اتا ترک اور بابائے قوم کی یاد میں؟

کالم نگار  |  ڈاکٹر محمد اجمل نیازی
اتا ترک اور بابائے قوم کی یاد میں؟

اتا ترک کا مطلب ہے کہ ترکوں کا باپ۔ بابائے قوم کا مطلب بھی یہی ہے۔ قوم سے مراد پاکستانی ہیں۔ قائداعظم کہا جاتا ہے تو اس کا مطلب بھی یہی ہے۔ ہمیں بھی ایک لیڈر کی ضرورت ہے۔ لیڈر حکمران بن سکتا ہے۔ حکمران لیڈر نہیں بن سکتا۔ ہمیں اب تک حکمرانوں سے واسطہ پڑا ہے۔ حکمرانی اور من مانی؟ لیڈر تو صرف قائداعظم ہے۔ انہیں حکمرانی کا موقع نہ ملا۔ یہ بھی ہے کہ حکمرانی کا موقع انہیں دیا ہی نہیں گیا۔ اس کے بعد قائداعظم کے ساتھیوں کو بھی یہ موقع نہ دیا گیا۔
میں نے بات اتا ترک سے شروع کی ہے۔ سیاسی دانشور جرات مند فرخ سہیل گوئندی جو آج کل ایک بہادر پبلشرز کے طور پر سامنے آیا ہے۔ وہ اپنی کتابیں شائع کرتا ہے جو دوسرے پبلشر شائع کرنے کی ہمت نہیں کرتے۔ اس نے اپنے اشاعتی ادارے کا نام جمہوری پبلی کیشنز رکھا ہوا ہے۔ جمہوریت عوامی تخلیقی سماجی انقلاب کا نام ہے۔
اتا ترک کے لئے پاکستان میں عجیب و غریب خیالات پائے جاتے ہیں۔ لوگ ترکی کی تعریف کرتے ہیں۔ اسے دوست اور برادر ملک کہتے ہیں مگر اتا ترک کے خلاف ہیں۔ اس نے مذہبی انتہا پسندی کو مسترد کیا اور ترکی کی ترقی میں رکاوٹ بننے والے سارے معرکوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ سلطنت عثمانیہ کے زوال کو اپنے کمال کے لئے استعمال کیا گیا۔ ورنہ ایک عظیم الشان سلطنت عالم اسلام ایک امید کی طرح تھی۔
اب دوبارہ مسلم تہذیب کے احیا کا زمانہ شروع ہوا ہے مگر اتا ترک کی عظمت کو بھی یاد رکھا جا رہا ہے۔ میرے خیال میں نئے اور پرانے زمانے کے امتزاج سے ہی کسی زندہ قوم کا مزاج بنتا ہے جو اسے قوموں کی تاریخ میں سرخرو ہونے کا مقام عطا کرتا ہے۔ ایک بہت شاندار اجتماع اس کتاب کی اصل روح کو سمجھنے کے لئے ہوا ہے۔ میرے خیال میں اس طرح کے اجتماعات ایک دوسرے سے رابطے کا سبب بنتے ہیں۔ بہت دیر سے بچھڑے ہمدم دیرینہ مل جاتے ہیں اور دل کی بات عام ہوتی ہے۔ رازوں کو فروغ ملتا ہے۔ رازوں کو فروغ دینے کا طریقہ یہ ہے کہ دوسروں کو اپنا ہمراز بنا لیا جائے۔ پنجاب یونیورسٹی کے دلیر اور دانشور وائس چانسلر ڈاکٹر مجاہد کامران نے کہا اسلام کی صحیح فہم کو عام کرنا ہو گا۔
لوگوں کی الجھنیں دور ہونا چاہئیں۔ کشیدگی اس طرح کشادگی میں بدلے گی۔ ورنہ دانشور سیاستدان وکیل لیڈر سنیٹر اعتزاز احسن کے بقول ہم تو ابھی اپنی شلوار کے سائز میں الجھے ہوئے ہیں۔ جس اجتماع میں لوگ کھلے دل و ذہن کے ساتھ باتیں سن لیں تو ایسی ملاقاتیں ہونا چاہئیں۔
آج تک یہ نمائندہ اجتماع بہت شاندار تھا۔ ایسے ایسے لوگ آئے اور اتنے لوگ آئے کہ کچھ دیر سے آنے والوں کے لئے مشکل بڑھ گئی کہ کہاں بیٹھیں۔ میں سیڑھیوں میں زمین پر بیٹھ گیا۔خوبصورت اور آزادانہ خیالات سے سجی ہوئی گفتگو کے دوران اعتزاز نے یہ بھی کہا کہ کمال کے سامعین ہیں۔ اجمل نیازی سڑھیوں میں بیٹھا ہے تو اعلیٰ کتاب کے لئے یہ کامیاب محفل آرائی کرنے پر فرخ سہیل گوئندی مبارکباد کا مستحق ہے۔
میرے ساتھ آ کے معروف شاعرہ رخشندہ نوید بیٹھ گئی۔ اعتزاز احسن نے رخشندہ نوید کا نام لے کے اس کی شاعری کی تخلیقی کیفیتوں کی تعریف کی۔ مجھے رخشندہ نوید کا ایک شعر یاد آیا ہے۔
میں پکڑتے پکڑتے ڈوب گئی
مجھ سے کچھ گر گیا تھا پانی میں
نوجوان طلبہ و طالبات بھی بہت تھے۔ پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ ابلاغیات کی ایک طالبہ نائمہ لاشاری بھی میرے پاس آ کے بیٹھ گئی۔ ایک سیٹ خالی ہوئی۔ وہ میرے اصرار کے باوجود زمین پر ہی بیٹھی رہی۔ دھرتی اور دل دھرتی کے ساتھ جڑے رہنے کا یہ جذبہ نوجوانوں میں نئی بلندیوں کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ نائمہ لاشاری اپنے شعبے کی ڈائریکٹر ڈاکٹر نوشتہ کے لئے بھی بہت اچھے جذبات کا اشارہ کر رہی تھی کہ وہ تعلیمی ماحول کو بڑے خوشگوار طریقے سے سازگار بنانے کی کوشش کر رہی ہیں۔
طالب علموں میں اتا ترک کے لئے جاننے کی خواہش حوصلہ افزا ہے۔ پچھلے دنوں پاکستان میں رومی فورم کے زیراہتمام ترکی کے برادر سپوت نے چند دوستوں کے لئے ترکی کے سفر کا اہتمام کیا۔ سینئر کالم نگار برادر حسن نثار حفیظ اللہ نیازی توفیق بٹ، حبیب اللہ کے ساتھ آٹھ دس دن کے لئے ہم نے ترکی کو دیکھا۔ ایک ترقی یافتہ اور تہذیب یافتہ ملک میں فتح اللہ گولن کی جدید اسلامی تحریک جو خدمت موومنٹ کے نام سے معروف ہے، جسے حسن نثار نے خدمت موومنٹ کہا ہے۔ مگر وہاں اتا ترک کے ساتھ محبت کرنے والے لوگ بھی بہت ہیں۔ کسی طرح مذہبی انتہا پسندی کی گنجائش ترکی میں نہیں ہے۔ پتلون کوٹ میں ملبوس لڑکیاں سکارف پہن کر باجماعت نماز میں بڑی بے خوفی سے شریک ہو جاتی ہیں۔ کسی طرح کی نظریاتی تفریق اور فرقہ واریت کہیں بھی نظر نہیں آتی۔ قدیم یاد سے جدید ترکی مزید آباد ہو رہا ہے۔ ایسے میں اتا ترک کی ایک جامع سوانحی عمری کا مطالعہ بڑا ضروری ہے۔ جس کا ترجمہ محترمہ ھما انور نے بہت جذبے سے کیا ہے۔
فرخ نے بتایا کہ اتا ترک نے کہا تھا کہ ترکی کسانوں کا ملک ہے۔ اچھا لگا کہ اعتزاز نے علامہ اقبال کے کئی اشعار سنائے۔ ایک نظم میں علامہ اقبال رسول کریم کی خدمت میں ایک فریاد کر رہا ہے۔
حضور دہر میں آسودگی نہیں ملتی
تلاش جس کی ہے وہ زندگی نہیں ملتی
اس نظم میں حضرت علامہ حضور کی خدمت میں جو تحفہ پیش کرتے ہیں اس شعر میں چھلک رہا ہے۔
چھلکتی ہے تری امت کی آبرو اس میں
طرابلس کے شہیدوں کا ہے لہو اس میں
سلطنت عثمانیہ کے آخری دنوں میں یہ لڑائی لڑی گئی تھی اور ترکی کو ایک مرد بیمار کہا گیا تھا۔ ایک نیم مردہ قوم کو اتا ترک نے ایک زندہ قوم بنایا برادرم افتخار مجاز نے تڑپتے ہوئے دل کے ساتھ کتاب اور خواب کو ملاتے ہوئے کسی انقلاب کی خبر دی۔ مجھے اپنے قبیلے کے سردار شاعری کے خان اعظم منیرنیازی کا شعر یاد آیا۔
بیٹھ جائیں سایہ¿ دامان احمد میں منیر
اور پھر سوچیں وہ باتیں جن کو ہونا ہے ابھی