دڑ وٹ آپریشن کٹ ملاقات؟

صحافی  |  رفیق ڈوگر

چلو اچھا ہوا میاں نواز شریف اور آصف علی زرداری کے درمیان ایک اور ملاقات کے امکانات روشن ہو گئے ہیں۔ صدر آصف علی زرداری نے ہمارے خرچ پر میاں جی کو ٹیلی فون کیا ان کے معاملات پر طویل تبادلہ خیال کیا اور عریض خیالات کے تبادلہ کے لئے ملاقات کی خواہش ظاہر کر دی اور میاں جی نے ’’ہم حاضر ہیں‘‘ کی خوشخبری سنا دی۔ یہ ملاقات کتنے عرصہ بعد ہو گی؟ اس کی کوئی اہمیت نہیں ہمارے لئے اور ہم جیسے دیگر عوام کے لئے۔ اس میں یہ خوشخبری ہے کہ پھر ملیں گے سینہ چاکان جمہوریت ‘ سے سینہ چاک۔ اس ملاقات میں ہو گا کیا ملاقات کے علاوہ اور کون کون حصہ لے گا اس میں؟ ظاہر ہے ایک تو ہو گی جمہوریت‘ میاں صاحب اور صدر زرداری کے علاوہ اس ملاقات میں اور ایک شامل ہو گا میثاق فروغ جمہوریت ایک ہوں گے میاں شہباز شریف صاحب۔ جمہوریت اور میثاق جمہوریت تو حسب سابق خاموش تماشائی ہوں گے میاں نواز شریف اپنے مہمان سے ان مسکینوں کے سروں پر دست شفقت رکھنے پر زور دیں گے جواب میں آصف علی زرداری اپنے برادر بزرگ سے نظم حکمرانی کے استحکام کے لئے مزید تعاون کی درخواست کریں گے۔ میاں شہباز شریف صاحب اپنے برادر بزرگ سے اپنے برادر خورد کی درخواست کو مزید قبول کرنے پر زور دیں گے جس کے جواب میں ان کے برادر خورد ان کی پنجاب کی حکمرانی کو سہارا دینے کے لئے اپنی طرف سے تعاون جاری رکھنے کا اعلان کریں گے اور میاں شہباز شریف اپنے برادر بزرگ کو اپنے برادر خورد کے اس جذبہ تعاون کے فیوض و برکات سے مزید آگاہ کریں گے جمہوریت اور میثاق جمہوریت خاموشی سے سنتے رہیں گے۔ تینوں بھائی مل کر کھانا کھائیں گے تصویریں بنوائیں گے اور رواں دواں نظام کے استحکام کے لئے ایک بار پھر ’’ہم ایک ہیں‘‘ کا اعلامیہ جاری کریں گے۔ ملاقات کے نتیجے میں ملک میں بجلی کی پیداوار بڑھ جائے گی؟ لوڈ شیڈنگ کا عذاب کم ہو جائے گا؟ نہیں ایسا نہیں ہو گا۔ مہنگائی اور بے روزگاری کم ہو جائیں گی؟ امن و امان کی صورتحال بہتر ہو جائے گی؟ پٹرولیم کی مصنوعات پر لگایا ٹیکس واپس لے لیا جائے گا؟ ڈرون حملے بند ہو جائیں گے؟ ہمیں افسوس کے ساتھ پیشگی خبر دینا پڑ رہی ہے کہ ایسا بھی نہیں ہو سکے گا اس ملاقات کے نتیجے میں کیونکہ یہ سب آمریت کا ورثہ ہیں اور آمریت کے ورثہ کی حفاظت اس جمہوریت کے لئے لازم ہے جس کے مزید فروغ اور استحکام کے لئے صدر آصف علی زرداری اتنی گرمی میں تعاون لینے آ رہے ہیں اور گھر آئے بھائی کی درخواست قبول کر لینا اس کے بزرگوں کا اخلاقی فرض ہوتا ہے۔ اس اخلاقی فرض کو سیاسی فرض ہرگز ہرگز نہ سمجھا جائے۔ صدر مملکت شریف برادران سے درخواست کریں گے کہ وہ ان کی گڈ گورننس کو مزید گڈ بنانے کے لئے وفاقی کابینہ میں پھر سے شامل ہو جائیں کیونکہ ان کے ایک سو کے قریب وزراء اور مشیروں کی فوج بے ظفر موج انہیں تھوڑی لگ رہی ہے۔ شریف برادران ان کی ایسی درخواست ایک بار پھر مسترد کر دیں گے اور اپنے صوبے یعنی پنجاب کی اپنی گورننس کو قابل رشک بنانے کے لئے صوبائی کابینہ میں چھوٹے بھائی کی پارٹی کو مزید وزراء شامل کر لینے پر خوش و خرم ہو جائیں گے۔ ایوان صدر کے بزرگ ترجمان کے مطابق ان کے صدر نے ہمارے خرچ پر کئے ٹیلیفون مذاکرات کے دوران سوات اور مالاکنڈ کے بے گھر افراد کی مدد کے لئے میاں صاحب کا شکریہ ادا کیا تھا۔ کیا سوات اور مالاکنڈ اس پاکستان میں نہیں ہوتے جس کی مسلم لیگ کے میاں جی قائد ہیں؟ کیا صدر آصف علی زرداری پورے پاکستان کے نہیں صرف سوات اور مالاکنڈ کے ہی صدر ہیں کہ وہ کسی باہر والے کی طرف سے مدد کا شکریہ ادا کر رہے تھے؟ اگر صوبہ سرحد کی صوبائی حکومت پنجاب کی حکومت کا ایسی مدد کے لئے شکریہ ادا کرتی تو بات پلے پڑ سکتی تھی پاکستان کا صدر پاکستانی پارٹی کے ایک سربراہ کا شکریہ ادا کرے؟ گویا وہ خود پاکستان کا مالک ہے اور دوسرے نے اس کی ذاتی مدد کی تھی؟ وہ بیان تو ایسا ہی تھا جیسے کسی باہر والے کی طرف سے مدد کا شکریہ ادا کیا جا رہا ہو صدر پاکستان کی طرف سے۔ تو کیا اس ملاقات میں بھی انداز وہی ہو گا کہ میں ہی تو پاکستان ہوں میری مدد کرو اور جو چاہو لے لو۔ میری حکمرانی کو مان کر اسے مضبوط ترین بنائو جو مانگو گے ملے گا میں نے کون سا اپنے پلے سے دینا ہے یقین نہ آئے تو اے این پی کے مالک و مختار سے پوچھ لو دے نہیں دیا میں نے ان کو پختون خواہ نام اپنی طرف سے ان کے مانگے بغیر؟ اس ہاتھ دو اس ہاتھ لو۔ میرے ہاں کیا خوب سودا نقد ہے اوباما سے حضرت اور مولانا تک سب گواہ ہیں۔ ملاقات میں تینوں بھائی ملک اور قوم کے لئے اپنے اپنے ذاتی دکھ درد کا بھی تبادلہ کریں گے اور پھر ملک اور قوم ہی کی خاطر ’’ساتھ دیں گے‘ ساتھ چلیں گے‘‘ کا اعلامیہ جاری کر دیں گے ایک بار پھر۔ کیا اس ملاقات کا سید یوسف رضا گیلانی کے جنرل کیانی جیسے آپریشن کلین اپ سے بھی کوئی تعلق ہے؟ ہونا تو چاہئے۔ جنرل پرویز مشرف کے خلاف آپریشن قبضہ شروع کرنے سے پہلے آصف علی زرداری نے ایسی ہی اہم ملاقات کی تھی میاں برادران سے رائیونڈ کے ان کے تبلیغی مرکز پر اور پیر الطاف حسین کے نائن زیرو مرکز پر بوقت ضرورت جہاں تک جانا پڑا وہ جا سکتے‘ قبروں پر بھی حاضری دے سکتے ہیں۔ اب بھی ان کو ضرورت تو تھی بھائیوں کی طرف سے مدد کی۔ اگر آپریشن آئینی کلین اپ شروع ہو جاتا ہے تو اس میں میاں برادران کا رویہ اور قوت فیصلہ کن ہوں گے۔ مگر وہ ہے کیا چیز جو ان کے برادر خور اس کے جواب میں دے سکتے ہیں شریفین کو آئینی آپریشن کلین اپ کے تو وہ خود اپنے کو علمبردار بلکہ المبردار بتاتے آئے ہیں۔ یہ بھی کہیں پڑھا تھا کہ امریکہ نے کسی این آر او میں میاں نواز شریف کو بھی شامل کر لیا ہے۔ ’’دڑ وٹ آپریشن کٹ وزارت عظمیٰ ملے گی‘‘ پر سمجھوتہ ہو گیا ہے اگر ایسا ہے تو پھر آصف علی زرداری کے پاس اب انہیں دینے کو کوئی چمکدار چیز نہیں دکھتی۔ مگر نہیں تیسری بار وزیراعظم بننے پر پابندی زرداری تعاون کے بغیر ختم نہیں ہو سکتی اور زرداری نے اپنی پارٹی کے ارکان کو میاں بیوی بچوں سمیت ایوان صدر بلا لیا ہے۔ جس کا ’’کھائو اس کا گائو‘‘ مہم میں تو وہ بھی تو میاں صاحبان کو ’’دڑ وٹ آپریشن کٹ‘‘ دے سکتے ہیں۔