حلقہ 120 کس کا امتحان؟

کالم نگار  |  جاوید صدیق
حلقہ 120 کس کا امتحان؟

سابق وزیراعظم نوازشریف کی سپریم کورٹ کے فیصلے کے نتیجے میں نااہلی کے بعد ان کی خالی ہونیوالی قومی اسمبلی کی نشست کیلئے ضمنی انتخاب کا معرکہ عروج پر ہے۔ پاکستان مسلم لیگ ن اور پا کستان تحریک انصاف دونوں اس حلقے میں بہت متحرک ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی بھی اس حلقے میں اپنے امیدوار کے حق میں مہم چلا رہی ہے۔ ملی مسلم لیگ نے بھی اپنا امیدوار کھڑا کیا ہے۔ لیکن نظر یہ آ رہا ہے کہ اصل مقابلہ پاکستان مسلم لیگ ن اور پاکستان تحریک انصاف کے درمیان ہے۔ مسلم لیگ ن کی مہم سابق وزیراعظم نواز شریف کی بیٹی مریم نواز چلا رہی ہیں۔ وہ جارحانہ انداز میں اپنی والدہ کے لئے مہم چلا رہی ہیں وہ اپنی تقریروں میں بین السطور عدلیہ اور فوج پر بھی تنقید کر رہی ہیں لیکن وہ تحریک انصاف کے خوب لتے لے رہی ہیں۔ پانامہ کیس میں تحریک انصاف نے جو کردار ادا کیا ہے اس پر پاکستان مسلم لیگ ن بالعموم اور مریم نواز بالخصوص غصے سے بھری ہوئی ہیں اس لئے وہ حلقہ این اے 120 میں دل کی بھڑاس نکال رہی ہیں۔
اب تک جو رجحان سامنے آرہا ہے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ پاکستان مسلم لیگ ن اپنے لیڈر نواز شریف کے پرانے حلقے کو ہاتھ سے نہیں جانے دے گی وہ اس حلقے میں ضمنی الیکشن جیتنے کے لئے پورا زور لگا رہی ہے۔ وفاق اور صوبے میں پاکستان مسلم لیگ ن کی حکومتیں ہیں ان حکومتوں کا بھی پاکستان مسلم لیگ ن کو ’’ایڈوانٹیج‘‘ ہے الیکشن کمشن نے تحریک انصاف اور دوسری جماعتوں کے احتجاج پر پنجاب حکومت کو کئی مراسلے بھیجے ہیں جن میں حکومت کو خبردار کیا گیا ہے کہ وہ الیکشن قوانین کی خلاف ورزی نہ کریں۔ الیکشن کمشن نے سابق وزیراعظم کے داماد کو انتخابی مہم میں حصہ لینے پر نوٹس جاری کیا ہے۔ موجودہ وزیر تجارت پرویز ملک اور بعض دوسرے حکومتی عہدیداروں کو بھی وارننگ دی گئی ہے لیکن پھر بھی حکومت میں ہونے کا ’’ایڈوانٹیج‘‘ لینے کے کئی طریقے ہیں۔
حلقہ 120 کا ضمنی انتخاب تحریک انصاف کے لئے ایک بڑا چیلنج ہے۔ تحریک انصاف اور عوام یہ سمجھتے ہیں کہ شریف خاندان کیخلاف پانامہ پیپرز کیس کو اس کے انجام تک پہنچانے میں تحریک انصاف نے کلیدی کردار ادا کیا اور بڑی استقامت کے ساتھ کیس کی سپریم کورٹ میں پیروی کی‘ جس کے نتیجے میں سابق وزیراعظم کو سپریم کورٹ نے نااہل قرار دیا۔ فطری طور پر تحریک انصاف کواس کردار کا فائدہ ملنا چاہئے لیکن کیا عمران خان اور تحریک انصاف حلقہ 120میں مسلم لیگ ن کو پچھاڑ سکے گی ؟ تحریک انصاف کی امیدوار ڈاکٹر یاسمین راشد 2013ء کے انتخابات میں اس حلقے میں 57 ہزار ووٹ حاصل کر چکی ہیں۔ ان کے مد مقابل نواز شریف تھے جنہوں نے 97 ہزار ووٹ حاصل کئے تھے۔ سیاسی تجزیہ نگاروں کی رائے یہ ہے کہ ڈاکٹر یاسمین راشد نے مسلم لیگ ن کے سربراہ کے مقابلے میں عام انتخابات میں جتنے ووٹ حاصل کئے وہ ان کی بڑی کامیابی تھی‘ لیکن اب جب نواز شریف نااہل قرار دئیے جا چکے ہیں ان کی جگہ ان کی اہلیہ بیگم کلثوم نواز الیکشن لڑ رہی ہیں وہ اس وقت لندن میں زیر علاج ہیں۔ شریف خاندان اس وقت ایک بحران کا شکار ہے‘ کیا اس صورتحال کا تحریک انصاف سیاسی فائدہ اٹھا سکتی ہے؟
تحریک انصاف نے مسلم لیگ ن حکومت کے دور میں جتنے ضمنی انتخابات لڑے ہیں ان میں سے اکثر میں اسے شکست ہوئی ہے بعض ضمنی انتخابات میں اس کے امیدوار ووٹوں کے تھوڑے فرق سے ہارے ہیں۔ تحریک انصاف کی سیاست کا تجزیہ کرنے والوں کا کہنا ہے اس جماعت کے سربراہ عمران خان لوگوں کو متحرک کرنے اور انہیں حکومت مخالف جلسوں میں لانے میں تو کامیاب ہیں وہ ایک Crowd Puller ہیں لیکن سڑکوں پر ان کی جو حمایت نظر آتی ہے اسے وہ پارلیمانی قوت میں تبدیل کرنے میں کامیاب نہیں ہو پاتے۔ ان تجزیہ نگاروں کے خیال میں اس کی ایک بڑی وجہ پاکستان تحریک انصاف کے تنظیمی ڈھانچے کی کمزوری ہے۔ تحریک انصاف کی 2017ء میں بھی توجہ پنجاب پر تھی۔ وہ پنجاب سے مسلم لیگ ن کو سیاسی اعتبار سے Dislodge کرنا چاہتی تھی جس میں اسے کامیابی نہیں ہوئی۔ انتخابات جیتنے کے لئے تنظیمی ڈھانچے کا ہونا ضروری ہے۔ تحریک انصاف نے پارٹی کو چاروں صوبوں میں منظم کرنے کے لئے سائنسی انداز میں کامیاب نہیں کیا۔ پچھلے چار سالوں میں پی ٹی آئی کے پاس موقع تھا کہ وہ پارٹی کے داخلی انتخابات مکمل کر کے پورے ملک میں اپنی پارٹی کا تنظیمی ڈھانچہ قائم کرتی۔ محسوس ہوتاہے کہ اس شعبہ میں اسے بڑی کامیابی نہیں ملی۔ راقم نے آج سے سال ڈیڑھ سال پہلے بنی گالہ میں تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی صحافیوں سے ایک ملاقات میں یہ نکتہ اٹھایا تھا کہ تحریک انصاف نے اگر ایک قومی پارٹی بننا ہے تو اسے چاروں صوبوں میں تنظیم سازی کے لئے کام کرنا ہو گا۔ اس سلسلے میں راقم الحروف نے پیپلز پارٹی کی مثال دی تھی کہ پی پی پی کے بانی اور پہلے چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو نے نومبر 1967ء میں پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھی اور تین سال کے بعد دسمبر 1970ء میں ہونے والے انتخابات میں مغربی پاکستان میں کلین سویپ کر لیا تھا۔ اس کی ایک وجہ تو مسٹر بھٹو کی کرشماتی شخصیت تھی‘ دوسرا ان کا منشور اور تیسری بڑی وجہ سارے ملک میں ان کی پارٹی کے تنظیمی ڈھانچے کی موجودگی تھی۔ عمران خان نے اس سلسلے میں اپنا تجزیہ دیا تھا‘ لیکن میری اب بھی یہ رائے ہے کہ عمران خان بھی ایک کرشماتی لیڈر ہیں‘ ان کے پاس بعض حلقوں میں Electables موجود ہیں جو ان کے اردگرد نظر آتے ہیں لیکن ان کی پارٹی کی ملک کے چاروں صوبوں میں موجودگی نمایاں نظر نہیں آتی۔ اگر تحریک انصاف نے اس طرف توجہ نہ دی تو 2018ء کے انتخابات اس کے لئے ایک بڑا چیلنج ہوں گے۔