میں اب تک پتوار اُٹھائے پھرتا ہوں!

کالم نگار  |  خالد احمد

مستقبل کے خود ساختہ ’بھٹو ‘جنابِ عمران خان نیازی کا فرمانا ہے کہ وہ کچھ اِس شان کی عوامی رابطہ مہم چلائیں گے کہ لوگ ’مائی باپ‘ جنابِ ذوالفقار علی بھٹو کی عوامی رابطہ مہم کا تاثر بھول کے بیٹھے رہ جائیں گے! جنابِ ذوالفقار علی بھٹونے انتخابات جیت کر اپنی پہلی تقریر میں پاکستان کے اندر دُنیا کی سب سے طویل انتخابی مہم چلوانے پر اس وقت کی حکومت پر شدید تنقید کی تھی! اور اُسے اتنی طویل انتخابی مہم کے نتیجے میں پیدا ہونے والے انتہا پسندانہ نظریات کے فروغ کے نتائج بھگتنے کے لیے تیار رہنے کا عندیہ دے دیا تھا! آج جنابِ عمران خان نے جنابِ ذوالفقار علی بھٹو کی انتخابی مہم کی گردکسی غبار کی طرح اُڑا دینے کے عزم کا اظہار کیا، تو، ہم پر کھلا کہ وہ جانتے ہی نہیں کہ جنابِ ذوالفقار علی بھٹو ایک سیاست دان ہونے کے ناتے اپنی انتخابی مہم کی طوالت اور زورآوری کے بارے میں کوئی اچھی رائے نہیں رکھتے تھے! ہر کام کے آغاز اور انجام پر نگاہ نہ ہو،تو، ملک ویسے ہی حادثات سے گزرتے رہتے ہیں! جیسے حادثات ہمارا مقدر قرار پا گئے تھے! جنابِ ذوالفقار علی بھٹو اپنے سیاسی مخالفین کے لیے طرح طرح کے بیانات جاری کرتے رہتے تھے! کسی کو ’آلو‘ کہہ دیا! اور پھر اُس کا ٹمپریچر ماپ کر پوری قوم کو ہنسا دیا! کسی کو ’ڈبل بیرل خان‘ کہہ دیااور اُس کا سیاسی مستقبل لے بیٹھے! جنابِ عمران خان نے بھی یہی طور اطوار اپنائے ہیں! مگر، ان کے ریمارکس میں جنابِ ذوالفقار علی بھٹو جیسی کاٹ نظر نہیں آتی! اُن کا فرمانا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ نون جمہوری جماعتیں نہیں! ’فیملی لمیٹڈ‘ ادارے ہیں! حالانکہ پاکستان مسلم لیگ قاف ہو، یا، پاکستان مسلم لیگ فنکشنل ہو، چاہے پاکستان مسلم لیگ کنونشنل ہو ،یا، پاکستان مسلم لیگ کونسل ہو! حتیٰ کہ اے این پی ہو،یا جمعیت علمائے اسلام ہم کسی سیاسی جماعت پر سے یہ ٹھپا نہیں اُتار سکتے! تحریکِ استقلال سے جنابِ اصغر خان کا نامِ نامی منہا کر دیا جائے،تو، اس تحریک کا حال بھی تحریکِ انصاف سے جنابِ عمران خان کا نامِ نامی نکال دینے کے بعد والا حال ہو جائے گا!دوسرے لفظوں میں تحریکِ انصاف آنے والے دور کی ’فیملی لمیٹڈ‘ سیاسی پارٹی بننے والی ہے! اور اِسے اِس کے اِس انجام سے جنابِ عمران خان بھی نہیں بچا سکتے! جنابِ عمران خان کا فرمانا ہے کہ عام انتخابات کے دوران پاکستان تحریکِ انصاف کا کسی اور دوسری سیاسی جماعت کے ساتھ کوئی اتحاد نہیں ہو گا! حتیٰ کہ جماعت اسلامی جسے جنابِ نواز شریف کے ساتھ سیٹ ایڈجسٹمنٹ کا ٹاسک دے کر ’ مصر‘سے ’غلہ‘ لانے کے لیے روانہ کیا گیا ہے!تاکہ جنابِ عمران خان کی حیثیت نسبتاً بہترہو جائے!لیکن، جنابِ عمران خان نے اُنہیں ابھی سے بتانا ضروری گردانا ہے کہ وہ ناکام ہو کر بھی پاکستان تحریکِ انصاف کے دروازے کا رُخ نہیں کر سکے گی! اور اس دروازے پر لٹکتی زنجیرِ عدل کو ہاتھ بھی لگانے کی اجازت نہیں پا سکے گی!جنابِ عمران خان نے فرمایا ہے کہ جنابِ نواز شریف پاکستان سے پہلے پنجاب کو، تو،نیا بنا لیں ! پنجاب کی باگ ڈُور،تو،اس وقت جناب شہباز شریف کے ہاتھ میں ہے اور وہ پنجاب کے لیے جتنا ’نیا پن‘پیدا کر سکتے ہیں اس میں کہیں کوئی کوتاہی نہیں آنے دے رہے !حالیہ بارش کے بعد سڑکوں کا رخ کرنے والے لاہوریے گیندے کے پھولوں کی کیاریوں کے رنگ دیکھتے رہ گئے! جگہ جگہ کاریں کھڑی تھیں اور اُن میں سے بال بچے سڑک پر کھڑے آنکھوں ہی آنکھوں میں پھولوں کے رنگ چنتے اور اپنی روحوں میں سجاتے دیکھے جاتے رہے!اب جنابِ عمران خان کی سونامی دھکیلنے والے کیا جانیں کہ پھول کی مہک روحیں تازہ کر دیتی ہیںاور تازہ خون کی بوانتڑیوں میں گرہ ڈال دیتی ہے اور انسان کے لیے پیٹ پکڑ لینے کے بعد سانس لینا بھی دشوار ہو جاتا ہے !کاش جنابِ عمران خان ہمارے لےے کوئی بہت ہی خوبصورت سے پاکستان کا نقشہ پیش کرتے اور اس نقشے پہ کہیں کوئی سونامی پاکستان کی گلیوں میں خون کی ندّیاں بہانے کا پیغام نہ دے رہی ہوتی!تو، شاید ہم جیسے سفید بالوں کے ساتھ خواب دیکھنے والے بھی اُن کے بھرّے میں آ جاتے !پاکستان پیپلز پارٹی کے سرکاری شاعر جنابِ اعجاز رضوی نے کیا خوب کہہ رکھا ہے :خوابوں کے انبار اُٹھائے پھِرتا ہوںکاندھوں پر گھر بار اُٹھائے پھِرتا ہوںایک پرندے کی خاطر میں صدیوں سے شانوں پر اشجار اُٹھائے پھِرتا ہوںبچپن میں اِک کاغذی کشتی کیا ڈوبی میں اب تک پتوار اُٹھائے پھرتا ہوں