سیرت نبویؐ کی روشنی میں قومی یکجہتی کی ضرورت

کالم نگار  |  نعیم احمد
سیرت نبویؐ کی روشنی میں قومی یکجہتی کی ضرورت

قومی یک جہتی ہمارے ملک کی وحدت اور سلامتی کی ضامن ہے۔ اس کے بغیر نہ ترقی ہوسکتی ہے‘ نہ ہی منزلِ مقصود تک پہنچا جاسکتا ہے۔ پاکستانی قوم کی یک جہتی کا سرچشمہ دینِ اسلام ہے۔ ہمارے آباو اجداد نے اپنے اسی اسلامی تشخص کی بدولت خود کوہندوئوں سے الگ قوم ثابت کیا اور قائداعظم محمد علی جناحؒ کی زیرقیادت ایک الگ مملکت حاصل کی۔ مختلف رنگوں‘ نسلوں اور زبانوں کے حامل افراد کی شیرازہ بندی اسلام کی بدولت ہی ممکن ہوئی ہے۔ پیغمبر اعظم و آخرؐ کے امتی ہونے کے طفیل انہیں ایک خاص جہت عطا ہوئی ہے۔ اس جہت کا مقصد جہد مسلسل سے بالآخر ایک ایسی جدید اسلامی‘ جمہوری اور فلاحی ریاست کا قیام ہے جس کے ذریعے اقوام عالم پر یہ ثابت کیا جاسکے کہ سیاست‘ معیشت اور معاشرت کے حوالے سے دینِ اسلام کے زریں اصول آج بھی اسی طرح قابل عمل ہیں جس طرح حضور پاکؐ کی حیات طیبہ اور خلفائے راشدینؓ کے ادوار میں تھے۔ اس منزل تک رسائی حاصل کرنے کے لئے ہمارے پاس نبی آخر الزماںؐ کی سیرت طیبہ کی صورت ایک سرچشمۂ فیض موجود ہے۔ اپنے ظاہر و باطن کو اس کے مطابق استوار کرکے ہم بنی نوع انسان کے سامنے ایک قابل تقلید نمونہ پیش کرسکتے ہیں۔ وطن عزیز کو ان دنوں جن حالات کا سامنا ہے‘ ان کے تناظر میں قومی یک جہتی کی ضرورت بڑی شدت سے محسوس ہورہی ہے۔ اس ضرورت کے پیش نظر نظریۂ پاکستان ٹرسٹ نے ایوانِ کارکنانِ تحریک پاکستان لاہور میں دو روزہ سیرت النبیؐ کانفرنس کا انعقاد کیا جس کا موضوع ’’سیرت نبویؐ کی روشنی میں قومی یک جہتی کی ضرورت‘‘ تھا۔ کانفرنس کے دوران ملک کے ممتاز مشائخ عظام‘ علمائے کرام اور اہل علم و فضل نے سیرت رسول کریمؐ کے مختلف پہلوئوں پر روشنی ڈالی۔ کانفرنس کے پہلے دن تحریک پاکستان کے سرگرم کارکن‘ سابق صدر مملکت اور ٹرسٹ کے چیئرمین محترم محمد رفیق تارڑ نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ آپؐ کا اسوۂ حسنہ مخلوق خدا کے لئے تاقیامت مشعلِ راہ ہے۔ آپؐ کی محبت و عقیدت اہل اسلام کے ایمان کا حصہ ہے مگر آپؐ سے محبت کی شرط یہ ہے کہ ہم زندگی کا ہر لمحہ آپؐ کی اطاعت میں بسر کریں۔ اُنہوں نے کہا کہ طاغوتی طاقتوں نے چاروں اطراف سے پاکستان کو گھیرا ہوا ہے اور ان کے مقابلے کے لئے قوم میں اتحاد اور یکجہتی پیدا کرنی ہوگی اور ان صفات کو پیدا کرنے کے لئے اسوۂ رسول کریمؐ کا اتباع ضروری ہے۔ کانفرنس کے دوسرے روز چیف جسٹس(ر)میاں محبوب احمد نے کلمات صدارت میں کہا کہ جب دین اسلام ظہور پذیر ہوا تو اسے قبول کرنے والوں میں اطاعتِ رسولؐ کے طفیل بے مثال یک جہتی پیدا ہوئی۔ حضور اکرمؐ نے تین مواقع پر اپنی زبان مبارک سے دین اسلام کی روح بیان فرمائی: پہلی بار میثاقِ مدینہ کے موقع پر آپؐ نے عدل و انصاف کی سربلندی کو یقینی بنایا۔ دوسری بار فتح مکہ کے موقع پر یہ فرمایا کہ آج میں نے عِلم کا عَلم بلند کردیا اور جہالت کو اپنی ایڑی تلے کچل دیا اور تیسری بار خطبۂ حجتہ الوداع کے موقع پر خواتین کے حقوق کے متعلق احکامات صادر فرمائے۔ انہوں نے کہا کہ تحریک پاکستان کے مقبول عام نعرے ’’پاکستان کا مطلب کیا…لا الٰہ الا اللہ‘‘ نے برصغیر کے مختلف علاقوں میں قیامِ پذیر مسلمانوں کو ایک لڑی میں پرو دیا تھا۔ اس نعرے نے ان کے درمیان ایسی یک جہتی اور اتحاد پیدا کردیا تھا کہ وہ انگریزوں اور ہندوئوں کی سرتوڑ مخالفت کے باوجود اپنے لئے ایک الگ مملکت کے حصول میں سرخرو ہوگئے۔ آج مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے ذاتی مفادات کی بناء پر اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگیوں میں اسلام کو نزدیک ہی نہیں آنے دیا۔ اس پر مستزاد مختلف اوقات میں پاکستان میں برسراقتدار آنے والے سیکولر ذہنیت کے حامل حکمران ہیں جو اسلام کا استحصال کرتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ قومی یکجہتی کے فروغ کی خاطر مسجد کو بنیاد بنایا جائے‘ فروعی امور پر آپس میں الجھنے کی بجائے تعلیم و تحقیق پر توجہ دی جائے اور اس ضمن میں علمائے کرام بھی اپنی ذمہ داریوں کا احساس کریں تو پھر ایک متحد پاکستانی قوم کو دنیا کی کوئی طاقت آگے بڑھنے سے نہ روک سکے گی۔
کانفرنس سے نظریۂ پاکستان ٹرسٹ کے وائس چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر رفیق احمد نے اپنے کلیدی خطاب میں کہا کہ حضور پاکؐ کی سیرت طیبہ میں زندگی کے ہر شعبے کے حوالے سے رہنما اصول موجود ہیں۔ پاکستان کو ترقی و استحکام کی شاہراہ پر گامزن کرنے کے لیے قوم سازی کی اشد ضرورت ہے اور اس ضمن میں آپؐ کی سیرت طیبہ ہمارے لیے مشعل راہ ہے۔
کانفرنس کے آغاز پر نظریۂ پاکستان ٹرسٹ کے چیف کوآرڈینیٹر میاں فاروق الطاف نے شرکاء کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس کانفرنس کے انعقاد کا مقصد حضور اکرمﷺ کی سیرت طیبہ کی روشنی میں قومی یکجہتی کی ضرورت و اہمیت کو اجاگر کرنا ہے۔ پاکستان عشاقان رسول کریمؐ کی سرزمین ہے۔ موجودہ ملکی حالات کے تناظر میں ضروری ہو گیا ہے کہ پاکستانی عوام کو اپنی زندگیاں نبی مکرم حضرت محمد مصطفیﷺ کے اسوۂ حسنہ کے مطابق استوار کرنے کی یاد دہانی کرائی جائے۔
کانفرنس سے آستانۂ عالیہ چورہ شریف کے سجادہ نشین حضرت پیر سید محمد کبیر علی شاہ‘ درگاہ شرقپور شریف کے سجادہ نشین صاحبزادہ پیر میاں ولید احمد جواد شرقپوری‘ پیر اعجاز احمد ہاشمی‘ ڈاکٹر طاہر رضا بخاری‘ علامہ راغب حسین نعیمی‘ مولانا عبدالخبیر آزاد‘ علامہ احمد علی قصوری‘ علامہ نصیر احمد قادری‘ علامہ عبدالقدوس درانی‘ علامہ شہزاد احمد مجددی‘ مولانا امیر حمزہ‘ جسٹس (ر) ڈاکٹر منیر احمد مغل اور مولانا محمد بخش کرمی نے بھی خطاب کیا اور کہا کہ فرقہ واریت‘ مسلکی و فروعی اختلافات‘ صوبائیت‘ لسانیت اور دیگر کئی عوامل ہماری قومی یکجہتی کو شدید نقصان پہنچا رہے ہیں۔ اس صورتحال کے تدارک کے لیے ناگزیر ہے کہ پاکستانی قوم اپنے ظاہر و باطن کو سیرت نبویؐ کی روشنی سے منور کرے۔ دشمن قوتوں کے مکروہ عزائم کو ناکام بنانے کے لیے ضروری ہے کہ سیاسی و مذہبی جماعتیں اور ذرائع ابلاغ اتحاد اور یکجہتی کے فروغ کو قومی ایجنڈے کے طور پر آگے بڑھائیں۔ کانفرنس کے پہلے اور دوسرے دن اختتامی لمحات میں بارگاہ رسالت مآبؐ میں درود و سلام کا نذرانہ پیش کیا گیا اور وطن عزیز کی ترقی و خوشحالی‘ دہشت گردی سے نجات اور ٹرسٹ کے سابق چیئرمین محترم ڈاکٹر مجید نظامی کے بلندیٔ درجات کے لیے خصوصی دعا کی گئی۔کانفرنس میں نظریۂ پاکستان فورم برطانیہ کے صدر ملک غلام ربانی اعوان‘ ممتاز کشمیری رہنما مولانا محمد شفیع جوش‘ انجینئر محمد طفیل ملک‘فاروق خان آزاد‘ ڈاکٹر یعقوب ضیاء اور ایم اقبال شاکر نے خصوصی طور پر شرکت کی۔کانفرنس کی نظامت کے فرائض نظریۂ پاکستان ٹرسٹ کے سیکرٹری شاہد رشید نے بڑی عمدگی سے نبھائے۔