ملالہ کے بعد لالہ ڈے....!

کالم نگار  |  حافظ محمد عمران

 اتوار کو پاکستان میں افطاری کے وقت کا کاﺅنٹ ڈاﺅن جاری تھا تو ادھر گیانا میں پاکستانی بلے بازوں کی وکٹیں گرنے کا سلسلہ، 47 کے مجموعی سکور پر جب پانچویں وکٹ گری تو امیدیں دم توڑنے لگیں۔ اس موقع پر شاہد آفریدی نے گراﺅنڈ میں قدم رکھا تو سماں ہی بدل گیا۔ رنز کے راستے میں کھڑی تمام دیواریں ایک ایک کر کے گرنے لگیں۔ مہمان ٹیم کے باﺅلرز کا دباﺅ ختم ہوا، شاہد آفریدی نے اپنے روایتی انداز جس میں وہ کبھی کبھی نظر آتے ہیں۔ شاٹس کھیلنے شروع کئے تو شائقین کے چہرے کھل اٹھے۔ آل راﺅنڈر نے 55 گیندوں پر 76 رنز کی اننگز میں پانچ چھکے اور چھ چوکے لگائے۔ میچ کا پہلا حصہ مکمل طور پر شاہد آفریدی کے نام رہا۔ پھر باﺅلنگ میں بھی وہ خوب چمکے اور سات وکٹیں لے اڑے اور ویسٹ انڈیز کے بلے بازوں کو بے بس کر کے رکھ دیا۔ ان کی گھومتی گیندوں کے سامنے کالی آندھی کے بیٹسمینوں کی وکٹیں بکھرتی رہیں اور پوری ٹیم 98 رنز پر ہی پویلین لوٹ گئی۔ پہلے میچ میں دونوں ٹیموں میں واضح فرق تجربہ کار شاہد آفریدی ہی رہے اور یہ حقیقی معنوں میں ”آفریدی ڈے“ تھا۔ سوشل میڈیا پر تو اسے ”لالہ ڈے“ بھی کہا جا رہا ہے۔ دو روز قبل پاکستان میں اور عالمی سطح پر ملالہ ڈے منایا گیا تو قوم نے ویسٹ انڈیز کو آﺅٹ کلاس کرنے پر لالہ ڈے بنا لیا۔ جبکہ ننکانہ صاحب والے عرفان الحسن بھٹی کا یہ کہنا ہے کہ ملک میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت کے بعد عوام کو یہ دوسری بڑی خوشی ملی ہے۔ پہلے میچ میں کامیابی خوش آئند ہے تاہم آفریدی کے لئے سب سے بڑا چیلنج کارکردگی کے سلسلے کو برقرار رکھنا ہے۔ کیونکہ ایک میچ میں جاندار پرفارمنس کے بعد مسلسل ناکام ہونے کے حوالے سے وہ خاصی شہرت رکھتے ہیں۔ ویسے شاہد آفریدی کی فٹنس کے حوالے سے شعیب اختر نے دلچسپ تبصرہ کیا ہے۔ ان کے آﺅٹ ہونے پر دنیا کے تیز ترین با¶لر شاید تھک چکا تھا۔ عزیزم سہیل عمران نے شاہد آفریدی کی اس کارکردگی کے حوالے سے فیس بک پر لکھا ہے کہ اب کوئی بولے نہ بولے ورلڈکپ 2015ءتک 76 ون ڈے پکے ہو گئے ہیں۔
دیگر کھلاڑیوں میں عوامی سطح پر غیر مقبول کپتان مصباح الحق نے ایک مرتبہ پھر اپنے روایتی دھیمے انداز میں بیٹنگ کی۔ خاصا وقت کریز پر رہے۔ نصف سنچری بھی سکور کی۔ ایک اینڈ سنبھالے رکھا اور شاہد آفریدی کو کھیلنے کا بھرپور موقع بھی فراہم کیا۔ ان کی بیٹنگ کا کامیابی میں بڑا حصہ ہے۔ ٹاپ آرڈر بلے باز ایک مرتبہ پھر ناکام رہے۔ چیمپئنز ٹرافی کی طرح اسد شفیق بغیر کھاتہ کھولے آﺅٹ ہوئے۔ انہیں اچھا گیند پڑ گیا۔ احمد شہزاد ضرورت سے زیادہ خود اعتمادی سے کھیلتے نظر آ رہے تھے گیند کو چھوڑنے، کھیلنے میں غلط اندازے نے ان کی وکٹیں ہوا میں بکھیر دیں۔ گیند کی لائن میں وہ اچھے انداز سے آ رہے تھے۔ نائب کپتان محمد حفیظ آﺅٹ سوئنگ سے بچنے کی کوشش میں ان سوئنگ پر وکٹ گنوا بیٹھے۔ محمد حفیظ کی ناکامیوں میں ایک اور اضافہ ہے۔ آئندہ میچ ان کے لئے مزید مشکل ہوں گے۔ عمر اکمل جلد بازی کر گئے۔ ناصر جمشید امپائر کے متنازعہ فیصلے کا شکار بنے۔ باﺅلنگ میں محمد عرفان آغاز میں وکٹیں حاصل کر کے مہمان ٹیم کو دباﺅ میں لے آئے اور بعد میں آنے والے با¶لرز نے اسکا بھرپور فائدہ اٹھایا۔ پاکستان نے کامیابی تو حاصل کر لی ہے تاہم ٹیم کمبی نیشن پر مزید کام کرنے اور کھلاڑیوں کو اعتماد دینے کی ضرورت ہے۔ اگر عمر اکمل سے وکٹ کیپنگ کروانا تھی تو پھر ریگولر وکٹ کیپر کو ساتھ لے کر جانے کی کوئی ضرورت نہ تھی۔ اگر کوئی بڑا نام باہر نکلتا ہے اور عمر امین ٹیم میں شامل ہوتا ہے تو یہ فیصلہ کرنے میں بھی گھبرانے والی کوئی بات نہیں ہے۔