توہین آمیز خاکوں کی اشاعت کیخلاف حکومتی اور اپوزیشن ارکان کا مثالی اتحاد

 توہین آمیز خاکوں کی اشاعت کیخلاف حکومتی اور اپوزیشن ارکان کا مثالی اتحاد

جمعرات پارلیمنٹ میں اس لحاظ سے غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے کہ پورے ایوان نے نہ صرف فرانس اور دیگر یورپی و مغربی ممالک کے اخبارات میں توہین آمیز خاکوں کی اشاعت کے خلاف متفقہ طور پر زوردار قرارداد مذمت منظورکی بلکہ ایوان سے باہر پارلیمنٹ ہائوس کے مین گیٹ تک مارچ کیا۔ وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے ایوان میں قرارداد پیش کرنے کی سعادت حاصل کی۔ وہ مارچ میں بھی پیش پیش تھے۔ وفاقی وزیر مذہبی امور سردار یوسف نے بھی صحافیوں سے بات چیت کے دوران اپنے مذہبی جذبات کا اظہار کیا۔ پارلیمنٹ میں دینی جماعتیں اور آزاد خیال سب ایک ہی’’ صفحہ‘‘ پر تھیں اور ایمانی جذبہ سے سرشار ہو کر مغربی دنیا کو یہ باور کرا دیا ہے وہ انبیاء کرام کی توہین کسی صورت برداشت نہیں کریں گے۔ یہ بات قابل ذکر ہے احتجاجی مارچ میں غیرمسلم ارکان قومی اسمبلی نے بھی شرکت کی۔ تحریک انصاف کے مسلسل 40 روز غیرحاضر رہنے والے مزید 12 ارکان کو وارننگ جاری کی گئی۔ قبل ازیں پی ٹی آئی کے 9اراکین کو وارنگ جاری کی جاچکی۔ ایم کیو ایم نے کارکنوں کے قتل کے خلاف ایوان سے واک آئوٹ کر کے اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا۔ وزیر اعظم کی طرف سے وزراء کی حاضری لگوانے کی ہدایت پر وزراء کی فوج ظفر موج ایوان میں موجود تھی۔ قومی اسمبلی کی پریس گیلری میں صحافیوں نے یہ بات خاص طور پر نوٹ کی کہ چودھری نثار علی خان اور خواجہ آصف کے درمیان فاصلے بدستور قائم ہیں دونوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور نہ ہی سلام دعا کی۔ قومی اسمبلی میں اپوزیشن جماعتوں نے گیس سیس کے نفاذ میں مزید تین ماہ کی توسیع کے خلاف احتجاجاً واک آئوٹ کر دیا۔