اب نسل نو کچھ کرے گی!

صحافی  |  ریاض الرحمن ساغر

کبھی کچھ ہونے لگتا ہے مگر پھر کچھ نہیں ہوتا
رہے جو کچھ نہ کچھ ہوتا تو ڈر پھر کچھ نہیں ہوتا
فرق اب کچھ نہیں پڑتا یہاں ہونے نہ ہونے سے
تعلق کچھ نہیں ہونے کا پانے اور کھونے سے
حکومت ہو کسی کی بھی‘ کسی کو کچھ نہیں ملتا
کہ امریکہ کے چاہے بن یہاں پتہ نہیں ہلتا
جو امریکہ کو خوش رکھتے ہیں خوش رہتے ہیں آخر تک
ہمارا ملک ہے آزاد وہ کہتے ہیں آخر تک
پتہ اس وقت چلتا ہے وطن جب چھوڑ جاتے ہیں
وہ اپنی سرزمیں سے اپنا رشتہ توڑ جاتے ہیں
دیار غیر سے جب فون پر تقریر کرتے ہیں
تو اپنی خوبی کردار کی تفسیر کرتے ہیں
مکر جاتے ہیں قول و فعل سے کتنی صفائی سے
حقیقت کو وہ جھٹلاتے ہیں ہٹ دھرمی‘ ڈھٹائی سے
معافی مانگتے ہیں قوم سے اپنے جرائم کی
دکھاتے ہیں نئی تصویر فردا کے عزائم کی
وہ کہتے ہیں جواب تک ہو نہ پایا کر دکھائیں گے
ہمیں واپس بلاو ہم بہاریں لے کے آئیں گے
سیاست کی دکاں کھولیں گے اور ہم پورا تولیں گے
کبھی ملت سے ہم نے جھوٹ بولا ہے نہ بولیں گے
مگر اب لوگ ہیں بیدار وہ دھوکا نہ کھائیں گے
نئی اک لیڈروں کی فصل وہ پھر سے اگائیں گے
یہ پیارا ملک نسل نو سنبھالے گی تو سنبھلے گا
کوئی بھی نوجواں اس ملک کو دھوکا نہیں دے گا