کچھ وسطِ صحرا سے گزرتے راستے پر!

کالم نگار  |  خالد احمد

گزشتہ 10روز سے جاری جشنِ آزادی نے پورے جوش و خروش کے ساتھ حصہ لینے والی نوجوان نسل ہماری خصوصی توجہ کا مرکز رہی! ہمیں یہ لوگ بہت سلیقہ مند،بہت متواضع اور بہت ہمدرد لگے! اِن نوجوانوں کے لچھن دیکھ کر ہمیں اپنا بچپن یاد آتا رہا! ہم یومِ آزادی پر اپنی گلیوں اور محلے میں سکیٹنگ کرتے! اور گھر لوٹ آتے! ساری ساری رات موٹر سائیکل بھگانے کا تصور ہمیں چھو کر بھی نہیں گیا تھا! کہ اُن دنوں یہ ’شیطانی چرخا‘ پاکستان تک نہیں پہنچا تھا! مگر، اب 13اگست کی رات کے بارہ بجتے ہی ایک غلغلہ بلند ہو جاتا ہے! جسے 24گھنٹے تک سرد رکھنا کسی کے بس کی بات نہیں رہ جاتی! ہماری عمر کے لوگ ان بچوں کے لیے سراپا دعا بن کے رہ جاتے ہیں! کیونکہ یہ ہمارے جیسے ہی خاندانوں کے چشم و چراغ ہوتے ہیں! ان کی سلامتی کی دعائیں کرتے ہم گھر لوٹ آتے ہیں! اور پھر اگلے ہفتے کی رات پھر یہی مناظر دیکھتے گھر پہنچ جاتے ہیں!
پاکستانی نوجوانوں کا جذبہ¿ تعمیر کسی حادثے کی صورت میں ہسپتالوں کے باہرخون کے عطیات دینے والوں کی طویل قطاروں سے نہیں ماپا جاسکتا!یہی،تو، چند لوگ ہوتے ہیں، جنہیں فوری طور پر ’یہ خبر‘ مل گئی ہوتی ہے! اس خبر کے عام ہوتے ہی یہ عطیہ گزار قطاریں طول کھینچتی چلی جاتی ہیں! اور بلڈ بینک بوتلوں اور بیگس کم پڑ جانے پر عطیات قبول کرنا بند کر دیتے ہیں! یہ ہے ہمارا جذبہ¿ ایثار!
13اگست کی شام جنابِ عمران خان ایک جلوس کی شکل میں جنابِ شیخ رشید کے ساتھ لیاقت باغ پہنچے،تو، اُن پر کھلا کہ بہت سے صفر اکٹھے کر لینے سے سیاسی قوت جنم نہیں لے پاتی! جنابِ خواجہ محمد آصف نے اس مختصر سے سیاسی اجتماع پر کافی لے دے کی! اور اُس اجتماع کی حقیقت عوام تک پہنچاتے رہے! مگر، وقت نیوز کے ناظر جنابِ مصطفی اس امر پر بہت خوش تھے کہ جنابِ عمران خان نے 13اگست 2012کی رات کسی سیاسی راہ نما ،یا، سیاسی جماعت پر کیچڑ نہیں اچھالا! اور اسے ایک اچھا شگون قرار دیا! ہم بھی جنابِ مصطفی کے زبان ہیں! مگر ہم جانتے ہیں کہ جنابِ عمران خان ’چپ شاہ کاروزہ‘ کسی وقت بھی افطار کر سکتے ہیں! لہٰذا ہم اُن سے کسی لمبی توقع رکھنا پسند نہیں کرتے!
ایک اُمید اور ایک نہ ٹوٹنے والی آس نے پاکستانی معاشرہ آج تک صحیح سمت میں رواں کر رکھا ہے! پاکستان کے غریب عوام دن رات محنت کرکے روٹی روزی کما رہے ہیں! اور اس شبانہ روز محنت کے نتائج ارتقائی مراحل کے سنگِ میل بنتے چلے جا رہے ہیں! پاکستانی قوم 65سال میں وہاں پہنچ چکی ہے، جہاں سے اُسے ایک لمبی ترقیاتی اُڑان بھرنا ہے! مگر، بیرونی قوتوں کے نمائندے اس ’رن وے‘ پر رکاوٹیں کھڑی کر کرکے اس پرواز کے روانہ ہونے میں تاخیر پر تاخیر کیے چلے جا رہے ہیں! یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہمیں اپنے آبی وسائل سے بھی بروقت فائدہ نہ اُٹھانے دیا! اور یہ فائدہ بروقت نہ اُٹھا پانے کے نتیجے میں بھارت کے لیے ان آبی وسائل سے بیش از بیش فائدہ اُٹھانے کی راہ ہموار کرتے چلے گئے! ہم نے اپنے زیرِزمین وسائل سے بھرپور فائدہ اُٹھانے کے تمام منصوبے موخر کردیئے کہ انہیں بہت سستے داموں غیرملکی سرمایہ کاروں کے حوالے کر دیا جائے! اور کمیشنیں کھری کر لی جائیں!
پاکستان اس وقت مقامی طور پر اپنی ضروریات کا 33فی صد معدنی تیل اپنے زیر زمین وسائل سے حاصل کر رہا ہے! مگر، اسی تیل سے حاصل ہونے والا فرنس آئل برآمد کیا جا رہا ہے! اور بجلی گھروںاور ریلوے کے لیے درکار فرنس آئل مہنگے داموں درآمد کیا جا رہا ہے! پاکستان کے بیشتر گیس ذخائر پر نصب مشینری گزشتہ ساڑھے چار برس سے غیرملکی آقاﺅں کے انتظار میں زنگ کھا چکی ہے! اور اب تک انہیں بحال کرنے کے احکامات زبانی ارشادات کے مرحلے سے آگے نہیں بڑھ پا رہے!
پاکستان کا ٹیکسٹائل سیکٹر کراچی کی صورتِ حال سے بدظن ہو کر بنگلہ دیش منتقل ہو چکا ہے! ہم بنگلہ دیش میں پاکستانی سرمایہ کاری کے مخالف نہیں! بلکہ ہم ،تو، اسے بھائی چارے کی طرف بڑھتا قدم گردانتے ہیں! مگر، بنگلہ دیش میں سرمایہ کاری کے نام پر پاکستان کا ٹیکسٹائل سیکٹر تباہ کرکے رکھ دینا کسی طور زیبا نہیں! پاکستان سے مرغی، بکرے اور گائے کے گوشت کی برآمد ایک نیا برآمدی سیکٹر ہے! اور اس سیکٹر سے حاصل ہونے والا زرِمبادلہ پاکستانی معیشت کے لیے ایک بہت بڑا مستقل آسرابن سکتا ہے! مگر، کیا کیجیے کہ دانش مند اس زرِمبادلہ کا بہت کم حصہّ پاکستان پہنچنے دیتے ہیں! اور غیرممالک میں موجود اپنی ہی درآمدی کمپنیوں کے ذریعے اُس کا بیشتر حصہّ اُنہیں ممالک میں رکھ لیتے ہیں! اور پاکستان تک ان درآمدی کمپنیوں کے ساتھ معاہدے کے مطابق بہت کم تر حصہّ پاکستان آ پاتا ہے!
ہم ایک بات آج تک نہیں سمجھ پائے! اور وہ یہ کہ پاکستان کے مستقبل کے ضامن سیاست دان پاکستان کے مستقبل میں ایقان کیوں نہیں رکھتے؟ کیا اُنہیں اپنی ذات پر 18کروڑ غریب عوام جتنا اعتماد بھی نہیں؟ہم اِن تمام باتوں کے ساتھ ساتھ اور بھی بہت سی باتیں لکھ سکتے ہیں! ہمارا زرعی سیکٹر بھی ایک بڑا درآمدی سیکٹر بن چکا ہے! یہ تمام نشانیاں ایک پرواز بھرتی معیشت کی نشانیاں ہیں! مگر اپنے معاشرے کی تخلیقی قوت میں اعتماد نہ رکھنے والے اہلِ زر اپنے معاشرے کی سالمیت پر بھی ایقان نہیں رکھ پا رہے! ،تو،ہماری نگاہ میں یہ تمام باتیں صرف ایک طرف اشارہ کرتی ہیں! اور وہ یہ کہ خون کی ندیاں بہانے اور سونامی اُٹھانے والے سیاست دانوں کے ٹولے اس معاشرے کے قدم زمین پر نہیں ٹکنے دے رہے! کراچی کے حالات پورے ملک کے لیے ’ماڈل‘ بنائے جا رہے ہیں! اور یہ لوگ نہیں جانتے کہ اِن لوگوں کا کہا ہوا ایک لفظ بھی ملکی معیشت پر کیا کیا اثرات مرتب کر سکتا ہے! کاش! نئے انتخابات میں پاکستانی عوام وہ فیصلے کر سکیں، جن فیصلوں کے بعد پاکستانی معاشرے میں ’عدم اعتماد‘نامی چیز ہمیشہ کے لیے دفن کر دی جائے! اور فکرِ قائدؒ اور فکرِ اقبالؒ کی روشنی میں پاکستان ایک نئے عزم کے ساتھ جادہ پیما ہو سکے!اللہ تبارک و تعالیٰ نے ہمیں پاکستان بنانے کا موقع دیا ہم نے آدھے کو بنگلہ دیش بنادیا اور اب وہی ہمیں آدھے پاکستان کو ہی بچانے کا موقع بھی مرحمت فرمائے گا!جمہوریت نشان جنابِ مجید نظامی نے ایک بار پھر فرمایا ہے کہ پاکستان کے پاس آگے بڑھنے کے لیے صرف جمہوریت ہی ایک قابلِ عمل راستہ ہے! اور ہمیں بہرطور اسی راستے پر آگے بڑھنا ہے! ہمیں یقین ہے کہ آئندہ انتخابات کے نتائج جنابِ مجید نظامی کی توقعات کے عین مطابق ہوں گے! انشاءاللہ!آمین! ثم آمین!
٭٭٭