’’صدر زرداری زندہ باد ‘‘ آگے خود سمجھ لیں!

کالم نگار  |  ڈاکٹر محمد اجمل نیازی

رحمان ملک کے صدر زرداری کیلئے تو موبائل فون پر لطیفے چلتے ہیں۔ مجھے تو موبائل فون پر دھمکیاں ملتی ہیں۔ ’’ہم تمہیں قتل کر دیں گے، اگر اب تم نے صدر زرداری کے خلاف لکھا‘‘ میں نے تو کہیں جا کے مقدمہ درج نہیں کرایا۔ کہتے ہیں کہ تم صدر زرداری کے خلاف اپنے کالموں میں لطیفے لکھتے ہو ہمیں پیپلز پارٹی کے خلاف لکھنے پر اعتراض نہیں، بس تم زرداری پارٹی کے خلاف نہ لکھا کرو۔ لطیفے تو انجوائے کرنے کی چیز ہیں مگر حکمرانوں کو اس لطیفے پر ہنسی آتی ہے جو کسی دوسرے کے بارے میں ہو۔ چلیں اس لطیفے سے تو لطف اٹھایا جائے۔ ’’صدر زرداری زندہ باد۔ اس کے آگے تم خود سمجھ لو۔!‘‘ سنا ہے کہ یہ لطیفہ جب سپیکر قومی اسمبلی ڈاکٹر فہمیدہ مرزا بلکہ سنجیدہ اور رنجیدہ مرزا نے پڑھا تو وہ بھی زیر لب مسکرائیں۔ اس کے آگے جو وہ سمجھ کر مسکرائیں۔ ہمیں بتائیں ہم بالائے لب مسکرائیں گے۔ خواہ ہمیں چودہ سال کی سزا ہو اور ہماری ساری جائیداد ضبط ہو جائے۔ ہم اور بھی ہنسے کہ وہ ہمارا کیا کریں گے۔ ہماری جائیداد تو ہے نہیں بلکہ ہم سمجھتے ہیں کہ جائیداد انسان کی سب سے بڑی دشمن ہے۔ آدمی جب دنیا سے جاتا ہے تو سب جائیداد چھوڑ کر جاتا ہے۔ نجانے جمع کس کیلئے کرتا ہے۔جہاں تک قید کا تعلق ہے ہم نے کئی بار کاٹی ہے اب بھی کاٹ رہے ہیں۔ برادرم راجہ انور نے جیل میں کتاب لکھی تھی۔ ’’بڑی جیل سے چھوٹی جیل تک‘‘ ہمارے لئے تو گھر بھی قید خانہ ہے۔ صدر زرداری ہم سے آگے نکل گئے ہیں۔ ان کیلئے ایوان صدر بھی قید خانہ ہے۔ وہ صدر فضل الٰہی کی طرح خود ہنس لکھیں گے اس کیلئے ایوان صدر سے باہر آنا پڑے گا برادرم ڈاکٹر قیوم سومرو سے لکھوائیں گے صدر زرداری کو رہا کرو۔ زرداری صاحب کے دشمن بد دعا کرتے ہیں کہ وہ ساری عمر ایوان صدر میں رہیں۔ نجانے ان کی عمر کتنی رہ گئی ہے اس کے بعد لوگوں کو صدر زرداری کیلئے دعا بھی کرنا پڑتی ہے۔؎
خدا کرے تم سلامت رہو ہزار برس
اور ہر برس کے ہوں دن پچاس ہزار
مرزا غالب مزاحیہ شاعر بھی تھا۔ اس نے بادشاہ کیلئے قصیدوں میں کئی لطیفے لکھ دیئے ہیں جو اس کی سمجھ میں بھی نہ آئے تھے۔ رحمان ملک صدر زرداری کو سمجھائیں کہ لطیفے لطف اٹھانے کیلئے ہوتے ہیں۔ لفظ بہ لفظ سمجھنے کیلئے نہیں ہوتے البتہ عامر بن علی کا یہ شعر سمجھنے کیلئے ہے۔ آپ بھی سن لیں؎
حسن اور حکومت سے کون جیت سکتا ہے
یہ بتائو دونوں کی عمر کتنی ہوتی ہے
حکام نے عوام کو کوئی خوشی نہیں دی۔ وہ خود اپنے لئے غیر مادی خوشی تخلیق کر لیتے ہیں تو وہ بھی انہیں پسند نہیں۔ کوئی سُکھ کوئی آسودگی نہیں۔ ریلیف نہیں۔ صرف تکلیف بلکہ تکلیف ہی تکلیف۔ جب لوگ احتجاج کرتے ہیں سڑکوں پر آتے ہیں تو بھی حکمران خفا ہوتے ہیں۔ وہ شکر کریں کہ لوگ لطیفوں پر گزارہ کرنے لگے ہیں۔ ورنہ پاکستان میں گزر اوقات کا کسی راستے پر گزر مشکل ہوگیا ہے۔ اوپر سے امیر کبیر وزیر شذیر بے ضمیر سارے چھوٹے بڑے حکمران اور افسران وغیرہ بے چارے لوگوں کو ان کی اوقات یاد لاتے رہتے ہیں۔ غریبی کو بدنصیبی بنا دیا گیا ہے ورنہ اس طرح صدیوں سے وگ زندگی گزار کے مر جاتے ہیں۔ زندگی کرنا زندگی بسر کرنا اور زندگی گزارنا مختلف باتیں ہیں۔ مگر تینوں طرح کے لوگ مرتے ہیں تو ایک جیسے ہو جاتے ہیں۔
لطیفے تو ہر حکمران کیلئے بنے۔ ہمیشہ سے بنتے آرہے ہیں۔ لوگوں نے کتھارسس تو کرنا ہے۔ بدترین لوڈ شیڈنگ میں وہ راجہ پرویز اشرف اور صدر زرداری کو دعائیں دیں تو اس طرح لوڈ شیڈنگ اور بھی مزید گہری ہو جائے گی۔ وہ اس دوران لطیفے چلا کے خوش ہوتے ہیں تو حکمرانو…تمہارا کیا جاتا ہے۔
تمہاری شکل بگڑ گئی ہے یا تمہیں بوڑھے ہونے کی فکر مندی ہے۔تو کیا ہر گھر میں آئینہ توڑ دیا جائے۔ یاد رکھو کہ پھر آئینے کی ہر کرچی آئینہ بن جائے گی اور تمہاری آنکھوں میں چبھ جائے گی۔ آئین توڑنے والوں کا حشر بھی سامنے ہے۔ جوش ملیح آبادی کی طرح جوش و خروش پیداکرو؎
حیرت ہے کہ آئینہ جب میں دیکھتا ہوں
بوڑھا سا کوئی اور نظر آتا ہے
صدرجنرل ایوب سے صدر جنرل مشرف تک لطیفے چلے۔ موبائل نہیں تھا مگر تند ہوائیں انہیں سارے ملک میں پھیلا گئیں۔ تم کیا سمجھتے ہو کہ موبائل نہیں ہونگے تو تمہیں گھائل کرنے والے بھی نہیں رہیں گے۔ کس کس کو جیل بھجوائو گے۔ پھر تمہیں جیلیں بنوانا پڑیں گی جو تم نہیں بنوا سکو گے۔ ان پیسوں سے اپنے محلات کی آرائش اور اپنی آسائش مزید بڑھا لو گے۔ تم نے عوام کی زندگی عذاب بنا دی ہے۔ جو لوگ عذاب میں رہتے ہوئے بھی خواب دیکھ لیتے ہیں تو اسے غنیمت جانو۔ سکیورٹی کے نام پر تم نے دہشت گردی لوگوں کا مقدر کردی ہے۔ مولا علیؓ نے فرمایا۔ جو موت سے بھاگتا ہے وہ اصل میں موت کی طرف بھاگ رہا ہوتا ہے۔ صدر ایوب ہوائی جہاز میں تھا۔ کہنے لگا کہ میں ایک روپیہ نیچے پھینکوں تو ایک شخص خوش ہو جائے گا۔ تب ایک روپے کی بڑی قیمت تھی۔ اس نے پھر کہا کہ دس ہزار پھینک دوں تو دس ہزار لوگ خوش ہو جائیں گے۔ ساتھ بیٹھے ہوئے کسی لطیفہ باز نے کہا کہ آپ کس چکر میں ہو، خود نیچے چھلانگ لگا دو۔ سب لوگ خوش ہو جائیں گے؟ اس ملک میں حکام نہ ہوں تو عوام کو کوئی مسئلہ نہیں ہوگا۔ سابق حکمرانوں کیلئے بنائے گئے کئی لطیفے صرف نئے حکمران کا نام لکھ دینے سے زندہ ہو جاتے ہیں اور لوگ ہنس ہنس کے زندگی سے ہی بے نیاز ہو جاتے ہیں۔ لوگ خوشیاں بانٹتے ہیں۔ حکمران سب کچھ صرف اپنے چند لوگوں تک محدود رکھتے ہیں۔
صدر بش پر اپنے دور ظلم اور ظلمات کے آخری دنوں عراقی صحافی نے جوتے برسائے۔ یہ وڈیو ساری دنیا نے دیکھی۔ پھراس کی وڈیو گیمز بنیں اور ساری دنیا میں چلیں۔ کیا امریکی حکومت نے اس پر پابندی لگائی خود امریکی اس فلم پر خوش ہوئے۔ انہیں بھی شاید بش کے دور میں صرف یہی خوشی ملی تھی۔ صدر بش نے صرف یہ نیکی کی کہ یہ خوشی ان سے نہ چھینی۔ ورنہ اکثر پاکستانی حکمران اپنے لوگوں سے ہر خوشی چھین لیتے ہیں۔ صدر زرداری خود لطیفے بناتے ہیں لوگوں کو کیوں نہیں بنانے دیتے۔ ’’مجھے اپنی بیوی کے قاتلوں کا پتہ ہے۔ مگر تم مجھ سے نہ پوچھو صرف میرا ساتھ دو‘‘۔ اس کے بعد ایس ایم ایس میں لکھا تھا ’’ہنسنا منع ہے‘‘ میں صدر زرداری کیلئے لوگوں کی طرف سے کوئی لطیفہ نہیں لکھنا چاہتا۔ ان سے گزارش ہے کہ اس معاملے کو سیاسی نہ بنائیں۔ فوزیہ وہاب نے اپنے بارے میں ان باتوں پر خفگی کا اظہار کیا ہے۔ یہ واقعی زیادتی ہے۔ اس نے مجھے کہا کہ نوازشریف کیلئے کوئی لطیفہ نہیں بنتا۔ فوزیہ کبھی ملیں تو میں وزیراعظم کے طور پر ان کے بارے میں کئی لطیفے انہیں سنائوں گا۔ فوزیہ وہاب نے یہ بھی گلہ کیا کہ سارے ایس ایم ایس لاہور سے آتے ہیں۔ شازیہ مری اور فرزانہ راجہ کے بارے میں واقعی ناشائستہ باتیں سفر کرتی ہیں۔!