شاہین کی نئی پرواز

شاہین کی نئی پرواز

میں نیو یارک پہنچا تو انہیںملنے مین ہیٹن گیا،اس بیش قیمت علاقے میں ان کا اپنا ریستوران تھا ، یہ تو ایک تہمت ہے کہ وہ اس کے مالک ہیں جبکہ عملی اورحقیقی طور پر یہ پاکستان سے آنے والوں کا کھلے بازوؤں سے استقبال کرتاہے ، کیپٹن خالد شاہین کو میزبان پاکستان کا خطاب دیا گیا ہے، اب کیپٹن صاحب لاہور آئے ہیں تو میںنے انہیں آواری ہوٹل کی اپنی بیٹھک میں مدعو کیا۔ یہ ون ٹو ون ملاقات تھی، کپتان صاحب خادم اعلیٰ کے قریب ترین مصاحب ہیں اور انہیں پنجاب حکومت نے ایک خصوصی مشن سونپا ہے۔اوور سیز پاکستانی اپنے ملک کی خدمت بھی کرتے ہیں، قیمتی زرمبادلہ بھیجتے ہیں، بیرونی ملکوں میں وہ دوسرے درجے کے شہری شمار کئے جاتے ہیں لیکن پاکستان واپسی پر ان کو تیسرے درجے کا شہری سمجھا جاتا ہے، قومی ایئر لائن بھی انہیں دونوں ہاتھوں سے لوٹتی ہے، ائرپورٹ پر کسٹم اورایف آ ئی اے کا عملہ انہیں مشکوک نظروں سے دیکھتا ہے اور ذلت آمیز سلوک روا رکھتا ہے،ا س مرحلے سے گزرنے کے بعد وہ گھر پہنچتے ہیں تو وہ یہ جان کر چکراجاتے ہیں کہ ان کے مکان یا پلاٹ پران کے اپنے رشتے دار قابض ہو چکے ہیں یا پراپرٹی مافیا ان پر ہاتھ صاف کر چکا ہے، تھانہ کچہری، بور ڈ آف ریونیو میںا ن کی سننے والا کوئی نہیں ، ہر کوئی ان کے بدن سے چیتھڑے بھی نوچنے کی کوشش کرتا ہے۔
میں اوور سیز پاکستانیوں کے روشن اور تابناک کردار کا ہمیشہ معترف رہا، گورنر سرور ہوں یا ملک غلام ربانی، طاہرصغیر ہوں یا سردار نصراللہ خان، میں نے ان کی ستائش میں کبھی بخل سے کام نہیںلیا، بلکہ کسی حد تک مبالغے سے کام لیتے ہوئے ان کے قصیدے لکھے، ابھی پچھلے برس اسٹیٹ بنک میں ڈپٹی گورنر کے منصب پر احمد سعیدچمن کا تقرر ہوا،تو میں نے ان کے اخلاق حسنہ کا تذکرہ کیا، ہمارے اوور سیز پاکستانی بھائیوںنے اپنے وطن کا نام روشن کیا، وہ مزدوری کے لئے گئے، یا پیشہ ورانہ خدمات کی انجام دہی کے لئے، وہ ڈاکٹر تھے یا انجینئر، سافٹ ویئر ماہرین تھے یا اعلی پائے کے سائنس دان، انہوں نے بیرونی معاشرے میں مسابقت کی دوڑ میں اپنا لوہا منوایا۔ناسا میں ان پرآنکھیں بند کر کے اعتماد کیا جاتا ہے،ڈاکٹر سعید اختر درانی ہمارے ہاں ماہر اقبالیات کے طور پر مشہور ہیںمگر وہ اس ٹیم کاحصہ بنے جس نے چاند کے ٹکڑوں پر تحقیق کی۔ گلاسگو میں شوکت بٹ اور ہڈرز فیلڈ میں میاں عبدا لوحیدنہ ہوتے تو پاکستان کے ادیبوں ا ور شاعروں کو بار بار برطانیہ جانے کے مواقع نصیب نہ ہوتے، اسکنڈے نیویا کے ممالک میں بھی ادب دوست پاکستانیوں نے ہمارے شاعروں کی میز بانی کی، جاپان میں عامر بن علی نے اردو شاعری کو نئی جہت سے روشناس کیا، وہ لاطینی امریکہ کے ادب کو اردو شاعری کے قالب میں ڈھالنے کا اعزاز بھی رکھتے ہیں۔
مگر دو سال سے ہمارے ہاں ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے، اس کا آغاز ڈاکٹر طاہرالقادری کی سیاسی مہم جوئی سے ہوا، کچھ لوگوں کو ان کے عزائم پر شک گزرا،سپریم کورٹ نے بھی ان کو رگڑا دیا۔اس سے ہر اوور سیز پاکستانی کا دل دکھا، ان شکوک و شبھات کے ازالے کے لئے گلاسگو سے بشیر مان آئے ، وہ پہلے ایشائی ہیں جو برطانوی سیاسی اداروںمیں الیکشن لڑ کر کامیاب ہوئے، اسکاٹش اخبارات نے سیاہ حاشیوںمیں ان کی کامیابی کی خبریں لگائیں۔ مگربشیر مان نے استقا مت اور تدبر سے کام لیا اور دیگر اوور سیز پاکستانیوں کو مقامی سیاست میں سرگرم ہونے کی تلقین کی۔ گلاسگو میں چودھری یعقوب کی کیش اینڈ کیری کا افتتاح ملکہ برطانیہ کے ہاتھوں ہوا، سر انورپرویز کے کاروبار نے بھی اپنا سکہ جمایا اور بیسٹ وے کا ادارہ اب پاکستان کی معیشت کے لئے بھی ریڑھ کی ہڈی کا کردار  ادا کر رہا ہے۔
ایک طرف اوور سیز پاکستانیوں کی محنت و مشقت ا ور دوسری طرف سے ان سے اپنے ہی وطن میں بد سلوکی۔میں ایک اوور سیز پاکستانی کا یہ طعنہ کبھی نہیں بھول پائوں گا کہ آپ لوگوں کو ہمارے نوٹ درکار ہیں ، ووٹ نہیں۔
کیپٹن خالد شاہین ان مسائل کو سمجھتے ہیں۔ وہ پنجاب حکومت کے تشکیل کردہ اوور سیز فائونڈیشن کے وائس چیئر مین ہیں، چیف منسٹر اس کے سربراہ ہیں مگر دنیا جانتی ہے کہ یہ بوجھ کپیٹن شاہین نے اٹھانا ہے، میرا پہلا سوال ہی یہ تھا کہ کیسے یہ بوجھ اٹھائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ذرا صبر سے میری بات سنیں ، ایک زمانہ تھا کہ نیویارک پر مافیا کا راج تھا، دن دیہاڑے، بھرے چوک میں لوگوں کو لوٹنے کی وارداتیں عام تھیں۔ عالمی سیاح نیو یارک جانے سے کتراتے تھے، اس لئے کہ اس پر مافیا کا راج تھا، یہی وہ وقت ہے جب میئر جولیانی منتخب ہوئے اور انہوںنے اپنے آپ سے عہد کیا کہ وہ شہر کو مافیا سے نجات دلائیں گے۔ ویسے جولیانی خود مافیا کے آدمی تھے لیکن اب ان کی سوچ بدل گئی تھی ، انہوں نے مافیا کے سرکردہ لوگوں کو بلایا اور سختی سے کہا کہ وہ جرائم کی سرپرستی سے باز آ جائیں ، جولیانی نے پولیس کو فری ہینڈ دیا اور اب مافیا کے عام ارکان تو کیا، ان کے سربراہوں کو گولیاں لگنے لگیں، میںنے کپٹن شاہین سے کہا کہ آپ کی باتوں سے ایسے لگتا ہے کہا کہ ا ٓپ شہباز شریف کا تذکرہ  تو نہیںکر رہے ، انہوں نے کہا کہ میاں شہباز شریف نے میئر جولیانی سے ایک ملاقات میں اپنے عزائم ظاہر کئے تو جولیانی نے اچھل کر پوچھا تو پھر آپ جولیانی بننا چاہتے ہیں۔ اس ملاقات میں کپٹن شاہین بھی موجود تھے، انہوںنے کہا کہ وہ پہلے ہی سے جولیانی بنے ہوئے ہیں۔
مجھے ساری کہانی کی سمجھ آ گئی، کیپٹن شاہین کاا نتخاب میاں شہباز شریف نے اپنے ایک معتمد کے طور پر کیا ہے ا ور انہیں یہ ٹاسک دیا ہے کہ وہ اوور سیز پاکستانیوں کے مسائل کا مداوا اسی انداز میں کریں جس طرح پاک فوج دہشت گردوں کا صفایا کر رہی ہے۔میںنے کیپٹن شاہین سے کہا کہ آپ فوجی ہیں، آپ جانتے  ہیںکہ فوج میں حکم چلتا ہے اور آپ کا پالا نوکر شاہی سے پڑے گا جو سرخ فیتے کی عادی ہے۔وہ کام ٹالنے کی ماہر ہے ، کپتان نے میری آنکھوںمیں آ نکھیں ڈالیں، اور کہا کہ نوکر شاہی کو جب پتہ ہو گا کہ میرے حکم کو مانے بغیر چارہ نہیں، تو کسی کی مجال نہں کہ وہ چوں چراں بھی کرے۔میںنے چند ٹیسٹ کیس بور ڈا ٓف ریونیو کے سامنے رکھے ہیں اور ان کو نتیجہ خیز بنا کر میڈیا کے سامنے آئوں گا، مجھے بڑھکیںمارنے کی عادت نہیں ، میری تربیت میں فوج کا عمل دخل ہے، اور فوج میں رہتے ہوئے بھی میںنے اپنا آپ دکھایا۔یہ بڑا کڑا وقت تھا، بھٹو نے انتخابی دھاندلی کے خلاف پی این اے کے جلوسوں پر قابو پانے کے لئے فوج طلب کر لی تھی، ایک روز گولی چلی تو لاہور   کے نوجوانوں نے سینے کھول دیئے،چند لاشیں ضرور گریں مگر پھر فوج نے گولی چلانے سے انکار کر دیا، فوج کی ہائی کمان نے تین بریگیڈیئرز کو معطل کر دیا، میں بھی ایک نوجوان افسر کے طور پر زیر عتاب آیا اور مجھے کوارٹر گارڈ میں بند کر دیا گیا۔میرے فوجی کیریئر کا خاتمہ عمل میں آ گیا اور میں روز گار کی تلاش میںبیرون ملک چلا گیا، میں نے ایک اوور سیز پاکستانی کے طور پر تمام مصائب کا سامنا کیا، اب مجھے اپنے اہل وطن کے مصائب کا خاتمہ کرنا ہے اور میںنے نوکر شاہی پر واضح کر دیا ہے کہ وہ روایتی سستی ترک کر دے۔اب اوور سیز پاکستانیوں کو عزت ملے گی، وہ مافیا کے راج سے چھٹکارہ پائیں گے۔ انہوں نے محکم لہجے میں انشا اللہ کہا اور میں  نے کہا کہ خدا آپ کو کامیاب کرے۔
 آواری ہوٹل سے نکلتے ہوئے کپتان نے کہا کہ مجھے معلوم ہے کہ آپ پاک فوج کے بے حد مداح ہیں ، اور میرے لئے بھی اعزاز کی بات ہے کہ آج میری یونٹ آرمی پبلک اسکول پشاور کی سیکورٹی پر مامور ہے۔
چلئے، میرے اور کپتان کے درمیان کچھ مشترکہ رشتہ نکل آیا۔