نظریہ پاکستان ٹرسٹ کا 16 دسمبر اور ”آخری سلام“

کالم نگار  |  ڈاکٹر محمد اجمل نیازی

مجید نظامی سقوط مشرقی پاکستان کے لئے شہر کی واحد تقریب بلکہ پورے پاکستان میں سب سے نمائندہ اور سوگوار تقریب میں صدارتی گفتگو کر رہے تھے تو جنرل نیازی کا ذکر کیا اور میری طرف دیکھا اور کہا کہ اجمل نیازی سے معذرت کے ساتھ....؟ یہ میری بدقسمتی ہے مگر نیازیوں میں مولانا عبدالستار خان نیازی بھی تھے۔ اور وہ مرحوم حمید نظامی کے دوست تھے۔ مجید نظامی کے ساتھ ان کا بہت تعلق تھا۔ وہ فطری طور پر نوائے وقتئے تھے۔ پاکستان سے محبت کرنے والوں کے لئے نوائے وقت ایک نعمت ہے۔ ان کی تحریریں نوائے وقت میں شائع ہوتی تھیں۔ وہ کون لوگ تھے جنہوں نے حیلے اور بہانے سے ان کو وزیر بننے کی تحریک دی اور پھر اس سے فائدے انہوں نے اٹھائے۔ مولانا کے پاس تو ساری عمر اپنا مکان نہ تھا۔ چند کپڑے تھے اور دو چار پگڑیاں تھیں۔ میری پگڑی کی نسبت ان سے بھی ہے مگر وہ طرہ ضرور پگڑی میں رکھتے تھے۔ مجھ سے کسی نے کہا کہ تم کیوں نہیں رکھتے۔ میں نے کہا کہ پھر تم کہو گے۔ تم مولانا کی طرح عصا کیوں ہاتھ میں نہیں رکھتے۔ میں کہتا ہوں میرے ہاتھ قلم جو ہے اور میرے پاس ابھی کوئی طرہ¿ امتیاز نہیں۔ بہرحال مولانا کا دامن بے داغ ہے۔ ان کا دل بھی شفاف تھا وہ قائداعظم کے سپاہی تھے۔ ہمیں فخر ہے کہ انہوں نے ہمیں نیازی بنایا۔ میانوالی کے لوگ اپنے نام کے ساتھ خان لکھتے تھے۔ نیازی کا لفظ سب سے پہلے مولانا نیازی نے استعمال کیا اور پھر یہ عام ہو گیا۔ عمران خان بھی نیازی ہے اور اسے نیازی ہونے پر کیوں شرم آتی ہے۔ برادرم حفیظ اللہ خان نیازی اور برادرم انعام اللہ خان نیازی اس کے کزن ہیں۔ نظریہ پاکستان ٹرسٹ کی طرف سے منعقد کی گئی یہ تقریب بہت سوگوار اور شاندار تھی۔ شاہد رشید کمپیئرنگ کر رہے تھے۔ مجید نظامی کی خدمت میں گزارش ہے کہ میں جنرل نیازی کے لئے کئی دفعہ لکھ چکا ہوں۔ یا وہ نیازی نہ ہوتا یا میں نیازی نہ ہوتا۔ مجید صاحب نے یہ بھی کہا کہ جنرل نیازی پلٹن میدان ڈھاکہ میں اپنا پستول جنرل اروڑہ کے سامنے خالی کرنے کی بجائے اگر اپنے سر میں گولی مار لیتا تو کمال ہو جاتا۔ مجید صاحب کی اس بات کو میں اس طرح آگے بڑھاتا ہوں کہ یہ خودکشی ہوتی مگر میں اس خودکشی کو شہادت کہتا ہوں۔ اس طرح جو داغ ہزیمت ہماری پیشانیوں پر تھوپ دیا گیا ہے ہم اپنی شاندار اور جرات مندانہ ایمان افروز تاریخ کے سامنے تو شرمندہ نہ ہوتے۔ نظامی صاحب نے یہ بھی فرمایا کہ یہ عجب المیہ ہے وہ یوم آزادی منا رہے ہیں اور ہم یوم سوگ منا رہے ہیں۔ یہ سوگ صرف نظریہ پاکستان ٹرسٹ والے منا رہے ہیں ورنہ یہ دن اس طرح گزر جاتا ہے جیسے آیا ہی نہ ہو۔ اس کے لئے نظریہ پاکستان ٹرسٹ مبارکباد کا مستحق ہے۔ یہ بھی دیکھیں کہ مبارکباد بھی اس سوگوار لمحے میں کیسے دی جا رہی ہے؟ محفل میں اور بھی بولنے والے تھے۔ ایس ایم ظفر چیف جسٹس محبوب احمد کرنل جمشید ترین ڈاکٹر منظور خان رفاقت ریاض پروفیسر رضوان الحق بھی سٹیج پر تھے۔ رضوان الحق مجھے اس محفل میں بھی ملے جو پرامن انقلابی (پیس ایکٹوسٹ) فرخ سہیل گوئندی کے ادارے ”جمہوری“ کے زیر اہتمام شائع ہونے والی کتاب ”آخری سلام“ کی تقریب تھی۔ جو میجر آفتاب احمد نے سقوط مشرقی پاکستان کے حوالے سے لکھی ہے۔ اصل میں یہ سفرنامہ ہے جو مشرقی پاکستان کے جنگلوں دریاﺅں اور گلی کوچوں میں لڑی جانے والی جنگ کا احوال ہے۔ یہ بہت درد انگیز اور ولولہ انگیز کتاب ہے۔ پنجاب یونیورسٹی میں اس تقریب کی صدارت وائس چانسلر ڈاکٹر مجاہد کامران نے کی۔ جنرل حمید گل ڈاکٹر مجاہد منصوری کنور دلشاد عبداللہ گل ایثار رانا ریما گوئندی بھی تھے۔ میں چونکہ پہلا مقرر تھا تو میں کچھ بول کر چلا آیا۔ سٹیج سیکرٹری کی یہی مرضی تھی کہ میں چلا جاﺅں۔ تو میں دوستوں کی گفتگو سن نہ سکا۔ میں نے کہا کہ بہت پہلے مشرقی پاکستان کو ایک بھائی ملک کے طور پر الگ کر دیا جاتا تو وہ مشرقی پاکستان تو رہتا۔ یہ انوکھی کنفیڈریشن ہوتی جو بھارت کے لئے زیادہ خطرناک ہوتی۔ سقوط مشرقی پاکستان کے ذمہ دار سیاستدان بھی ہیں۔ جرنیل بھی مگر اصل ذمہ دار بیورو کریٹ ہیں۔ یہ افسران بالا ساری ناکامیوں بدنامیوں مشکلوں مصیبتوں کے ذمہ دار ہیں۔ اب مغربی پاکستان کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں۔ میں انہیں افسران تہہ و بالا کہتا ہوں۔ انہیں تبدیل کرنا مشکل ہے۔ انہیں کنٹرول کرنے کی ضرورت ہے۔ ہم مشرقی پاکستان کو روتے ہیں۔ سب نے مل کر مغربی پاکستان کو بھی قتل کر دیا۔ مغربی پاکستان کو ”نیا پاکستان“ کا نام دینا مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش کا نام دینے سے بھی تکلیف دہ ہے۔ مغربی پاکستان رہتا تو مشرقی پاکستان بھی یاد رہتا۔ اب ہمیں پاکستان کی پھر فکر لگی ہوئی ہے۔ مگر یہ تو یاد رکھیں کہ بنگلہ دیش ایک مسلمان ملک ہے۔ ہمیں بنگلہ دیشی سابق مشرقی پاکستانیوں سے کوئی عناد نہیں۔ ہمیں بدلہ بھارت سے لینا ہے۔ بھارت دوستی کا کشکول پکڑے ہوئے لوگوں سے گزارش ہے کہ بھارتی فوجیں ڈھاکہ میں داخل نہ ہوتیں تو کبھی مشرقی پاکستان بنگلہ دیش نہ بنتا۔ بھارت نے امریکہ اور روس سے مل کر عالمی سازش کو کامیاب بنایا۔ ہمیں اس دن یہ یقین کر لینا چاہئے تھا کہ بھارت دشمن ہے۔ ازلی دشمن ابدی دشمن۔ چند جرنیلوں کی وجہ سے پاک فوج کو بدنام کرنا ٹھیک نہیں ہے۔ اچھے جرنیل بھی ہیں۔ اور وہ فوجی جوان افسران جو جسم کو وطن پر قربان کرنے کے لئے نجانے کس کس مشکلوں کو آسانیاں بنا لیتے ہیں۔ کیچڑ سے بھری ہوئی وردیوں میں کیڑے پڑ جاتے ہیں مگر وہ لڑتے رہتے ہیں۔ زندگی موت کے احساس سے بھی گزر جاتے ہیں۔ میں ان جوانوں اور افسروں کو سلام کرتا ہوں۔ (اس میں میرا سلیوٹ بھی شامل کر لیں : مجیدنظامی) ”آخری سلام“ میں سب سے زیادہ مجھے کیفیت ملی ہے۔ وہ یہی ہے۔ سلام۔ سلام۔ سلام عجیب لوگ ہیں یہ خاندان عشق کے لوگکہ ہوتے جاتے ہیں قتل اور کم نہیں ہوتے