نیل کے ساحل سے…1

صحافی  |  آفتاب اقبال

صحرائے سینائی کی جنوب مشرقی پٹی سعودی عرب کے انتہائی قریب‘ اردن کے بالکل ساتھ اور اسرائیل سے تقریباً پچاس میل کے فاصلے پر ہے۔ یہ پٹی اپنے دلفریب موسم اور چھو کر گزرتے ہوئے بحر احمر کے سحرانگیز پانیوں کے سبب ایک بہت بڑا سیاحتی مرکز بن چکی ہے۔ اس کے ایک مقام کا نام شرم الشیخ ہے جس کا شمار شمالی افریقہ کے حسین ترین مقامات میں ہوتا ہے۔
عرب اسرائیل جنگ میں ہر بار پہلا اسرائیلی نزلہ اسی مقام پر گرتا ہے‘ پہلے پہل اس کا نام صرف سینائی ہی ہوتا تھا مگر اسرائیلی قبضے کے دوران اس کا نام شرم الشیخ رکھ دیا گیا حالانکہ یورپ سے چھٹیاں گزارنے آئی اور ساحل پر لیٹ کر دھوپ میں اپنے گورے رنگ کو بسکٹی مائل کرتی نیم برہنہ خواتین نے ’’ہنیر‘‘ ڈال رکھا ہے اس کے سبب تو اس مقام کا نام ’’بے شرم الشیخ‘‘ ہونا چاہئے تھا۔ آج کل یہاں آئی خواتین تو ان چھٹیوں کو زندگی کی غالباً آخری چھٹیاں سمجھ کر گزار رہی ہیں‘ ان کی طرف اگر آنکھ بھر کر نہ دیکھو تو سخت برا مانتی ہیں۔
صرف خواتین ہی نہیں یورپ سے آئے مرد حضرات بھی کپڑوں کی شدید قلت کا شکار ہیں۔ یہ احباب وہ ہیں جنہیں کسی شر پسند نے یہ کہہ کر پریشان کر دیا ہے کہ تم اپنے گورے رنگ کی وجہ سے نہایت بیہودہ لگتے ہو چنانچہ یہ بیچارے اپنا سارا وقت بحر احمر کے ساحل پر لیٹے ایک دوسرے کے جسم پر تیل ملتے اور اپنی رنگت بتدریج بدلتے دیکھ دیکھ کر خوش ہوتے رہتے ہیں۔ اس احمقانہ سے عمل کو ’’ٹیننگ‘‘ کہتے ہیں۔
فحاشی اور فرعون
شر م الشیخ اور اس کے ہوٹلوں اور نامہ خلیج کے چپے چپے پر نظر آنے والی یورپی عورتوں نے جو سماں باندھا سو باندھا ہے ہر انٹیک شاپ میں پڑے قدیم مجسموں کو دیکھ کر بھی بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ فحاشی اور بے حیائی مصر میں فرعون کے دور سے ہی سکہ رائج الوقت چلی آ رہی ہے۔ ویسے تو موہنجوداڑو اور ہڑپہ کے بعض مجسمے اور بت بھی کافی بے شرم سا منظر پیش کرتے ہیں مگر جو کچھ یہاں کے مجسموں میں فرعون صاحب کو کرتا دکھایا گیا ہے اس کے مقابلے میں تو ہمارے مجسمے بے حد ہومیوپیتھک دکھائی دیتے ہیں۔
ہمارے ایک خودساختہ گائیڈ نے بتایا کہ فرعون نے مذکورہ پوز میں یہ بت صرف اپنے حاسدوں‘ حریفوں اور دشمنوں پر اپنی مردانگی کی دھاک بٹھانے کیلئے بنوائے تھے حالانکہ انہیں دیکھ کر بے اختیار ہنسنے اور موصوف پر باآواز بلند لعنت بھیجنے کے علاوہ دل میں اور کوئی جذبہ پیدا نہیں ہوتا۔
قدیم مصری لوک داستانوں اور کہاوتوں میں بھی فرعون کے انہیں مشاغل و دیگر بیہودگیوں کا تذکرہ عام ملتا ہے۔ ہمارا ذاتی اندازہ ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ہاتھوں اس بدبخت کی لتریشن کے جملہ اسباب میں سے ایک اس کی واہیاتیاں بھی ہیں۔
جبل موسیٰ نامی مقام یہاں سے تقریباً چار گھنٹے کی ڈرائیو پر ہے۔ پہاڑ کی چوٹی تک پہنچنے کیلئے آپ کو تقریباً دو ہزار سیڑھیاں چڑھنی پڑتی ہیں تاہم مکہ مکرمہ کے قریب واقع غار حرا تک پہنچنا اس سے بھی کئی گنا مشکل ہے۔ کوہ طور کی یہ پہاڑیاں دنیا بھر کے یہودیوں کی توجہ کا مرکز رہی ہیں۔
بھارتی ریستوران میں کھانا
ہمارا قیام جس ہوٹل میں تھا اس کا اپنا نام تو بیرن ریزارٹ ہے مگر اس کے اندر تقریباً ہر مشہور تہذیب سے وابستہ ایک ’’تھیم‘‘ ریستوران موجود ہے جس میں اسی مخصوص تمدن کو ملحوظ خاطر رکھا گیا ہے۔ قدیم مصری اور سینائی ریستوران بہت عمدہ تھے۔ ہم دو چار دوستوں کے ساتھ گپ شپ کرتے تاج محل نامی ایک بھارتی ریستوران کی طرف جانکلے۔ قمر زمان کائرہ اور بجرانی بھی وہیں آن پہنچے اور سب نے باہمی مشورے سے طے کیا کہ آج کھانا یہیں کھایا جائے کہ پاکستانی کھانوں کے قریب تر تو یہی ہو سکتا ہے۔ عین اسی لمحے سرلنکن صدر پریما داسا بھی وہیں آگئے ہم نے ان کی وسیع و عریض مسکراہٹ دیکھ کر ان کا استقبال کرسی سے اٹھ کر کیا۔ کائرہ اور بجرانی بھی ان سے ملے۔ ہم نے جی کڑا کر کے انہیں کرکٹ ٹیسٹ میچ جیتنے پر مبارکباد بھی پیش کی حالانکہ یہ جیت ہماری اپنی ٹیم کی لتریشن کا نتیجہ تھی۔ سری لنکن صدر پریما داسا نے اپنی مسکراہٹ کو مزید وسعت بخشتے ہوئے کہا کہ نجانے کیوں کرکٹ میں جیتتے چلے جانا اب تو ہماری عادت بنتی جا رہی ہے سب کھلکھلا کر ہنسے مگر ہمارے ایک ساتھی صالح ظافرؔ عموماً ایسے مواقع پر خاموش رہنا گناہ کبیرہ سمجھتے ہیں۔ بولے ’’جناب صدر ابھی ون ڈے سیریز شروع ہوگی جس میں جیتتے چلے جانے کی بری عادت ہمیں ہے‘ آپ کو نہیں‘‘ اس پر ایک قہقہ مزید بلند ہوا جس میں لنکن صدر کی آواز سب سے نمایاں تھی۔
تقریباً ایک گھنٹہ انتظار کے بعد کھانا آیا مگر ہم نے آج تک اس سے زیادہ بد ذائقہ اور بے تکا کھانا پہلے کبھی نہیں کھایا۔ صالح ظافر نے بھارت کی اس ’’کارکردگی‘‘ پر بھی دلی اطمینان کا اظہار کیا۔ اگلے دن وہ ہر تیسرے آدمی کو اس ریستوران میں کھانا کھانے کی ترغیب دیتے پائے گئے تاکہ بھارتی ’’نیک نامی‘‘ میں مزید اضافہ ہو سکے۔ من موہن سنگھ کے ساتھ ملاقات کی وجہ سے اس دورے کا اہم ترین دن جمعرات ہے چنانچہ باقی کل۔!