زخمی احتجاج۔۔۔!

         زخمی احتجاج۔۔۔!

پشاور سکول کے باہر شہیدوں کے والدین کے احتجاج اور زخمی جذبات کو پوری دنیا نے سنا اور محسوس کیا۔وزیر اعظم میاں نواز شریف اور عمران خان دونوں کے بارے میں قریبی حلقوں کا کہنا ہے کہ ’’نرم دل‘‘ ہیں مگر دونوں کی دماغی صلاحیت’’Slow‘‘ ہے ۔سیاسی بصیرت سے محروم ہیں۔ ڈی چوک دھرنا ،ٹرک واک،ڈھول ڈھمکا، بھنگڑے،گو نواز گو پریکٹس،استعفیٰ کی ضد،ایمپائر کی انگلی، سرکاری عمارتوں پر حملے،مار دھاڑ ،دن رات خطابات، پس پردہ شادی ، سیاسی دھمکیاں ، بڑھکیں،د یگر سرگرمیاں ، میڈیا کا نشہ،واہ واہ۔۔۔ ڈھائی مہینے اسی گہما گہمی میں گزر گئے۔ایک حساس صوبے کا وزیر اعلیٰ بمع ہمنوا قیادت کے ٹرک پر چڑھے ہوئے تھے۔صوبہ یتیمی کی حالت سے دوچار رہا۔ اسی دوران پشاور سکول میں سانحہ پیش آگیا اور دھرنے کا کاروبار لپیٹنا پڑا۔ دھرنا ختم نہ کرتے تو سیاست ہمیشہ کے لیئے ختم ہو جاتی۔ ایجنسیوں کی اطلاعات کے مطابق ریحام خان نے دھرنے کے دوران میل ملاپ کا سلسلہ شروع کیا ،ان دنوں خان صاحب وزیر اعظم کے استعفیٰ نہ ملنے کی وجہ سے شدید ذہنی دبائو کا شکار تھے ۔ یہی وہ لمحات تھے جب ایک ذہین و حسین خاتون نے ان کے دل میں جگہ بنا لی ۔مایوسی اورڈیپریشن میں اکثر مرد ایسے فیصلے کر جاتے ہیں۔ ریحام خان کے سابق شوہر ماہر نفسیات ڈاکٹررحمان سے ان کی سابقہ بیوی کی جانب سے الزامات کی بابت پوچھا گیا تو انہوں نے تمام الزامات مسترد کرتے ہوئے کہا کہ برطانیہ میں گھریلو تشدد ایک مجرمانہ کاروائی ہے اور جس پر سزا ہو سکتی ہے جبکہ میں لندن میں ایک اہم عہدہ پر فائز ہوں ،میرا کرمنل ریکارڈ صاف ہے ورنہ مجھے پریکٹس کی اجازت نہیں مل سکتی۔بچوں کا خرچہ بھی بر وقت دے رہا ہوں۔ برطانیہ کے قانون کے مطابق چائلڈ سپورٹ کے ساتھ تنخواہ کی سلپ لگانا پڑتی ہے تا کہ اس کے مطابق اخراجات کی تصدیق کی جا سکے۔سب جانتے ہیں کہ اس ملک میں کوئی ہیر پھیر نہیں چل سکتا ۔
 بات چونکہ میڈیا پر آئی تو سابق شوہر نے بھی وضاحت کر دی ۔عورت ہر معاشرے میں مظلوم سمجھی جاتی ہے اور عمران خان جیسے سادہ دل انسان کا دل موہ لینا مشکل نہ تھا۔ بعض اطلاعات کے مطابق خان صاحب شادی کا اعلان بروقت نہ کر سکے شاید کچھ عرصہ مزید نہ کرتے مگر بی بی سی سے خبر بریک کرادی گئی۔ سوشل و الیکٹرانک میڈیا پر ریحام خان کی کردار کشی ہوئی تو خان صاحب کو اعتراف کرنا پڑا۔  بیگم گھر میں موجود تھیں،مولوی صاحب کو گھر بلانا پڑا۔نہ خود کہیں جانا پڑا اور نہ ڈولی لانا پڑی۔ عمران خان اپنی بیگم کے ہمراہ 21 گاڑیوں  کے ساتھ  شہداء کے سکول پہنچے لیکن والدین کے احتجاج نے ان کو آئینہ دکھا دیا۔فلم الٹی چل پڑی۔ خان صاحب نے ٹرک پر کھڑے ہو کر دعویٰ کیا تھا کہ ان کے خلاف ایک نعرہ بھی لگا وہ استعفیٰ دے دیں گے ۔ شہداء کی مائوں نے کہا کہ سب سیاست دان جھوٹ بولتے ہیں۔  ہم نے شفقت محمود سے آن ریکارڈ کہا تھا کہ یہ گو گو کے نعرے جلد ان کا تعاقب کریں گے۔آج پشاور سکول کے باہر کے مناظر ساری دنیا نے دیکھے۔ سکول کے باہر تحریک انصاف کے لیڈر اور خیبر پختونخوا کے حاکم کے خلاف نعرے بازی کی گئی جبکہ سکول کے اندر کرکٹ کے ہیرو کا ویلکم کیا گیا ۔ بچے غیر سیاسی ہوتے ہیں اور انہوں نے غیر سیاسی عمران خان کا ویلکم کیا تھا،تحریک انصاف کے قائد کا نہیں۔’’گو عمران گو‘‘ اور شادی کا طعنہ در اصل عمران خان سے ناراضی کا اظہار تھا ۔ خیبر پختونخواہ کے عوام کو خان صاحب سے بہت امیدیں وابستہ تھیں اور گلہ ان سے کیا جاتا ہے جن پر مان ہو ۔ وزیر اعظم پاکستان سے بھی بہت امیدیں وابستہ تھیں مگر ہر طرف موت رقص کرتی دکھائی دے رہی ہے۔ والدین کے جذبات زخمی ہیں،سیاستدانوں سے دل برداشتہ ہونا یقینی ہے۔ سیاسی ڈرامے مزید جاری رہے تو مظلوم مائیں سڑکوں پر نکل آئیں گی ۔عمران خان نے اپنی طویل سیاسی جدوجہدشیخ رشید اور شاہ محمود قریشی کی جھولی میں ڈال دی ہے اور ان کے اکسانے پرجاوید ہاشمی کو دودھ سے مکھی کی طرح نکال باہر کیا۔ہارون الرشید نے درست کہا کہ ابھی خان صاحب ہمارے خلوص کو نہیں سمجھ پا ئے لیکن جب تحریک انصاف کی تاریخ لکھی گئی تو مخلصین کی آراء کو تاریخ کے آئینہ میں سمجھا جائے گا۔