فحاشی اس کو کہتے ہیں ۔۔۔!

پاکستان فحاشی، عریانی، فرقہ بندی اور دہشت گردی کے لئے نہیں بنا۔ حضرت علامہ اقبالؒ نے جس پاکستان کا خواب دیکھا تھا وہ یہ پاکستان نہیںہے۔ پاک بھارت دوستی میں پُل کا کردار ادا کرنے اور پاکستان میں بھارتی کلچر کو فروغ دینے والے ایک معروف میڈیا نے اپنے ایک مقبول صحافی کا کالم شائع کرنے سے انکار کر دیا کہ اس کی آواز سے ان کے کاروبار کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے حالانکہ فحاشی و عریانی دکھانے اور پھیلانے والوں کے خلاف سپریم کورٹ ایکشن لے لے، تب بھی الا ماشاءاللہ بے ضمیر عوام، بے حیا ٹی وی چینلز کا بائیکاٹ نہیں کریں گے۔ امن کی آشا کے علمبردار میڈیا نے اپنے ایک معروف کالم نگار کا کڑوا کالم شائع کرنے سے روک دیا، مگر حق کی آواز دبائی نہیں جا سکتی۔ کالم نگار لکھتا ہے ”کیبل آپریٹر اور میڈیا مالکان سے ہماری کوئی دشمنی نہیں، ہماری جنگ تو بے حیائی اور انڈین اور مغربی کلچر کے خلاف ہے مگر کیبل آپریٹر اور میڈیا مالکان دشمنی میں اس حد تک آگے چلے گئے ہیں اور فیصلہ کر دیا ہے کہ کسی کالم نگار اور اینکر پرسن کو اس موضوع پر بات کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور یہ فیصلہ بھی کیا گیا ہے کہ سپریم کورٹ میں فحاشی و عریانی اور غیر قانونی انڈین چینلز سے متعلق محترم قاضی حسین احمد جن کے مضامین مَیں امن کی آشا کے پجاری جو فحاشی میں بھی یکتا ہے کے صفحات میں دیکھتی ہوں اور محترم جسٹس وجیہ الدین کی درخواستوں پر سُنے جانے والے کیس کا بھی مکمل بلیک آ¶ٹ کیا جائے گا۔ گویا میڈیا نے خود ہی میڈیا اور آزادی رائے پرحملہ کر دیا۔ صحافیوں کو اپنی مرضی کے مطابق چلانے کی ایک بڑی سازش ہے جس کو پیمرا کی مکمل حمایت حاصل ہے۔ کئی اینکر پرسنز کو یہ بتا دیا گیا ہے کہ وہ فحاشی اور غیر قانونی انڈین چینلز کے مسئلہ کو اپنے شوزکا موضوع نہ بنائیں۔ کالم نگار مزید لکھتا ہے کہ میڈیا مالکان تو ڈر گئے، بلیک میل ہو گئے، ان کو اپنے اپنے کاروبار بچانے کی فکر پڑ گئی جبکہ صحافی برادری میں ہر طرف ہُو کا عالم ہے۔ کیبل آپریٹر اور میڈیا مالکان کی بجائے اگر یہ حملہ کسی اور طرف سے ہوتا تو پاکستان کا میڈیا، صحافی، اینکر پرسنز، انسانی حقوق کے علمبردار، سیاستدان سب نے آسمان سر پر اٹھا لینا تھا۔ کیبل آپریٹر نے صاف صاف کہہ دیا ہے کہ وہ کسی صورت غیر قانونی انڈین چینلز کو بند نہیں کریں گے۔ پاکستان براڈ کاسٹینگ ایسوسی ایشن نے اپنی غلط کاریوں کو چھپانے کے لئے کیبل آپریٹر کے سامنے سر جھکا دیا ہے۔ کون نہیں جانتا کہ بعض میڈیا مالکان کے اپنے چینلز انڈین گانوں اور فلموں سے چلتے ہیں مگر سب کو سانپ سونگھ گیا ہے۔ مگر ہم ناامید نہیں، ہمیں امید ہے کہ سب میڈیا مالکان اور صحافی اس ڈکیتی میں حصہ دار نہیں بن سکتے۔ اپنے ذاتی مفادات کا پہرہ دینے والے اور اپنی طاقت پر گھمنڈ کرنے والے اللہ تعالیٰ کی طاقت اور اس ذات باری تعالیٰ کے غضب اور قہر سے غافل ہیں اس لئے اپنے غیر قانونی اور غیر اخلاقی عمل کا ہر حال میں تحفظ چاہتے ہیں“۔۔۔ یہ ہے لبرل میڈیا کی حقیقی شکل کہ جب ان کے اپنے خلاف کالم لکھا جائے تو شائع ہونے سے روک دیتے ہیں۔ آئینہ میں اپنی شکل دیکھنے کی ہمت نہیں۔ پاکستان ٹی وی چینلز پر دکھائے جانے والے اکثر اشتہارات اور تفریحی پروگراموں میں خواتین کے نیم برہنہ لباس اور مردوں کے بیہودہ ذومعنی جملے کہیں سے بھی پاکستان کے کلچر کی ترجمانی نہیں کرتے۔ پاکستان کا اپنا کوئی کلچر ہے اور نہ تمدن۔ پاکستان نہ صرف مالی طور پر مغرب کا مقروض ہے بلکہ ثقافتی اعتبار سے بھی ادھار پر چل رہا ہے۔ انڈین اور مغربی کلچر کا کوڑا کرکٹ ”پاکستانی کلچر“ کہلاتا ہے۔ امریکہ ایک مادر پدر آزاد معاشرہ ہے اور یہاں کا کلچر یہاں کے لوگوں کا طرز زندگی ہے جس کو فحاشی نہیں سمجھا جاتا۔ ہم اپنے بچوں کی یہ کہہ کر اسلامی و اخلاقی تربیت کرتے ہیں کہ امریکی ایک غیر مسلم سوسائٹی ہے اور ان کا اپنا کوئی کلچر نہیں ہے۔ ہم لوگ مسلمان ہیں اور ہمارا کلچر اسلام ہے۔ اسلام حیا سکھاتا ہے مگر ہمارے بچے جب پاکستانی چینلز پر بے حیائی دیکھتے ہیں تو ان کی آنکھوں میں چھپا ہوا طنز دیکھ کر ہم ان سے آنکھیں نہیں ملا سکتے۔ پاکستان کے لبرل میڈیا مالکان اور کیبل آپریٹر اپنی ماﺅں، بہنوں اور بیٹیوں کو بھی ٹی وی سکرین پر لائیں اور انہیں اشتہارات اور انٹرٹینمنٹ کی زینت بنائیں۔ چُست پتلون، بغیر آستین اور کھلے گریبان والی چھوٹی ”پھسی ہوئی“ شرٹ عورت کے جسم کا کھلا نظارہ ہے۔ پرائیویٹ زنانہ مصنوعات کے شرمناک اشتہارات سے چینلز کی صرف ریٹنگ ہائی نہیں ہوتی غیرت مندوں کا بلڈ پریشر بھی ہائی ہو جاتا ہے۔ باپ اور بیٹی کا رشتہ انتہائی باحیا ہوتا ہے مگر پاکستان کے اکثر ڈراموں میں باپ بیٹی کے ساتھ اس انداز سے بغلگیر ہوتا ہے کہ میاں بیوی بھی وہ منظر دیکھ کر شرما جاتے ہیں جبکہ میاں بیوی کے تعلق کو جس انداز سے پیش کیا جاتا ہے اس کو دیکھ حقیقی میاں بیوی بھی شرمندہ ہو جاتے ہیں۔ عشق و جنون، بوس و کنار، برہنہ لباس، عریاں ڈائیلاگ، متعدد شادیاں، طلاقیں، حلالہ ۔۔۔ یہ پاکستان کا کلچر نہیں ایک خوفناک مذاق ہے۔ بیمار لوگوں کی بیمار پروڈکشن نے مشرقی معاشرہ کو اس منجھدار پر لا کھڑا کیا ہے جہاں سے واپسی مشکل دکھائی دیتی ہے۔ انڈین کلچر کے دلدادہ افراد کا کہنا ہے کہ انڈین فلمیں ڈی وی ڈی اور دیگر غیر قانونی ذرائع سے دیکھی جا رہی ہیں، اگر پاکستانی میڈیا دکھا دیتا ہے تو اس پر اتنا واویلہ کیوں مچایا جا رہا ہے۔ پاکستان میں تو شراب بھی بالٹیوں کے حساب سے پی جا رہی ہے تو پھر اپنی ماﺅں بہنوں اور بیٹیوں کو بھی شراب پر لگا دو۔ پاکستان میں تو منشیات بھی خوفناک سطح پر پہنچ گئی ہےں تو پھر اسے بھی حلال قرار دے دو۔ پاکستان میں جسم فروشی کا کاروبار بھی تمام حدود عبور کر چکا ہے، تو اسے اپنے گھروں میں بھی داخل ہونے کی اجازت دے دو ۔۔۔ خدارا! کچھ تو شرم کرو، اپنی اوقات ، معیار، تہذیب و تمدن، ثقافت اور مذہبی اقدار کا کچھ تو لحاظ رکھو ۔۔۔! الا ماشاءاللہ مذہبی شوز کی بھی اپنی الگ دنیا بن چکی ہے۔ ایک معروف قاری صاحب نے رولیکس گھڑی باندھ رکھی تھی، ان سے جب سادگی کی بات کی گئی تو انہوں نے کہا ”حضور کا کرم ہے، جو آج میں اس مقام پر پہنچا ہوں۔“ ایک مشہور نعت خواں کو ایک محفل میلاد کے بعد ”عاشقان“ نے ترازو ایک پلڑے میں بٹھا کر نوٹوں میں تول دیا ۔۔۔ فحاشی کا مفہوم بہت وسیع ہے۔ ایک کالم میں اس کا احاطہ نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستانی چینل پاکستانی اداکار کو جانگئیے میں اپنی شریکِ کار کو بیکنی میں ملبوس پانی کے مختصر سے تالاب میں اٹھکیلیاں کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ ایک پاکستانی چینل کئی سال سے ایک بیہودہ خاتون کا بیہودہ لباس میں بیہودہ ڈانس رمضان المبارک سمیت روزانہ دکھا رہے ہیں لیکن قارئین کرام اب یہ فحاشی نہیں رہی! یہ پاکستان ہے 2012ءکا۔ لیکن اسلام اور کلمہ طیبہ کے نام پر بنا ہوا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں مزید نازل ہونے والے عذاب الٰہی سے بچائے!