ایوان قائداعظم میں یوم آزادی کی پر شکوہ تقریبات

کالم نگار  |  نعیم احمد
ایوان قائداعظم میں یوم آزادی کی پر شکوہ تقریبات

بانی پاکستان کا الیکٹرانک پورٹریٹ نصب کردیا گیا،سابق صدر رفیق تارڑ ٹرسٹ کے وائس چیئرمین ڈاکٹر رفیق احمد سمیت دیگر شخصیات کی شرکت
مادرِ وطن پر قربان جائیں جس کے طفیل ہم اقوام عالم میں بطور ایک آزاد اور غیور قوم کے پہچانے جاتے ہیں۔آزادی سے بڑھ کر کوئی نعمت نہیں تاہم یہ آسانی سے میسر نہیں آتی۔ اس کی خاطر جدوجہد کرنے والوں میں سے بہت سوں کو صبح آزادی دیکھنی نصیب نہیں ہوتی کیونکہ وہ اپنی قوم کے کل کی خاطر اپنا آج قربان کر دیتے ہیں۔ یہ لوگ تحریک آزادی کے گمنام سپاہی ہوتے ہیں کہ ان کے اپنے خاندانوں کے سوا دیگر ہم وطن ان سے شناسا نہیں ہوتے مگر تاریخ کے اوراق میں ان بے نام شہداء کا تذکرہ شاہراہ آزادی کے شاہ سواروں کی حیثیت سے رقم ہوتا ہے ۔ شمعِ آزادی پر پروانہ وار فدا ہو جانے والوں کو خراج عقیدت پیش کرنا اورحیات افرادکی تکریم و توصیف قوم پر فرض ہوتا ہے۔ نظریۂ پاکستان ٹرسٹ ایک ایسا قومی ادارہ ہے جس کی بنیاد جدوجہد آزادی کے بے لوث کارکنوں محترم غلام حیدر وائیں اور جناب مجید نظامی نے رکھی ۔ اسے آگے بڑھانے میں بھی جدوجہد آزادی ہی کے ایک مخلص کارکن محترم محمد رفیق تارڑ اور ان کے ساتھ کارکنان تحریک پاکستان کلیدی کردارادا کر رہے ہیں۔پاکستان کے 70ویں سال آزادی کے موقع پر یہ ادارہ جہاں ان سات دہائیوں میں قومی ترقی کے سنگ ہائے میل کو اُجاگر کررہا ہے، وہاں اس نے 71ویں یوم آزادی کو بھی شایانِ شان انداز میں منایا اور ایوانِ کارکنانِ تحریک پاکستان لاہور میں ایک شاندار تقریب کا انعقاد کیا جس کے آغاز میں چیئرمین نظریۂ پاکستان ٹرسٹ جناب محمد رفیق تارڑ نے کارکنان تحریک پاکستان کے ہمراہ رسم پرچم کشائی ادا کی اورخانوادۂ حضرت سلطان باہو صاحبزادہ سلطان احمد علی نے ملک و قوم کی ترقی و استحکام کے لئے دعا کرائی۔ بعدا زاں وائیں ہال میں تقریب کا باقاعدہ آغاز ہوا ۔ محترم محمد رفیق تارڑ نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ برصغیر کے مسلمانوں نے بڑی جدوجہد اور قربانیوں کے بعد یہ مملکت حاصل کی تھی۔ ہم پر لازم ہے کہ قیام پاکستان کے مقاصد حاصل کرنے کیلئے جہد مسلسل کو اپنا شعار بنائیں۔ٹرسٹ کے چیف کوآرڈی نیٹر میاں فاروق الطاف نے خیر مقدمی کلمات اداکیے اور تقریب میں موجود نوجوانوں کو وقت کی قدر کرنے ‘علم حاصل کرنے اور منزل کا تعین کرنے کی تاکید کی۔ نظریۂ پاکستان ٹرسٹ کے سیکرٹری شاہد رشید نے معزز مہمانوں کو خوش آمدید کہتے ہوئے یوم آزادی کی مبارکباد پیش کی اور 70ویں سال آزادی کی اب تک ہونے والی تقریبات کا خلاصہ پیش کیا۔ انہوں نے بطور خاص پارکس اینڈ ہارٹی کلچر اتھارٹی کا شکریہ ادا کیاجس کے زیر اہتمام ایوان قائداعظم میں نہ صرف آتش بازی کا شاندار مظاہرہ کیا گیا بلکہ ایوان کے باہر بانی ٔ پاکستان کا الیکٹرانک پورٹریٹ بھی نصب کر دیا ہے ۔ تقریب میں نظریۂ پاکستان ٹرسٹ کے وائس چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر رفیق احمد‘ تحریک پاکستان ورکرز ٹرسٹ کے چیئرمین چیف جسٹس(ر) میاں محبوب احمد‘ جسٹس (ر) میاں آفتاب فرخ ‘ جسٹس(ر) خلیل الرحمن‘چوہدری نعیم حسین چٹھہ‘ افتخار علی ملک‘بیگم مہناز رفیع‘کرنل (ر) اکرام اللہ خان، چوہدری ظفر اللہ خان، بیگم بشریٰ رحمن، پروفیسر ڈاکٹر پروین خان‘ بیگم صفیہ اسحاق‘ بیگم خالدہ جمیل ‘خواتین و حضرات اور طلبا وطالبات کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔کارکنان تحریک پاکستان کی پذیرائی کیلئے انہیں سرخ گلابوں کے ہار پہنائے گئے ۔
رہبر پاکستان محترم مجید نظامی نے ایک بار کہا تھاکہ پاکستانیوں کو اپنا یوم آزادی اجتماعی توبہ کے دن کے طورپر منانا چاہیے۔ انہوں نے یہ بات اس تناظر میں کہی تھی کہ بحیثیت قوم ہم اللہ تعالیٰ سے بد عہدی کے مرتکب ہوئے ہیں۔ ہمارے بزرگوں نے ’’پاکستان کا مطلب کیا …لا الٰہ الا اللہ‘‘ قرار دے کر رب کائنات سے یہ وعدہ کیا تھا کہ اگر انہیں انگریزوں اور ہندوئوں کی غلامی سے نجات دے کر ایک آزادی ریاست عطا فرما دی جائے تو وہ اس کی سیاست، معیشت، معاشرت غرضیکہ قومی زندگی کے ہر پہلو کو احکامات الٰہی اور تعلیمات نبویؐ کے مطابق استوار کریں گے تاہم ایسا نہ ہو سکا اور قیام پاکستان کے حقیقی مقاصد سے روگردانی کی روش اختیار کر کے ان آرزوئوں اور امنگوں کو پائوں تلے روند ڈالا گیا جو مسلمانانِ برصغیر نے جدوجہد آزادی کے دوران پالی تھیں۔نتیجتاًآج دشمن ہماری آزادی کے درپے ہیں۔ وہ دہشت گردی کو ہمارے خلاف بطور ہتھیار استعمال کر رہے ہیں۔ بے گناہ پاکستانیوں کو خاک و خون میں نہلا رہے ہیں۔ فرقہ واریت‘ مسلکی اختلافات اور صوبائیت و لسانیت کو ہوا دے رہے ہیں۔یہ وقت باہمی سرپھٹول کا نہیں بلکہ دشمنوں کے مکروہ عزائم کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بن جانے کا ہے ۔ ہمیں فی الفور اللہ بزرگ و برتر کے حضور سجدہ ریز ہو کر اپنی کوتاہیوں کی معافی طلب کرنی چاہیے اور پاکستان کی وحدت اور سالمیت کی خاطر سردھڑ کی بازی لگا دینے کا عہد کرنا چاہیے۔ تقریب کے اختتام پر سجادہ نشین آستانہ ٔ عالیہ شرقپور شریف صاحبزادہ ولید احمد جواد شرقپوری نے مملکت خداداد کی ترقی و خوشحالی اور شہدائے تحریک پاکستان کے ایصال ثواب کیلئے فاتحہ خوانی کروائی۔بعدازاںتحریک پاکستان کے کارکنوں اور دیگر اکابرین نے مادرِ ملت پارک میں واقع تحریک پاکستان کے گمنام شہدائے کرام کی یادگار پرحاضری دی‘ پھولوں کی چادریں چڑھائیں اور فاتحہ خوانی کی۔
قبل ازیں وزیراعلیٰ پنجاب میاں محمد شہبا زشریف کی ہدایت پر پارکس اینڈ ہارٹی کلچر اتھارٹی ‘ لاہور نے 13اور 14اگست کی درمیانی شب ٹھیک بارہ بجے جوہر ٹائون میں واقع ایوانِ قائداعظم کے احاطے میں آتش بازی کاشاندار مظاہرہ کیا ۔ 15منٹ تک جاری رہنے والے اس مظاہرہ کوشاہراہ ِ نظریۂ پاکستان پر کھڑے افراد اور ایوان قائداعظم کے اطراف رہائش پذیرہزاروں لوگوں نے اپنے گھروں کی چھتوں سے دیکھا اور والہانہ انداز میں پاکستان زندہ باد اور قائداعظم زندہ باد کے فلک شگاف نعرے لگائے۔ یہ حسیں مناظر بہت سے افراد کیلئے ایوان قائداعظم کا ایک دلنشین تعارف ثابت ہوا کیونکہ اللہ کے فضل سے اس کا تعمیراتی کام تقریباً مکمل ہو چکا ہے اور عنقریب یہ پوری طرح فنکشنل ہو جائے گا۔