جنابِ صدر سے۔۔۔ ”گولڈن ہَینڈ شیک؟“

کالم نگار  |  اثر چوہان

 صدر آصف علی زرداری، 12جولائی (جمعہ) کو۔ دُبئی چلے گئے تو خبر شائع ہُوئی کہ۔ ”اُن کا دُبئی اور لندن کا دَورہ تین ہفتے کا ہوگا“۔لیکن اُس کے ساتھ ہی پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر، قیاس آرائیاں شروع ہو گئیں کہ۔” جناب آصف زرداری کے عہدہءصدارت کی مُدت۔ 9ستمبرکو ختم ہو رہی ہے اور اب وہ پاکستان واپس نہیں آئیں گے۔ دُبئی یا لندن ہی میں رہیں گے۔ نئے صدر کا انتخاب، جناب آصف زرداری کی مُلک سے عدم موجودگی میں ہوگا اور نو منتخب صدر کے انتخاب تک۔ (آئین کی رُو سے)۔ سینٹ کے چیئرمین سیّد نیّر حسین بخاری، قائم مقام صدرِ پاکستان رہیں گے“۔ آئین ہی کے مطابق، اگر صدرِ مملکت اور چیئرمین سینٹ دونوں ہی مُلک سے باہر ہوں تو، سپیکر قومی اسمبلی ۔ قائم مقام صدر ہوتے /ہوتی ہیں۔ عام انتخابات سے قبل، عمران خان، عام جلسوں میں،”آصف زرداری صدارت سے استعفیٰ دو!“۔ کا نعرہ بلند کرتے تھے ، لیکن میاں نواز شریف نے، جلسوں یا پریس کانفرنسوں میں، اِس طرح کا کوئی مطالبہ نہیں کِیا تھا۔ ایک بار میاں صاحب نے، میڈیا کو اِس کی وجہ بھی بتائی اور کہا۔”اگر صدر زرداری استعفیٰ دے بھی دیں تو۔ چیئرمین سینٹ اور اُن کے بعد۔ سپیکر قومی اسمبلی قائمقام صدر بن جائیں گی اور اُن دونوں کا تعلق بھی تو، پیپلز پارٹی سے ہے۔فرق کیا پڑے گا؟“۔ عمران خان کہا کرتے تھے کہ۔ ”اگر پاکستان تحریکِ انصاف کو، قومی اسمبلی میں اکثریت حاصل ہو گئی تو مَیں، صدر زرداری سے، وزارتِ عظمیٰ کا حلف نہیں اُٹھاﺅں گا“۔لیکن میاں نواز شریف نے کہہ دیا تھا کہ۔ ”مسلم لیگ ن کو، قومی سمبلی میں، اکثریت مِل گئی تو مجھے ،صدر زرداری سے حلف لینے میں، کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔آصف زرداری منتخب صدر ہیں“۔
 ایک ٹیلی وژن انٹرویو میں، میاں نواز شریف نے کہا تھا کہ۔ ”شہباز شریف کبھی کبھی ، صدر زرداری کے خلاف ، سخت زبان استعمال کرتے ہیں، جو اُنہیں نہیںکرنا چاہیئے“۔میاں شہباز شریف ۔ عام جلسوں میں کہا کرتے تھے کہ۔ ”اگر عام انتخابات میں مسلم لیگ کو بھاری اکثریت مِل گئی تو مَیں، آصف زرداری کو، سڑکوں پر گھسیٹوں گا اور اُس سے قوم کی لُوٹی ہوئی دولت کی ایک ایک پائی وصول کروں گا“۔لیکن بڑے بھائی کی طرف سے،جنابِ صدر کے خلاف،سخت زبان نہ استعمال کرنے کی، نصیحت کے بعد، میاں شہباز شریف نے جو، پہلی تقریر کی، اُس میں انہوں نے کہا تھا۔ ”مَیں سچ نہیں چھُپا ﺅں گا۔ صدر زرداری صاحب!۔ مَیں آپ سے گذارش کرتا ہوں اور بڑے احترام سے کہتا ہوں کہ، آپ نے، گذشتہ5سالوں میں ، بے پناہ کرپشن اور لُوٹ مار کر کے جو ،اربوں رُوپے جمع کئے ہیں، وہ قوم کو واپس کر دیں!“۔کسی بھی حکمران (یا سابق حکمران) سے قوم کی لُوٹی ہوئی دولت وصول کرنے سے، پہلے بگلا پکڑنے کی ترکیب سیکھنا پڑتی ہے، لیکن اب کوّوں کی طرح بگلے بھی، بہت سیانے ہو گئے ہیں۔محترمہ بے نظیر بھٹو اور صدرزرداری کے نام سے،60کروڑ ڈالر(لُوٹی ہوئی دولت)۔سوئس بنکوں میں جمع تھے( شاید اب بھی ہوں)۔لیکن صدر زرداری نے اپنی۔”خُداداد ذہانت اور قائدانہ صلاحیتوں“۔کوبروے کارلاتے ہوئے ،پاکستان کے ذہین ترین وکلاءاور سُپریم کورٹ کو بھی ہرا دِیا۔جناب رحمن ملک آج کل فارغ ہیں۔ اُن کا برطانیہ میں بھی کافی اثر و رسوخ ہے۔ وہ اگر چاہیں تو کوشش کر کے، لندن کے۔Madame Tussauds۔میوزیم میں،جناب آصف زرداری کا مجسمہ بھی ،نصب کرا سکتے ہیں۔سابق وزیرِ اعظم راجا پرویز اشرف تو ،25دسمبر 2012ءکو (قائدِ اعظمؒ کے یومِ پیدائش پر، اقوامِ عالم کی معلومات میں اضافہ کر چکے ہیں کہ۔”پاکستان کی تاریخ میں صدر زرداری کے 5سالہ دور کو ۔ "Golden Age"۔(سنہری دور) سمجھا جائے گا“۔
 مَیں نے 28جون کو۔ ”اِک زرداری سب پر بھاری“۔ کے عنوان سے اپنے کالم میں لِکھا تھاکہ۔۔۔ جناب زرداری، جب تک صدرِ پاکستان ہیں، کیا سُپریم کورٹ کے حُکم سے ۔یا۔ ازخود وفاقی حکومت۔ اُن کا نام۔ ای ۔ سی۔ایل پر ڈال سکتی ہے؟۔ اور اگر جنابِ زرداری ، اپنی مقررہ مُدّت ختم ہونے سے ،15دِن پہلے ہی۔ ”میڈیکل چیک اپ“۔ کے لئے ، پُورے پروٹوکول کے ساتھ، بیرونِ مُلک تشریف لے جانا چاہیں تو اُنہیں کون روک سکتا ہے؟۔جناب جہانگیر بدر کے برادر نسبتی توقیر صادق کو، گرفتار کر کے،پاکستان واپس لانے میں، تین سال لگ گئے، صدر زرداری تو۔”قائدِ عوام اور فخرِ ایشیائ“ ۔کے ۔”روحانی فرزند“۔ ”دخترِ مشرق“۔ کے شوہر نامدار اور پاکستان کے سابق منتخب صدر ہوں گے۔پاکستان کے پہلے منتخب صدر۔ میجر جنرل سکندر مرزا کی طرح کمزور نہیں کہ۔جنہیں جنرل ایوب خان نے ،رات کے اندھیرے میں، زبردستی لندن بھجوایا دِیا تھا ۔اور وہاں وہ بھولی بسری داستان بن گئے۔ صدر زرداری تو اپنی مرضی سے گئے ہیں۔ جب صدارتی ترجمان، محترم فرحت اللہ خان بابر، یقین دہائی کرا رہے ہیں کہ۔”جنابِ صدر دُبئی اور لندن میں، اپنے بچوں سے ملاقات کر کے جلد واپس آجائیں گے، تو یقین تو کرنا ہی پڑے گا۔26جولائی 2013ءکو، صدر زرداری کی، 58ویں سالگرہ ہے۔ ممکن ہے موصوف۔ صدرِ پاکستان کی حیثیت سے، اپنی آخری سالگرہ اپنے بچوں ۔ جناب رحمن ملک اور جناب الطاف حسین کے ساتھ، لندن میں ہی منائیں۔
سرکاری ملازمت میں، عُمر کی مقررہ مُدت کے بعد، ریٹائرمنٹ کا رواج ہے، کئی سرکاری ملازمین ۔"Leave Prior Retirement"۔(قبل از ریٹائرمنٹ رخصت)۔ ایل ۔ پی۔آر۔ پر چلے جاتے ہیں۔اُن کے سینئر اور جونیئر ساتھی،اُن کے اعزاز میں تقریبات منعقد کرتے ہیں اور اُنہیں تحائف بھی پیش کرتے ہیں۔ ابھی جنابِ صدر کی رخصتی کی بات واضح نہیں ہے، لیکن ممکن ہے کہ ۔”مُلک اور قوم کے مُفاد“۔ میں، اُنہوں نے ،وقت سے پہلے، صدارتی عہدہ چھوڑ کر، ایل۔ پی۔ آر۔ پر جانے کا فیصلہ کر لیا ہو؟۔ 1997ءمیں ، اپنی وزارتِ عظمیٰ کے دوسرے دَور میں، وزیرِ اعظم نواز شریف نے (اُس دور کے وزیرِ خزانہ) جناب سرتاج عزیزکے مشورے پر، مہنگی مہنگی تنخواہیں پانے والے ،بہت سے سرکاری افسران سے۔"Golden Handshake"۔(سونے کا مصافحہ) کر کے،یک مُشت بھاری رقوم ادا کر کے اُنہیں فارغ کر دیا تھا۔ مَیں نے، اپنے کالم میں تجویز کیا تھا کہ۔ جو معمر سیاست دان ،بار بار انتخابات ہار جاتے ہیں، قوم اُن سے گولڈن ہینڈ شیک کر کے، اُنہیںمیدانِ سیاست سے، با عزت رُخصت کر دے، لیکن میری تجویز کو۔”فریقین“۔ نے، یکسر مسترد کر دیا۔مجھے یقین ہے کہ جنابِ زرداری ۔گولڈن ہَینڈ شیک پر مان جائیں گے۔