 1954ءکا ’دو ایوانی‘ ’BI-CHAMBER‘ آئین پیش کیا مگر گورنر جنرل غلام محمد نے مسترد کر دیا، پھر 1956ءکا آئین پیش کیا گیا۔ جلدی جلدی پڑھا گیا، جلدی جلدی منظور ہوتا گیا، سکندر مرزا گورنر جنرل تھے، چودھری محمد علی وزیراعظم، آئین منظور ہو گیا، 23 مارچ 1956ءکے دن اسلامی جمہوریہ پاکستان کے الفاظ ساتھ لئے پاکستانی پرچم کی مطبوعہ جھنڈیاں طیارے کے ذریعے لوگوں کی چھتوں پر گرائی گئیں اور ’انتخابی جلسے‘ شروع ہو گئے، خان عبدالقیوم خان تیس میل لمبے جلوس کے ساتھ جہلم کے پل تک پہنچ گئے! ایوانِ اقتدار میں زلزلے آنے لگے، ایک کے بعد ایک وزیراعظم آنے جانے میں لگا دئیے گئے! حتٰی کہ میجر جنرل سکندر مرزا نے ملک کو آئینی جمہوریت سے بچانے کا فیصلہ کر کے ملک پر غیر آئینی حکومت قائم کرنے کا منصوبہ شروع کیا مگر اُنہیں، اس ’سازش میں کامیاب‘ قرار دے کر لندن میں ریستوران چلانے کے لئے اُن کی بیگم سمیت طیارے میں بٹھا کر ہوا میں چھوڑ دیا گیا!
نیا آئین دے کر ’انتخابات‘ منعقد کرائے گئے اور قائداعظمؒ کی ہمشیرہ اور مادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناح انتخابات جیت کر بھی ’ہرا‘ دی گئیں! دھاندلی کے خلاف تحریک چلانے میں کسی سیاسی جماعت نے بھی محترمہ فاطمہؒ جناح کا ساتھ دینا گوارا نہ کیا، ملک پر ’جنگ‘ آ پڑی، بھارت نے اپنی سی کر کے دیکھ لی اور زمین پر آ رہا! مگر ہم نے آپس میں دست و گریبان ہونا چھوڑ دینا گوارا نہ کیا اور ملک دولخت کر دینے کے بعد بھی جنرل محمد ضیاءالحق اور جنرل پرویز مشرف کا راستہ نہیں روک سکے! شاید اس لئے کہ ہمارے ’دیانت دار‘ لوگ انتہائی نااہل تھے اور ہمارے ’اہل لوگ‘ انتہائی ’خائن‘ تھے! ’دیانت دار‘ اور ’اہل‘ لوگ ’سچائی‘ کی طرح نایاب تھے!
لہٰذا، جناب سلیم طاہر نے ’سب کچھ کیتا، صبر نئیں کیتا!‘ کے عنوان سے ایک نظم پڑھی اور پاکستانی معاشرے میں بدعنوانی کی تمام تصویریں اسی ٹیپ کے مصرع کے ساتھ بیان کر دیں! ہم نے سب کچھ کیا، مگر ’صبر‘ نہیں کیا!
بات شاعری میں ڈھل جائے تو تاثیر بڑھ جاتی ہے! قبراں دے وچ ماریا پھیتا! سب کچھ کیتا! صبر نئیں کیتا! یعنی ہم نے قبروں پر بھی فیتہ لگا کر اُنہیں شاندار بلند و بالا عمارات کی بنیادوں میں دفن کر دیا!
ایک مطلق العنان، بدعنوان معاشرے کی اس سے بہتر تصویر پیش نہیں کی جا سکتی تھی! اس حال میں بھی ’دیانت داری اور اہلیت‘ کی مکمل تصویر صرف قائداعظمؒ کی شخصیت کی صورت میں جلوہ گر تھی! اور ہمیں احساس ہو رہا تھا کہ جب تک خواجہ رضی حیدر جیسے لوگوں کا ’معجز نما‘ قلم، داستاں سرا ہے‘ یہ حکایتِ لذیذ دراز تر ہوتی چلی جائے گی!
وزیراعظم جناب ذوالفقار علی بھٹو نے قائداعظمؒ کی 100ویں سالگرہ پر منائے جانے والے ’جشنِ صد سالہ‘ کے سلسلے میں کئے گئے اقدامات کے تحت ’قائداعظمؒ اکیڈیمی‘ بھی قائم کی تھی، لہٰذا ان تقریبات کے لئے مناسب ملبوسات کے انتظام کے لئے اس اکیڈیمی کے قیام کا اعلان 1976ءمیں کیا گیا، خواجہ رضی حیدر اسی سلسلے میں ’ریسرچ سکالر‘ کے طور پر منتخب کئے گئے۔ 1991ءمیں جناب نوازشریف نے ’قائداعظمؒ اکیڈیمی، میں ’چیئرمین‘ کا عہدہ تخلیق کیا اور جناب زیڈ اے سلہری اکیڈیمی کے پہلے چیئرمین نامزد کئے گئے، اس کے ساتھ ہی ’قائداعظمؒ پیپرز پراجیکٹ‘ اسلام آباد شروع کیا گیا اور جناب ڈاکٹر زوار حسین زیدی اس پراجیکٹ کے سربراہ مقرر کئے گئے!
اب یوں ہے کہ ’قائداعظمؒ اکیڈیمی‘ کسی چیئرمین اور کسی ڈائریکٹر کے بغیر کراچی میں ہی کام کر رہی ہے! یہ وقت ہے کہ خواجہ رضی حیدر سے اس اکیڈیمی کے سلسلے میں خدمات ادا کرنے کے لئے کہا جائے اور گزشتہ تین سال کے دوران کئے گئے کام کو بھی کام میں لایا جائے! امورِ ثقافت کے وفاقی وزیر جناب آفتاب احمد جیلانی اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں اور اکادمی میں ریسرچ سکالر سے ڈائریکٹر تک کے عہدے پر کام کرنے والے شاعر اور محقق کے لئے ’چیئرمین شپ‘ نہیں تو ’ڈائریکٹر شپ‘ ہی ’معاہداتی بنیاد پر‘ مہیا کی جائے کہ وہ کام سامنے آ سکے، جسے عام حالات میں سامنے لایا جانا ممکن نہیں! یہ درست ہے کہ ہم لوگ قائداعظمؒ کے راستے پر نہیں چل سکتے مگر وہ لوگ جنہیں قائداعظمؒ کے راستے کے سوا کوئی اور راستہ سوجھتا ہی نہیں، اُنہیں بھی اسی پاکستان میں زندہ رہنے کا حق تو حاصل رہنا چاہئے! ہم حق دار کے حق کے لئے آواز ’بلند تر‘ کرنے کی خاطر نشانِ جمہوریت جناب مجید نظامی سے عرض گزار ہیں کہ وہ ’قائداعظمؒ اکیڈیمی“ کے جسد میں جان ڈالنے کے لئے، اپنے تعلقات کام میں لائیں تاکہ ’مزارِ قائدؒ‘ کے سامنے ’کردارِ قائدؒ‘ کی ’حشمت کا ہالہ‘ بنی اس اکیڈیمی کی فعالیت میں اضافہ ہو سکے! اللہ کارساز ہے! بسم اللہ! یہ بہار مستقل جڑیں چھوڑ چکی ہے اور اس پر پھُول آتے رہنا چاہئیں! ’نظریہ پاکستان ٹرسٹ‘ بھی یہی کچھ کر رہا ہے! اور کرتا رہے گا! کہ یہ ہماری وہی نایاب سچائی ہے، جس کی ضرورت ہم سے زیادہ کسی کو نہ تھی، نہ ہو گی!(ختم)