بیٹوں کوکیش کرانے والے بیوپار

بیٹوں کوکیش کرانے والے بیوپار

ہماری ایک دوست نے اپنی بیٹی کی شادی ایک ایسے لڑکے سے کر دی جو آغا خان میڈیکل کالج کراچی سے ڈگری ہولڈر تھااور امریکہ سے میڈیکل کی اعلی ڈگری حاصل کرچکا تھا۔ لڑکا تو اچھا تھا لیکن اس کے والدین روائتی بیوپاری نکلے۔ پاکستان میں ایسے کاروباری والدین کی کثیر تعداد آباد ہے جو اپنے بیٹوں کو پڑھا لکھا کر شادی کی صورت میں کیش کراتے رہتے ہیں۔ بہو سے اپنے بیٹے کا سودا کرتے ہیں اور دونوں اطراف سے لالچ رکھتے ہیں۔ بیٹے کا رشتہ کرتے وقت ان کی شرائط کے مطابق ڈاکٹر، ڈیفنس کی رہائشی، خوب صورت، دراز قد اور امریکی پاسپورٹ ہولڈر بہو مل گئی۔ رشتہ طے کرتے وقت لڑکے کے نام نہاد تعلیم یافتہ باپ نے ڈرامائی اعلی ظرفی کا ثبوت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کا کوئی مطالبہ نہیں۔ دو جوڑوں اور قرآن پاک میں بہو لے جائیں گے۔ حق مہر معمولی ہو گا۔ بہو امریکہ میں میڈیکل کی اعلیٰ تعلیم جاری رکھ سکے گی۔ ہر بات اور ہر موقع پر اپنے بچوں کی قابلیت کے گن گانا گویا ان کا وظیفہ تھا۔ آغا خان میڈیکل کالج کے علاوہ پاکستان کے تمام تعلیمی ادارے ان کے نزدیک زیرو تھے۔ اٹھتے بیٹھتے اپنی اولاد کے قصیدے پڑھنا ان کا نفسیاتی مرض بن چکا تھا۔ بہو کو بیٹی بنا کر لیجانے کا دعوی کیا تھا۔ ہر انسان کو خود سے کم تر اور ہر بات پر فلسفہ جھاڑنا باپ کا مرض تھا۔ معمولی حق مہر پر نکاح ہو گیا۔ لالچ کے پر پرزے نکاح کے بعد نکالے کہ شادی امریکہ کے فائیو سٹار ہوٹل میں کی جائے۔ جہیز میں نو بیاہتا جوڑے کو اپنا ذاتی فلیٹ خریدنے کے لئے پچاس ہزار ڈالر کیش بطور ڈائون پیمنٹ ادا کیا جائے۔ خاندان بھر کو تحائف میں اعلیٰ سوٹ گھڑیاں اور طلائی زیورات دئیے جائیں۔ ماں کو سونے کے بھاری کڑے پہنائے جائیں۔ مہندی کی تقریب کے اخراجات بھی لڑکی والے ادا کریں گے وغیرہ۔ بہر حال امریکہ میں مہنگی شادی ہو گئی۔ شادی کے بعد بیٹی بنا کر لے جانے والے بعد میں روائتی ساس سسر ثابت ہوئے۔ فوری دادا دادی بننے کا تقاضا کر دیا تا کہ بہو ڈاکٹری کی اعلیٰ ڈگری نہ لے سکے جبکہ اپنی بیٹی کو نہ صرف آگے پڑھایا بلکہ اس کے سسرال والوں سے بھی شرط رکھ دی کہ ان کی بیٹی کو کبھی جاب سے منع نہیں کیا جائے گا۔ سال بعد دادا دادی بھی بن گئے تو بہو نے اپنے حق کے لئے آواز بلند کی کہ اسے بھی سپیشلسٹ بننے دیا جائے لیکن ساس سسر نے اپنی بڑی بہو کی مثال پیش کرتے ہوئے کہا کہ جب سے امریکہ کی ڈاکٹر بنی ہے انہیں خاطر میں نہیں لاتی لہٰذا چھوٹی بہو کی تعلیم کی شدید مخالفت کی گئی۔ بڑی بہو سے بھی منافقانہ سلوک روا رکھا اور نوبت بڑے بیٹے کی دو بچوں کے بعد طلاق تک جا پہنچی۔ بڑا بیٹا بھی کیش کرایا گیا تھا اور پھر اپنے روائتی سسرالی رویہ سے اس کا گھر توڑ دیا۔ اب چھوٹے کے گھر کی بربادی کی باری تھی۔ چھوٹی بہو نے ہمت سے کام لیاتعلیم بھی جاری رکھی اور ساس سسر کا روائتی رویہ بھی برداشت اور نظر انداز کیا۔ لیکن یہ مائی بابابڑے بیٹے کی طرح چھوٹے بیٹے کی بھی دو بچوں کے بعد بھی دوسری شادی یعنی دوسری بار کیش کرانے کے آرزومند تھے۔کچھ والدین ذہنی بیمار ہوتے ہیں۔ بیٹوں کو کئی کئی بار بیاہ کر کیش کراتے ہیں۔ ایسے ذہنی بیمار والدین اپنے بیٹوں سے نہیں فقط اپنی ذات سے محبت کرتے ہیں۔ بیٹوں کی کمائی پر صرف اپنا حق سمجھتے ہیں۔ بہو اور پوتے پوتیوں کو رقیب سمجھتے ہیں۔ بیٹوں کو اپنے قریب رکھنے کیلئے بیوی بچوں کے خلاف بیٹے کے کان بھرتے ہیں۔ بیٹوں کو جذباتی طور پر بلیک میل کرتے ہیں۔ بہوئوں سے رقابت کے عوض نفرت مول لیتے ہیں اور بھول جاتے ہیں کہ بڑھاپا اور معذوری میں اسی بہو کے آسرے رہنا پڑا تو ساری اکڑ بہو کے ہاتھوں سے پینے والے دو گھونٹ پانی کے سامنے ڈھیر ہو جائیگی۔ بڑھاپا معذوری محتاجی کا برا وقت بتا کر نہیں آتا۔ بہو اور بیٹی میں تفریق رکھنے والے ہمیشہ ذلیل ہوتے ہیں۔ دو جوڑوں اور قرآن پاک میں بہو کی رخصتی کی بات کرنے والے منافق ثابت ہوتے ہیں۔ شرائط رکھنے والے بیوپار اور مذہب کو آڑ بنانے والے ڈھونگی ہیں۔ لالچی والدین بیٹوں کو ساری عمر کھاتے اور ستاتے ہیں۔ والدین ہونے کا غلط استعمال کرتے ہیں۔ بہو کو بیٹی بنانے کی بجائے رقیب اور دشمن بنا لیتے ہیں۔ اس افسوسناک رویہ میں ساس زیادہ بدنام ہے جبکہ کئی سسر بھی اپنے سلوک سے زنانہ ثابت ہوئے ہیں۔ والدین اور ساس سسر کا ادب احترام اور حقوق کی بجا آوری پر تو ہم سب بہت لکھتے بولتے ہیں لیکن گھٹیا مزاج والدین کی خامیوں اور کمزوریوں کو ہائی لائٹ کرنے کی بھی ضرورت ہے جو بیٹوں کو ذاتی جاگیر سمجھ کر ان کی جیب اور زندگیوں کو جہنم بنا دیتے ہیں۔
٭٭٭٭٭