زکوٰة بہترین ٹیکس ہے

کالم نگار  |  ڈاکٹر محمد اجمل نیازی

میں نہ زکوٰة دینے والوں میں سے ہوں نہ زکوٰة لینے والوں میں سے ہوں مگر میں زکوٰة دوں گا۔ میں تھوڑے سے پیسے بہت محترم خاتون راحیلہ بی بی کو دوں گا۔ کچھ اور لوگ بھی ہیں جن کی تفصیل اس کالم میں پیش کی جا رہی ہے۔ میرے خیال میں جو زکوٰة لینے والوں میں سے نہیں ہیں انہیں کچھ نہ کچھ دینا چاہئے۔ آج کل کی حکومتیں ٹیکسوں کے مسائل میں پھنسی ہوئی ہیں۔ وہ صرف ٹیکس کے محکمے کو ٹھیک کر لیں تو بات بن جائے گی۔ انکم ٹیکس افسران ٹیکس نادہندگان کے سرپرست ہیں۔ انہیں پتہ ہے کہ کون کون ٹیکس نہیں دیتا۔ ٹیکس کم دیتا ہے۔ ان کا حصہ اس میں ہوتا ہے۔ ان کے پاس ٹیکس بچانے کے ہزار طریقے ہیں۔ ان میں سے کوئی نہ کوئی امیر کبیر لوگوں کے کام آ جاتا ہے۔ جس طرح تھانیدار صاحب کو معلوم ہوتا ہے کہ ان کے علاقے میں مجرم کون ہے اور کون مجرموں کی سرپرستی کرتا ہے۔ پولیس افسران کے تعلقات کس کس کے ساتھ ہیں اور کس قسم کے تعلقات ہیں۔ انکم ٹیکس افسران کو تھانیدار سمجھیں۔ اس محکمے کے افسران بالا افسران تہ و بالا ہیں اور وہ پولیس افسران سے کم نہیں ہیں۔
ہمارے ہاں زکوٰة کا معاملہ بھی ٹیکس کی طرح کرپٹ کر دیا گیا ہے تو انہوں نے حکومت کو زکوٰة دینا چھوڑ دی۔ اس کے باوجود کروڑوں روپے جمع ہو جاتے ہیں مگر وہ جاتے کہاں ہیں؟ جب زکوٰة نافذ کی گئی تھی تو لوگوں نے کروڑوں روپے دئیے تھے مگر جب انہوں نے دیکھا کہ زکوٰة جمع کرنے والے لوگ بھی افسران اور حکمران بن گئے ہیں اور سب کچھ کھا پی جاتے ہیں۔ مستحقین تک کچھ نہیں پہنچتا تو انہوں نے زکوٰة دینا چھوڑ دیا۔ پاکستان میں زکوٰة خیرات دینے والے ہزاروں لاکھوں لوگ ہیں۔ کہتے ہیں کہ دنیا بھر میں خیرات دینے کے حوالے سے پاکستان پہلے نمبروں میں ہے۔ زکوٰة اگر مناسب طریقے سے لوگوں تک پہنچے تو لوگ امیر نہ بھی ہوں غریب نہیں رہیں گے۔ مدینے کی گلیوں میں لوگ زکوٰة لے کے پھرتے تھے اور کوئی زکوٰة لینے والا نہ ہوتا تھا۔ دونوں جہانوں کے مالک اور دونوں جہانوں کے لئے رحمت رسول کریم حضرت محمد نے فرمایا کہ مجھے یہ اندیشہ نہیں کہ میرے لوگ غریب ہو جائیں گے۔ مجھے یہ ڈر ہے کہ وہ امیر ہو جائیں گے۔ کہتے ہیں کہ ضرورت سے زیادہ امیر کبیر بے ضمیر بھی ہو جاتے ہیں۔ دل والے سرفراز شاہ نے کہا کہ امیر کے مقابلے کا لفظ غریب نہیں ہے فقیر ہے
یہی کچھ ہے ساقی متاع فقیر
اسی سے فقیری میں مَیں ہوں امیر
ایسے لوگ ہیں دنیا میں جو وفادار نہیں ہیں اور جنہوں نے فقیری میں امیری کی ہے اور وہ لوگ بھی ہیں بیچارے جو امیر ہوتے ہوئے بھی غریب رہتے ہیں۔ دل کی دولت بہرحال دولت سے بہت افضل ہے۔ دولت مند میرے لئے قابل قبول ہیں جو دردمند بھی ہوں۔
میں کچھ ہزار روپے لے کے محترمہ راحیلہ بی بی کی طرف گیا۔ لوگوں کو معلوم نہیں وہ زکوٰة نہیں دیتے۔ وہ فطرانہ بھی نہیں دیتے۔ اگر کسی کے ایک لاکھ روپے ایک سال تک بنک میں یا گھر میں پڑے رہیں تو اس پر 2½ ہزار زکوٰة فرض ہے۔ اپنے کسی مستحق عزیز اور اپنے آس پاس زکوٰة ضرور دیں۔ اگر چاہیں تو کسی جینوئن ادارے ہسپتال یا سکول مدرسے کو زکوٰة دیں۔ شیخوپورہ روڈ پر شیخوپورہ سے کچھ پہلے گاﺅں ”گالو“ میں اس کا سکول ہے۔ وہ شاہدرہ میں رہتی ہے۔ یہ اس کا سسرال ہے۔ یہاں بھی ایک سکول غریب بچوں کے لئے بنانے کی کوشش کی مگر اب شاہدرہ لاہور کا حصہ ہے اسے اپنا میکہ یاد آنے لگا۔ ”منڈھیالی“ یہ گاﺅں ہے اور اس کے اردگرد بھی گاﺅں ہیں۔ یہاں الزینب گروپ کے نام سے تین سکول بنائے ہیں زینب اس کی چھوٹی سی بیٹی کا نام ہے۔ شیخوپورہ روڈ سے اتر کر کچھ دور ایک گاﺅں ”گالو“ میں ایک مسجد کے اندر آغاز کیا۔ میں جب گاڑی میں وہاں پہنچا تو مجھے پتہ چلا کہ چھ سات میل کا فاصلہ کبھی کبھی پیدل چل کے راحیلہ بی بی طے کرتی ہے۔ اکثر سڑک سے کوئی سواری نہیں ملتی۔ شاہدرہ سے روز یہاں آنا بھی ایک جہدِ مسلسل ہے۔ مسجد میں کوئی کرسی نہ تھی۔ یہاں ٹاٹ بھی نہ تھے۔ میں بچوں بچیوں کے ننگے فرش پر بیٹھ گیا۔ جسے فرش کہنا بھی مشکل تھا۔ میلے کچیلے بچے جن کے تن پر پورے کپڑے نہ تھے۔ مٹی سے لتھڑے ہوئے پاﺅں کہ انہیں جوتی بھی میسر نہ تھی۔ میں نے معمولی کپڑے پہنے ہوئے تھے مگر وہ مجھے دیکھتے تھے کہ یہ کون آج ہمارے گاﺅں میں چلا آیا ہے ایسی جگہ پر سکول کی ابتدا کرنا ایک جہاد سے کم نہیں۔ کئی کئی میل دور سے بچے آئے ہوئے تھے۔ مولوی صاحب کسی بات پر خفا ہوئے تو وہ خاتون پاس ہی ایک دربار میں چلی آئی بچے بھی آ گئے۔ پھر کہیں سے دو کنال کا ایک ویران سا گھر ملا۔ وہاں سات کمرے تھے بلکہ کمرہ نما کچھ کوٹھڑیاں تھیں۔ چار کمرے خود بنائے۔ دیہات میں سکول بننے لگا تو کچھ بھلے لوگوں نے مدد کی۔ گوجرانوالہ کے بابا مظہر علی نے ایک لاکھ روپے دئیے۔ اس سے ابتدائی معاملات آگے بڑھے۔ اب مالک مکان اپنی جگہ واپس مانگ رہے ہیں۔ اب نئی جگہ سکول بنانے کا ارادہ ہے۔ گاﺅں کو نہیں چھوڑنا لوگ بھی خوش ہیں کہ بچے پڑھنے تو لگے ہیں۔
میں اور کرنل (ر) ضرار سکول دیکھنے گئے۔ کرنل ضرار ایک محب وطن دلیر اور دل والے انسان ہیں۔ ہم حیران رہ گئے کہ بچوں نے سکول کی پوری یونیفارم پہنی ہوئی تھی۔ ان کے پیروں میں جوتے تھے۔ نہ کوئی فیس نہ کتابوں کے پیسے۔ مفت تعلیم تو یہ ہے کہ جس کا وعدہ حکومت پورا نہیں کر سکی۔ وہ صاف ستھرے تھے۔ فرفر اردو بولتے تھے۔ بچے نظریہ پاکستان سے باخبر تھے۔ کچھ بچے ایسے تھے جو نظریاتی سمر سکول سے بھی ہو کے آئے تھے۔ اگلے برس کے لئے شاہد رشید سے گزارش کروں گا کہ ان کی ملاقات پاسبان نظریہ پاکستان ڈاکٹر مجید نظامی اور ڈاکٹر رفیق احمد سے کرائے۔ میں بہت پاکیزہ فطرت نظریاتی مزاج رکھنے والی محترمہ راحیلہ بی بی سے گزارش کروں گا کہ گرمی کی چھٹیوں کے بعد اپنے بچوں کے ساتھ ایوان پاکستان میں آئے۔
مخیر حضرات سے گزارش ہے کہ اس نیک کام میں اپنا حصہ ڈالیں خاص طور پر زکوٰة کے مستحق یہی لوگ ہیں۔ یہ سکول چل نکلے تو شاید سرکاری سکولوں میں بھی تعلیمی ماحول بن سکے۔ نظریاتی ماحول بھی بہت ضروری ہے۔ نظریاتی سمر سکول میں شہباز شریف نے اعلان کیا کہ پنجاب کے تمام ہزاروں سرکاری سکولوں میں ضرورت کی ہر چیز مہیا کی جائے گی۔ ان سے گزارش ہے کہ وہ ان پرائیویٹ سکولوں کی بھی حوصلہ افزائی کریں جو کاروباری نیت سے شروع نہیں کئے گئے۔ محترمہ راحیلہ بی بی کا فون نمبر 0344-5083922 ہے۔ ان کا اکاﺅنٹ نمبر 5969-1 ہے۔ پنجاب بنک شاہدرہ۔ آپ ان سے رابطہ کرکے سکول کا بھی معائنہ کر سکتے ہیں۔
ایک فلاحی ہسپتال ہے لاہور میں حجاز ہسپتال۔ جہاں زیادہ تر چھوٹی بستیوں کے خواتین و حضرات آتے ہیں۔ مفت علاج کے علاوہ گھر سے ہسپتال آنے جانے کا کرایہ بھی لے کے جاتے ہیں۔ اس ہسپتال کے لئے نوائے وقت کی معروف کالم نگار مسرت قیوم فنڈ ریزنگ کے لئے انچارج ہیں۔ وہاں نوائے وقت سے بھی لوگ آتے جاتے رہتے ہیں۔ ایک دفعہ سعید آسی، یٰسین وٹو اور خاکسار بھی ہسپتال کا وزٹ کر چکے ہیں۔ اس ہسپتال کے لئے زکوٰة اور خیرات ضروری ہے۔ میاں شہباز شریف تشریف لائے تھے اور پانچ کروڑ کا وعدہ کیا تھا۔ شعیب بن عزیز بھی اس حوالے سے باخبر ہیں۔ اس پیسے کو حکومت کی زکوٰة سمجھا جائے تو ثواب بھی ہو گا۔ مسرت قیوم کا موبائل فون نمبر 0333-4848001 ہے۔
اس کے علاوہ الخدمت فاﺅنڈیشن ہے جو یتیم بچوں کی کفالت کرتی ہے۔ اس ادارے کے شعیب ہاشمی نے مجھے کہا تھا یہ مستحکم ادارہ ہے اسے ابھی اور استحکام کی ضرورت ہے۔ اس کے علاوہ کوئی جہاں زکوٰة دینا چاہے زکوٰة ضرور دی جائے۔ یہی طریقہ معاشی خوشحالی لانے کا ہے۔ سیاست اور حکومت غربت کو بڑھا رہی ہے۔