بصیرت ، بصارت ، عیادت اورعبادت

بصیرت ، بصارت ، عیادت اورعبادت

جب ڈاکٹر یا ممتحن امیر جماعت اسلامی مولانا سراج الحق کے پائے کے ہوں اور مریض میرے جیسا تو نتیجہ صاف ظاہر ہے۔ مگر میرا خیال ہے کہ سراج صاحب انسانی ہمدردی کے جذبے کے تحت تشریف لائے تھے اور محض میری عیادت کرنا چاہتے تھے، وہ عیادت کو بھی عبادت سمجھتے ہیں۔ انہیں تشویش لاحق تھی کہ میںنے اپنے بعض کالموںمیں بصارت کی کمزوری کا ذکر کیا تھا، بعض قارئین بھی فون پر خیریت پوچھتے ہیں اور ایک نیک دل حکیم صاحب نے تو باقاعدہ ایک نسخہ لکھ بھیجا ہے کہ اسے آزما کر دیکھیں۔ پروفیسر محفوظ قطب تو باقاعدہ ایک دوائی تلاش کر لائے، چند روز قبل ان کے برادر خورد قضائے الٰہی سے انتقال کر گئے ہیں، اللہ ان کو کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے ا ور پروفیسر قطب صاحب اور پورے خاندان کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ میری ان کی بہت زیادہ دوستی نہیں ، صرف جان پہچان ہے مگر سراج الحق سے پہلے وہی خبر گیری کے لئے تشریف لائے۔اصل میں مجھے امیر العظیم صاحب کا فون آیا، وہ بھی اچانک کہ اگرا ٓپ گھر پر ہیں تو تھوڑی دیر میں امیر جماعت عیادت کے لئے آئیں گے، میں نے کہا کہ میںجس حال کو پہنچ گیا ہوں ، اس میں باہر کیسے جا سکتا ہوں۔ پہلے ہی زمانے بھر کی ٹھوکریں کھا چکا ہوں، مزید ٹھوکریں کھانے کا یارا نہیں۔ بہر حال کچھ دیر میں سراج صاحب بھی آ گئے، وہ پچھلے دو برسوں میں تین بار غریب خانے کو عزت بخش چکے ہیں۔ کہنے لگے بصارت تو چلی گئی، بصیرت کا کیا حال ہے، کالم کیسے لکھتے ہیں، ان کا مواد اب کہاں سے حاصل کرتے ہیں۔میںنے کہا عام حالات میں تین میم کا نسخہ کام آتا تھا مطالعہ ، مشاہدہ اور مذاکرہ۔ اب دو سے محروم ہو چکا تو صرف میل ملاقات پر انحصار ہے، کچھ سن گن ہو جائے تو کالم بھی ہو جاتا ہے، غالب کی طرح میں یہ تو نہیں کہہ سکتا کہ خیالات غیب سے چلے آتے ہیں۔نہ القا ہوتا ہے۔ان کاا گلا سوال تھا کہ یہ میڈیا زوال کا شکار کیوں ہو گیا جبکہ بظاہر یہ ترقی کی تمام حدیں عبور کر رہا ہے۔میںنے انہیںمثالیں دے کر بتانے کی کوشش کی کہ میڈیا ہمیشہ سے زوال کا شکار رہا ہے، بس قصہ یہ ہے کہ کوئی میڈیا کے ڈر سے اس کی زبوں حالی پر زبان نہیں کھول سکتا۔ بلیم گیم بھی پرانا قصہ کہانی ہے اور لوگوں پر کیچڑ اچھالنا، مخصوص سیاسی جماعتوں کی ہم نوائی کرنا، اور صحافت کی آڑ میں سیاست کرنا بھی پرانا مشغلہ ہے، کچھ بھی تو نہیں بدلا۔ کہنے لگے کہ ضیا شاہد سے ملاقات ہوئی تھی وہ جنوبی پنجاب کی محرومی کی طرف توجہ دلا رہے تھے ۔ میںنے بتایا کہ جنوبی پنجاب کی محرومی کا رونا محمد علی درانی کے کاروبارکا حصہ ہے، وہ بد خوابی کی علت کا شکار ہیں، کبھی ہڑ بڑا کر جاگتے ہیں تو سرائیکی صوبے کا راگ الاپنا شروع کر دیتے ہیں۔مگر مجھے ذاتی طور پر معلوم نہیں کہ اس وقت اسی جنوبی پنجاب کا ایک شخص لاہور میں گورنر ہے۔ ماضی میں بھی اس علاقے کے لوگ گورنر، وزیراعلیٰ ا ور وزیر اعظم رہے، ایک شخص کے خلاف پٹیشن دائر ہے کہ اس نے بیس ہزار ایکڑ زمین ہتھیا رکھی ہے جبکہ عدالت اس کی صفائی میں کہتی ہے کہ اگر وہ معاہدے کے مطابق زمین کا لگان ادا کر رہا ہے تو چاہے ساٹھ ہزار ایکڑ رکھ لے، اسی شخص کے پاس اپنا ہوائی جہاز ہے، مخدوم احمد محمود کے پاس ذاتی جہاز ہے، چودھری منیر تو جنوبی پنجاب کے ا ٓخری سرے پر رحیم یار خان سے تعلق رکھتے ہیں، ان کے پاس ایک چھوڑ دو ہوائی جہاز ہیں، اس علاقے میں جو لوگ ہیں ان کے ناموں کے ساتھ رئیس یا نوابزادہ یا لغاری یا مزاری لگا ہوتا ہے، کیا یہ سب محرومیوں کے مارے ہوئے ہیں ۔اگر یہی محروم لوگ ہیں تو خدا سارے پاکستان کو انہی کی طرح کا محروم بنا دے،ویسے پھر بھی وہاں کوئی محروم رہ گیا ہے تو قطری اور خلیجی شہزادے ریتلے صحرائوں میں تلور کی طرح غول در غول اتر کر ان کی محرومیاں دور کر دیتے ہیں۔محمد علی درانی کی شاید ان تک رسائی نہیں ورنہ وہ رونا دھونا بند کر دیتے ۔میں نے کہا ، آپ بتائیں کہ اگلے الیکشن کی کیا تیاری کر رہے ہیں، سراج الحق نے کہا کہ ہم اپنے حلقوں میں خاموشی سے سرگرم ہیں ، ایم ایم اے کے بھی دو اجلاس منعقد ہوئے ہیں، ابھی ہم لو پروفائل میں ، بڑا بول اس لئے نہیں بولتے کہ کہیں کراچی والوں کاسا حشر نہ ہو جائے۔میںنے کہا مگر ٹکٹوں کے مرحلے پر آپ کو ایڈ جسٹمنٹ کرنا پڑے گی ورنہ آپ کے امید وار دولت کے انبار کے سامنے قدم نہیں جما سکتے ، نہ ایجنسیوں کی ان پر نظر کرم ہو سکتی ہے۔سراج الحق نے اس ایشو سے پہلو بچاتے ہوئے کہا کہ اصل میں ہماری توجہ ملک میں کرپشن پر مرکوز ہے، ہم نے سب سے پہلے پٹیشن دائر کی مگر اسے نہیں سنا گیا، ہماری درخواست یہ تھی کہ پانامہ کی لسٹ میں شامل تما م پانچ سو کے قریب سیاستدانوں، صنعتکاروں اور کاروباری افراد کو کٹہرے میں کھڑا کیا جائے، ان میں سے جو اپنی صفائی دے لے ، وہ اگلے الیکشن میں کھڑا ہو۔ نہیں تو جیل کی ہوا کھائے اور نااہلی کی سزا بھگتے۔ میںنے کہا کہ آپ کی درخواست کو کون در خور اعتنا سمجھے گا۔ کہنے لگے اب تک تو نہیں سمجھا مگر ہم نے نئے سرے سے پٹیشن دائر کردی ہے ، اگر میڈیا ساتھ دے تو شاید عدلیہ اس نیک مگر دشوارکام میں ہاتھ ڈال لے۔ کرپٹ معاشرہ دنیا کی نظروںمیں گھٹیا معاشرہ سمجھا جاتا ہے مگر ہمارے ہاں کرپٹ طبقہ سینہ چوڑا اور سر اونچا کر کے چلتا ہے۔کچھ دیر مزید گفتگو جاری رہی پھر مولانا سراج الحق اچانک اٹھے اور کہنے لگے کہ ہم تو چلے۔ مجھے یوںلگا جیسے کہہ رہے ہوں کہ میاں خوش رہو ہم دعا کر چلے۔ خدا کرے ان کی دعائیں قبول ہوں اور اللہ ان کو جزائے خیر دے جو وہ مجھ ناچیز اور کونے کھدرے میں پڑے شخص کی خاطر چلے آئے، میرے دو پوتے ،میاںعمرا ور میاں عبداللہ بھی اس محفل میں موجود تھے، میں مہمان کو باہر چھوڑنے گیا تو عمرا ور عبداللہ نے بیک آواز سوال کیا کہ یہ اگر ایک بڑی سیاسی جماعت کے سربراہ ہیں اور ظاہر ہے ،بڑے لیڈر ہیں تو ان کے ساتھ سیکورٹی کا لشکر کیوںنہیں، وہ ایک پرانی سی چھوٹی کار میںاکیلے سفر کیوں کرتے ہیں، کیا انہیں باقی سیاست دانوں کی طرح جان کا کوئی خوف نہیں۔ میں نے بچوں کو بتایا کہ ا ٓج ترقی یافتہ ملکوں میں کوئی حکمران یا سیاست دان سیکورٹی کے حصار میں سفر نہیں کرتا اور سراج الحق تو اسلامی نظام کے علم بردار ہیں ، وہ خود بھی سادگی کا پیکر ہیں، سچے مومن کی طرح بے خوف ۔مگر رزم حق و باطل ہو تو فولاد، ان کی جماعت نے افغان جہاد میں دنیا کی ایک سپر پاور سوویت روس کو شکست فاش سے دو چار کیاا ور یہ ایمپائر ٹکڑے ٹکڑے ہو گئی۔ یہ ہوتی ہے ،مرد مومن کی طاقت۔سراج الحق گاڑی میں بیٹھ رہے تھے تو میںنے ان سے وعدہ لیا کہ آئندہ وہ کھانے پر تشریف لائیں گے تاکہ میں مقدور بھران کی خاطر مدارات کر سکوں۔ ہنس کر کہنے لگے۔ انشا اللہ!!سراج الحق کی گاڑی دھرے دھیرے سرکنے لگی، میری بصارت سے جہاں تک ہو سکا ، وہاں تک ان کا تعاقب کیا، پھر میںنے بصیرت کی آنکھیں کھولیں، مجھے سید مودودی کی محفلیں یاد آئیں جو عصر کی نماز کے بعد اچھرہ میں برپا ہوتی تھیں ، مجھے میاں طفیل محمدرہ رہ کر یا دآئے، ان کا سا درویش منش اور کون ہو گا، ان کی ایک بیٹی نے مجھ سے رابطہ قائم کیا ہے اور میری کوشش ہے کہ ا س رابطے کو مستحکم رکھوں۔ مجھے وہ بھیگی ہوئی دوپہر بھی یادا ٓئی جب میںنے قاضی حسین احمد کاا نٹرویو کیا، یہ ایک ٹی وی چینل کے لئے تھا۔ اتفاق ایسا ہوا کہ یہ وڈیو انٹرویو ان آخری ثابت ہوا، وہ لاہور سے ایسے گئے کہ سفر آخرت پر روانہ ہو گئے۔سراج الحق سے بھی میری پندرہ برس پہلے ایک اخبار کے دفتر میں ملاقات ہوئی تھی، انہیں یاد نہیںہو گا، وہ اس وقت پشاور یا صوبے کی جماعت کے امیر تھے۔ ان کی شخصیت میرے دل میں کھب گئی ۔اب وہ ایک مہان شخصیت ہیں، قافلہ راہ حق کے سالار،ان کے قدموں کی دھول بھی کہکشاں بن کے چمکتی دمکتی ہے۔