سخت جان کھوپڑیاں

سخت جان کھوپڑیاں

فیرارو نے اٹلی کے ایک گیم شو میں اپنے سر سے کیلیں ٹھونکنے کا نیا ریکارڈ بنایا ہے۔ اس نے ٹریننگ، تیاری اور توجہ کو اس کامیابی کی وجہ قرار دیا ہے۔
فیرارو کا نام اب گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں شامل کیا گیا اور اسے 2 منٹ میں اپنی کھوپڑی سے سب سے زیادہ کیلیں ٹھونکنے والے کھلاڑی قرار دیا گیا ہے۔ فیرارو کو ”ہتھوڑا“ سر والا بھی کہا جاتا ہے اور اس سے پہلے وہ ایک منٹ میں اپنے سر سے سب سے زیادہ کیلیں ٹھونکنے والا کھلاڑی کا اعزاز بھی اپنے نام کرچکا ہے۔اس خبر پر حیرت ہوئی کہ ایک غیر پاکستانی باشندہ ”ہتھوڑا“ جیسا سر رکھتا ہے ؟ یہ کوالٹی پاکستانی باشندوں کی ہے۔ کافر اس میں بھی سبقت لے گیا ؟ پاکستان میں جو ہجوم آباد ہے اس کی دماغی حالت ایسی ہو چکی ہے کہ جتنے چاہو کیل ٹھونک لو بھلے ہتھوڑے برسا لو ، کچھ محسوس نہیں ہوگا۔ لاشے اٹھا اٹھا کر ہجوم خود لاش بن چکا ہے۔ گڈ گورننس کا نہ ہمیں مفہوم سمجھ آیا اور نہ کوئی تجربہ یا مشاہدہ کا شرف حاصل ہو سکا۔ وطن کی حالت دیکھ کر یقین ہو رہا ہے کہ اس کی پیدائش پر چند بدنیت اور بدعنوان افراد زچگی کے سرہانے صرف اس موقع کے منتظر کھڑے تھے کہ اس نوزائدہ کو آزاد فضا میں سانس لینے سے پہلے ہی اس کا گلہ گھونٹ سکیں ۔ اور قاتلوں نے گلہ گھونٹ دیا۔ اور پھر اس لاش کو قاتلوں کی نسلیں بھی نوچ نوچ کر کھاتی رہیں۔ لاش کو تروتازہ رکھنے کے لئے بدعنوانی کا ٹیکہ اور انسانی خون کی ڈرپ لگانا پڑتی ہے۔ پاکستان محمد علی جناح کے ساتھ ہی دفن کر دیا گیا ، یہ ایک لاش ہے جسے قاتل گھسیٹ رہے ہیں۔ لاش گڈ یا بیڈ گورننس سے بے نیاز ہو تی ہے۔ اس لاش کی چھاتی پر چلنے پھرنے والی زندہ لاشوں میں تھوڑے بہت بھی اگر احساسات رکھتے ہےں تو حکومت کو چاہیے کہ آئین میں ایسا قانون پاس کرائیں کہ ان کی کھوپڑیوں میں کیل ٹھونک کر فکس کر دیا جائے تاکہ سوچنے سمجھنے اور محسوس کرنے کی صلاحیت سے آزاد ہو سکیں۔ بے حسی اور بدعنوانی میں پاکستان کا نام گنیز بک آف ورلڈ میں شامل ہونا چاہیے۔ سر میں دو منٹ میں 38 کیل ٹھونکنے والے بے فیرارو کو لاہور میں رونما ہونے والے صرف حالیہ سانحہ کی روداد سنائی جائے تو یقیناً وہ دو منٹ میں سینکڑوں کیل ٹھونکنے کا ریکارڈ قائم کرے گا۔ ہے کوئی جو فیرارو کو یہ مختصر رپورٹ بھیج سکے۔ چیئرنگ کراس دھماکے کے باعث گزشتہ روز باغوں کا شہر لاہور سوگ میں ڈوبا رہا۔ سارا دن شہداءکے گھروں میں صف ماتم بچھی رہی اور ماو¿ں، بہنوں، بیویوں اور بیٹیوںکی دلخراش چیخوں میں جنازے اٹھائے جاتے رہے، جوان بھائیوں اور بیٹوں کے لاشے اٹھاتے، کلمہ شہادت بلندکرتے ہوئے ”مرد“ بھی دھاڑیں مار مار کر روتے اور پیاروں کو آہوں اور سسکیوں کے ساتھ سپردخاک کرتے رہے۔ وحید برادرز کالونی فیروزپور روڈ کی رہائشی جواں سال فاطمہ جمشید کا جنازہ اٹھا تو گھر میں کہرام برپا ہوگیا۔ بدقسمت لڑکی اپنے بھائی کے ہمراہ مال روڈ پر اپنی شادی کی شاپنگ کے سلسلے میں گئی تھی کہ چیئرنگ کراس سے بھائی کے ساتھ بائیک پرگزرتے ہوئے اسے موت کے ظالم پنجے نے آن دبوچا، شدید زخمی بھائی بلال دیوانہ وار اسے دھوئیں کے بادلوں میں ڈھونڈتا پھرا۔ اس کی ایک ماہ بعد ہونے والی رخصتی کی تیاریاں عروج پر تھیںکہ گھر میں صف ماتم بچھ گئی، دبئی میں مقیم نانی شادی میں شرکت کیلئے لاہور پہنچ چکی تھیں مگر دلہن بن کر امریکہ سدھارنے کی بجائے گھر بھر کی لاڈلی فاطمہ کی میت گھر پہنچ گئی تو والدہ یاسمین جمشید، بہنیں نیلم راحیل اور عاصمہ فیصل، ممانی نگینہ نوید ایک دوسری سے لپٹ کر روتی رہیں۔ نوائے وقت سے گفتگو میں انہوں نے بتایا کہ شادی کیلئے کارڈ چھپوائے جارہے تھے، عروسی ملبوسات اور زیورات کی تیاریاں زوروشور سے ہو رہی تھیں مگر ہمارے گھر کی خوشیوں کو نظر لگ گئی، وہ گھر سے ہنستی کھیلتی گئی تھی آخر کب تک ہم اپنوں کی میتیں اٹھاتے اور انسان نما درندوں کا نشانہ بنتے رہیں گے، دھرم پورہ کے رہائشی علی حسن عباس کا جنازہ اٹھا تو والدہ اور چاروں بہنوںکی دل فگار آہ وبکا سن کر سبھی کے ضبط کے بندھن ٹوٹ گئے۔ سفید پوش خاندان کا کفیل 23سالہ علی حسن لبرٹی مارکیٹ میں اپنے چھوٹے بھائیوںکے ہمراہ جیولری کا سٹال لگاتا تھا، ایم بی اے بھی کر رہا تھا، ایک ماہ قبل ایک بہن کی شادی کا فرض ادا کیا۔ علی حسن کی والدہ، والد غلام عباس نے کہا کہ حکومت چاہے جتنے مرضی پیسے دے مگر میرا بیٹا واپس لاکر مجھے نہیں دے سکتی، اس نے چھوٹی سی عمر میں سارے گھر کو سنبھالا ہوا تھا، وہ ہمارا کفیل، ہمارا سہارا، ہمارے بڑھاپے کی لاٹھی تھا، کیا پیسے بھی بیٹوںکے متبادل ثابت ہو سکتے ہیں؟۔ احتجاج کیلئے چیئرنگ کراس آنے والے پچاس سالہ یاسین خاندان کے واحد کفیل تھے اور شاذو لیبارٹریز میں ملازم تھے، احتجاج پر آتے ہوئے بیوی ثمینہ کو فون کیا کہ آج واپسی پر دیر ہوجائے گی، فیکٹری کی طرف سے احتجاج پر جارہا ہوں، پریشان نہ ہونا۔ گھر میں اکلوتی بیٹی کی شادی کیلئے سسرال والے کپڑوں کا ناپ لینے آئے بیٹھے تھے کہ ٹی وی پر قیامت ٹوٹنے کا علم ہوا۔ بیوی ثمینہ نے ہڑبڑا کر فون ملایا، جواب موصول نہ ہونے پر اپنے بھائی ماجد کو خیریت معلوم کرنے کو کہا مگر وہ میت لے کر ہی گھر پہنچا۔ یوں لاہور کا ایک اور شادی کی خوشیوں سے سرشار گھرانہ ماتم کدے میں تبدیل ہوچکا تھا۔ ڈی آئی جی ٹریفک لاہور سید احمد مبین شہید کی سبز ہلالی پرچم میں لپٹی میت کو جب آخری دیدار کیلئے رہائش گاہ واقع کینٹ پر لایا گیا تو انتہائی رقت آمیز مناظر دکھائی دئیے۔ ان کی والدہ اور اہلیہ شدت غم سے نڈھال ہوگئیں۔ اکلوتے بیٹے کی رحلت پر والدہ کی حالت دیکھ کر ہر آنکھ اشکبار ہوگئی، وہ بیٹے کا نام پکارتیں اور کہتیں میرا بیٹا دنیا کا سب سے اچھا بیٹا تھا تو کلیجہ منہ کو آجاتا۔ والد کی شہادت کی اطلاع سن کر طالبہ بیٹی حبہ خصوصی طور پر کراچی سے لاہور پہنچی۔ ان کی اہلیہ اپنا صدمہ چھپائے، سیاہ شال اوڑھے شہید کی والدہ کی ہمت بندھاتی رہیں کہ کیپٹن مبین حب الوطنی کے جذبے سے سرشار تھے، وہ شہید ہیں اور شہید ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔ خودکش حملے میں شہید ہونے والا نجی بنک کا اسسٹنٹ منیجر بلال امجد والدین کا اکلوتا بیٹا تھا جس کی شادی بارہ مارچ کو ہونا تھی۔ وہ گزشتہ روز بنک سکوائرسے ڈیوٹی کے بعد شام کو اپنی شادی
کے کارڈ تقسیم کرنے جا رہا تھا کہ دھماکے کی زد میں آگیا۔ والدہ یاسمین کا کہنا تھا ہم اکیلے رہ گئے بیٹیاں تو اپنے گھروں کی ہیں، ہمارے بڑھاپے کا سہارا چھن گیا دہشت گردی پر قابو پایا جائے ورنہ یونہی ماو¿ں کی گودیں اجڑتی رہیںگی۔ بہن نے کہا وہ ایک روز قبل مجھے شادی کیلئے انوائٹ کرنے آیا تو میرا دل جھوم اٹھا، میرے بھائی کے جیسا کوئی نہیں تھا، ہم اسے کہاں سے لائیں۔ سر میں دو منٹ میں 38کیل ٹھونکنے والے کافر فیرارو کو کون بتائے کہ مسلمان ریاست میں اس کے سر سے بھی زیادہ سخت جان کھوپڑیاں سانس لے رہی ہیں۔ نام نہاد گڈ گورننس کے زیر سایہ۔