تیرا میرا شیشے کا گھر

کالم نگار  |  جاوید صدیق

جب وزیر داخلہ رحمن ملک یہاں نئی دہلی میں انڈین انٹرنیشنل سنٹر میں بھارت کی سپریم کورٹ بار کی طرف سے دئیے گئے ظہرانہ میں ایک ہندو سادھو کے ساتھ مل کر یہ شعر پڑھ رہے تھے کہ
تیرا میرا شیشے کا گھر میں بھی سوچوں تو بھی سوچ
پھر دونوں کے ہاتھ میں پتھر میں بھی سوچوں تو بھی سوچ
تو اس سے چند ساعتیں قبل وزیراعظم منموہن سنگھ اور اُن کی قومی سلامتی کے مشیر شیوشنکر مینن کو ایک طویل بھاشن دے چکے تھے جس میں پاکستان کے وزیر داخلہ سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ ممبئی حملوں کے ذمہ داروں کیخلاف کارروائی کریں۔ دونوں بھارتی لیڈروں نے پاکستان کو ڈومور کی ایک طویل فہرست تھمائی جس میں دراندازی روکنے اور حافظ سعید کے خلاف کارروائی کرنے کا مطالبہ بھی شامل تھا۔ وزیر داخلہ نے نئی دہلی میں اپنے 24 گھنٹے کے قیام کے دوران امن و آشتی کی بہت باتیں کی اور بھارتی قیادت کو یقین دلاتے رہے کہ پاکستان ہندوستان کے ساتھ اچھے تعلقات چاہتا ہے اور وہ امن و دوستی کا پیغام لیکر آئے ہیں اور پاکستان ممبئی حملے کے ذمہ داروں کیخلاف کارروائی کرے گا لیکن بھارتی قیادت پرانا راگ ہی الاپتی رہی اور یہاں کا میڈیا رحمن ملک کے لتے لیتا رہا کہ انہوں نے بابری مسجد کا ذکر کیوں کیا؟
ایک باخبر سفارتکار نے راقم کو بتایا کہ پاکستانی وزیر داخلہ کے دورہ نئی دہلی سے پہلے بھارتی میڈیا نے کرگل کی جنگ میں مارے جانے والے ایک کیپٹن کالیا کا مسئلہ اُٹھایا اور الزام لگایا کہ پاکستانی فوج نے حراست کے دوران کیپٹن کالیا کی ہڈیاں توڑ ڈالیں۔ یہ معاملہ بین الاقوامی عدالت انصاف میں جا سکتا ہے۔ رحمن ملک بھارت کے ساتھ ویزا پر ہونے والے سمجھوتہ پر عملدرآمد کے آغاز کے لئے نئی دہلی آئے تھے لیکن بھارتی قیادت اور یہاں کے میڈیا نے اُنہیں زچ کرنے کی پوری کوشش کی۔ رحمن ملک کی مسکراہٹیں کچھ زیادہ کارگر ثابت نہ ہو سکیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ بھارت نے ابھی تک سمجھوتہ ایکسپریس سانحہ کے ذمہ داروں کیخلاف کوئی اقدام نہیں کیا۔
گجرات میں نریندرا مودی نے 20 ہزار مسلمانوں کا قتل کیا لیکن اس کے باوجود دندناتا پھر رہا ہے اور تاحال اسے انصاف کے کٹہرے میں نہیں لایا جا سکا۔ نئی دہلی میں ساڑھے تین سو مساجد کو بند کر دیا گیا۔ ایسا ملک جو سیکولر ہونے کا دعویدار ہے اس سے کوئی پوچھنے والا نہیں۔ بھارت کے یہ سارے جرائم نظرانداز کئے جا رہے ہیں اور پاکستان کو بھارت اور اس کے ہمنوا ایک چارج شیٹ تھما دیتے ہیں۔ ایک زیرک تجزیہ کار کا کہنا ہے کہ پاکستان اور بھارت دونوں کے درمیان ویزوں کے حوالہ سے جو سمجھوتہ ہوا ہے اس پر بھی بھارتی رویہ کے باعث عملدرآمد مشکل ہو گا۔ بھارتی لیڈروں کی خوشنما باتوں کے پردے میں پاکستان مخالف سوچ چھپائے نہیں چھپتی۔