طاقتور خواتین ؟

کالم نگار  |  ڈاکٹر محمد اجمل نیازی

عالمی سروے کرنے والوں کو کیا ہو گیا ہے۔ وہ امریکی تھنک ٹینک کی طرح ہو گئے ہیں۔ اپنی مرضی کے فیصلے اپنی مرضی کے مشورے۔ کہا گیا ہے کہ امریکی صدر اوباما کی اہلیہ مشعل اوباما دنیا کی طاقتور ترین عورت ہیں، اس لئے کہ وہ دنیا کے طاقتور سمجھے جانے والے صدر امریکہ کی اہلیہ ہیں۔ اگر وہ ان کی اہلیہ نہ ہوتی تو پھر کیا ہوتی۔ وہی ہوتی جو اوباما کے صدر ہونے سے پہلے تھی۔ بارک حسین اوباما کوئی امیر کبیر بھی نہ تھے۔ مشعل کھانا خود پکاتی ہو گی، بچوں اور بچوں کے ابا کے کپڑے دھوتی ہو گی۔ کبھی کبھی ان کے جوتے بھی پالش کرتی ہو گی۔ یہی کچھ عورتیں کرتی ہیں اور یہ اچھی بات ہے کہ فطرت نے یہی کردار اسے سونپا ہے۔ وہ چاہے جو بن جائے مگر عورت بھی رہے، یہی اس کی طاقت ہے ورنہ یہ کام مشعل کے گھر میں نوکرانیاں کرتی ہوں گی۔ ظاہر ہے کہ وہ بھی عورتیں ہوتی ہیں۔ آخر کونسی طاقت کی بات مشعل میں یکایک پیدا ہو گئی ہے۔ دنیا کے معاملات بگاڑنے کا جو کارنامہ امریکہ کرتا ہے جس کی ذمہ داری امریکی صدر پر لگائی جاتی ہے۔ اس میں صدر صاحب کا بھی اتنا دخل نہیں ہوتا مگر ایسا سمجھا جاتا ہے۔ مشعل بے چاری تو اس حوالے سے سوچتی بھی نہ ہو گی، وہ کچھ کر بھی نہیں سکتی۔ ہلیری کلنٹن کچھ نہ کر سکی اس کا شوہر صدر کلنٹن دفتر کی ایک معمولی ملازمہ سے عشق وشق کرتا رہا۔ مشعل یا ہلیری کی یہ حیثیت صدر امریکہ کی اہلیہ کے طور پر ہے۔ مشعل کی جو تصویریں آتی ہیں ابھی تو اس نے کوئی بات بھی نہیں کی۔ شاید وہ بڑی ڈاہڈی بیوی ہو مگر لگتی تو نہیں۔ شاید کبھی ایسا ہوا ہو کہ اس نے صدر اوباما کو کان پکڑوا دئیے ہوں کہ تم دفتر سے اتنی دیر سے کیوں آئے ہو جبکہ دفتر اور گھر وہائٹ ہاوس میں ہے۔ خاتون اول بھی وہ وہائٹ ہاوس میں قیام تک ہے۔ ہلیری خاتون اول نہیں۔ میں نے اپنی بیوی کو بہت ادب اور پیار سے خاتون اول کہہ دیا تو اس نے غصے سے کہا کہ اس کا مطلب ہے کہ دوم سوم چہارم بھی ہیں۔ میں مسلمان ہوں اس کے باوجود میں نے اپنے کانوں کو ہاتھ لگائے۔ اس نے کہا میں خوب سمجھتی ہوں جب تمہارے بھائی کی دوسری شادی ہو رہی تھی تو تم ٹھنڈی آہیں بھر رہے تھے۔ میری بیوی کو اپنی شادی میں ڈھول ڈھمکا اور شان و شوکت نہ ہونے کا بہت رنج تھا۔ میں جن کپڑوں میں رات سویا تھا انہی کے ساتھ دلہن کے گھر چلا گیا اور وہ خواب بھی بھول گیا جو میں نے رات دیکھا تھا۔ مجھے احمد فراز یاد آیا
رات کیا سوئے کہ باقی عمر کی نیند اُڑ گئی
خواب کیا دیکھا کہ دھڑکا لگ گیا تعبیر کا
میں نے خوشامدانہ کہا کہ آو ہم دونوں دوسری بار شادی کر لیں۔ اس نے فوراً کہا میں دوسری شادی کرنے کی اجازت تمہیں اپنے ساتھ بھی نہیں دوں گی۔ اہلیہ ہونے کی حیثیت میں عورت کی طاقت کا کون قائل نہیں ہو گا۔ وہ بے چارہ اس کے لئے مجبور بھی ہے۔ ایک مرید اپنے پیر صاحب سے ملنے گیا تو پیر صاحب کی اہلیہ نے اسے اور پیر صاحب یعنی اپنے شوہر کو گالیاں دیں۔ مرید غصے میں واپس پلٹا تو پیر صاحب نے مسکراتے ہوئے کہا تم چند گالیاں سن کر ہی غصے میں آ گئے ہو۔ ہم عمر بھر سے یہی کچھ سنتے آ رہے ہیں مگر اف تک نہیں کی۔ ایک تھانیدار نے تھانے میں آئے چار پانچ گرفتار آدمیوں سے پوچھا کہ تم کس کے مرید ہو، پہلے نے کہا کہ میں داتا صاحب کا مرید ہوں۔ تھانیدار نے حکم دیا کہ اسے حوالات لے جاو اور اس کی لترول سے تواضع کرو۔ دوسرے تیسرے کا بھی یہی حشر ہوا کہ انہوں نے بابا فرید اور بابا بلھے شاہ کے مرید ہونے کا اقرار کیا تھا۔ چوتھے نے کہا کہ میں تو رن مرید ہوں۔ جابر اور ظالم تھانیدار خوشی سے اچھل پڑا، اوئے کوئی کھانے پینے کی چیزیں لاو، یہ تو اپنا پیر بھائی ہے۔
سو طاقتور خواتین میں تقریباً سب شادی شدہ یعنی اہلیہ محترمہ ہیں۔ کوئی عورت اپنے طور پر طاقتور نہیں ہوتی۔ ہلیری اب خاتون اول نہیں مگر وہ ہلیری کلنٹن نہ ہوتی تو کبھی صدارتی امیدوار بھی نہ بنتی۔ وہ کیسے طاقتور ہو سکتی ہے کہ صدر نہ بن سکی مگر وزیر خارجہ بن گئی۔ امریکی وزیر خارجہ کی حیثیت تو نائب صدر سے زیادہ ہوتی ہے کہ وہ دنیا میں کشمکش اور افراتفری پیدا کرنے میں اصل کردار ادا کرتا ہے۔ اگر ہلیری وزیر خارجہ نہ بنتی تو پھر میں اسے طاقتور مان لیتا۔ عورت اہلیہ ہونے کو بھی ایک عہدہ سمجھتی ہے۔ ہمیشہ وہ کسی نہ کسی مرد کی اہلیہ ہوتی ہیں وہ اہل نہیں ہو سکتیں۔ اہلیہ اہل سے ہو تو بھی کچھ بات ہو۔ عورت کا زور صرف اپنے شوہر پر چلتا ہے۔ کہتے ہیں کہ مرد اپنی بیویوں پر تشدد کرتے ہیں۔ وہ بے چارے اس لئے یہ حرکت کرتے ہیں کہ کہیں ان پر تشدد نہ شروع ہو جائے۔ میں اس تشدد کے خلاف ہوں۔ یہ امریکہ اور یورپ میں اب زیادہ ہوتا ہے جہاں عورت مادر پدر آزاد ہے۔ میں عورت کی آزادی کے خلاف نہیں مگر وہ مرد کی طرح بننے کو آزادی سمجھتی ہیں۔ جو کچھ مرد کرتا ہے اس کی اجازت عورت کو بھی ہونا چاہیے۔ ایک آدمی نے عورت کے طاقتور ہونے کی دلیل یہ دی کہ اتنی سردی میں مرد سوٹ میں ملبوس ہوتے ہیں اور عورت تقریباً نیم برہنہ ہوتی ہے۔ وہ کم کپڑوں سے موسموں کا مقابلہ کرتی ہے تو مردوں کا کیوں نہیں کر سکتی۔
دوسرے نمبر پر ہلیری کو طاقتور سمجھنا ٹھیک نہیں ہے۔ مجھے اس سے اختلاف ہے اس نے وہائٹ ہاوس میں صدر کلنٹن کی غلطی کو معاف کر دیا اور گھر کو برباد نہیں ہونے دیا۔ یہ ایک مشرقی عورت کا قرینہ ہے جو گھر کے لئے بہت کچھ برداشت کرتی ہے، مرد نہیں کر سکتا۔ اس حوالے سے وہ مرد سے بہت آگے ہے۔ مجھے ہلیری تب اچھی لگی تھی مگر اب اچھی نہیں لگتی۔ وہ ایک مرد وزیر خارجہ سے مختلف نہیں۔ ظالم، بے انصاف اور طاقت کے نشے میں چُور۔ مشعل وہائٹ ہاوس میں ایسے موقع پر ہلیری کی طرح رویہ اختیار کرتی ہے یا صدر اوباما کو وہائٹ ہاس سے نکلواتی ہے۔ سچ کہا کسی نے کہ ایک کامیاب مرد کے پیچھے ایک عورت کا ہاتھ ہوتا ہے تو یہ بھی سچ ہے کہ ایک ناکام مرد کے پیچھے کئی عورتوں کا ہاتھ ہوتا ہے۔ کامیاب عورت کے پیچھے تو مرد ہوتا ہی ہے۔ وہ اپنے نام کے ساتھ پہلے اپنے باپ کا نام لکھتی ہے اور پھر اپنے شوہر کا نام لکھتی ہے۔ اس کا تعارف یہ ہے تو پھر اس کی تعریف میں اسے کیسے نظر انداز کیا جا سکتا ہے۔ بے نظیر بھٹو اور اندرا گاندھی نے بیٹی ہونے کی خوش قسمتی سے اعزاز پایا تھا۔ جتنی بڑی عورتیں ہیں وہ کسی نہ کسی رشتے کی وجہ سے معروف ہوئیں۔ مادر ملت عظیم خاتون ہیں مگر وہ قائداعظم کی بہن ہیں۔ تیسرے نمبر پر ایک اینکر پرسن ہے اور یہ زیادہ بہتر ہے۔ میں اپنے ملک میں بہت سی اینکر پرسن کو دیکھ کر حیران ہوا ہوں پریشان بھی ہوا ہوں مگر اس میں کسی نہ کسی مرد کا ہاتھ نظر آتا ہے۔
یہ عجیب بات ہے کہ اخبار میں جو نام شائع ہوئے ہیں ان میں مشرق کی کسی عورت کا نام نہیں جبکہ بڑی بڑی عورتیں ہمارے پاس ہیں۔ کسی منصب کے ساتھ وابستہ عورتیں بھی طاقتور ہیں وہ نہیں رہے گا تو کچھ بھی نہیں رہے گا مگر مجھے کوئی خاص نام یاد نہیں آ رہا مگر مرحوم انیس ناگی نے زبردست خاتون ادیبہ شاعرہ کالم نگار کشور ناہید کو ادب کی پھولن دیوی کہا تو لوگ ششدر رہ گئے۔ پھولن دیوی ایک ڈاکو تھی اور لوگ اس سے اتنا ڈرتے تھے کہ کئی ظالموں کو ٹھکانے لگانے کے بعد اسے دو بار پارلیمنٹ کا ممبر بنوا دیا۔ ہماری جو نامزد خواتین پارلیمنٹرین ہیں چند ایک کو چھوڑ کر انہوں نے اپنی اس طاقت کو اپنی کسی کمزوری سے حاصل کیا ہے۔ پھولن دیوی کا قتل ہونا بھی اس کے طاقتور ہونے کی دلیل ہے۔ بے نظیر انکم سپورٹ کی چیئرپرسن ہونے کے بعد فرزانہ راجہ خود کو اتنا طاقتور سمجھنے لگی ہے، کہ چاہتی ہے۔ کہ اب اُسے فرزانہ مہاراجہ کہا جائے!