”آئِین شائِین کی باتیں!“

کالم نگار  |  اثر چوہان

 یہ اتفاق رائے ہے ۔ حسنِ اتفاق ہے - یا ”حُسن بیان؟“ کہ 12 اکتوبر کو اپنے اپنے مقام پر پاکستان کے تینوں چیفس، وزیراعظم نوازشریف، چیف جسٹس افتخار محمد چودھری اور چیف آف آرمی سٹاف نے ایک ہی بات کی۔ 12 اکتوبر 1999ءکو جنرل پرویز مشرف نے دو بار منتخب ہونے والے وزیراعظم میاں نوازشریف کی حکومت کا تختہ الٹ کر خود اقتدار پر قبضہ کر لیا تھا۔ اقتدار سے محرومی کی ”چودھویں سالگرہ“ پر وزیراعظم نے اپنے پیغام میں کہا ”پاکستان میں اب صرف آئین کی حکمرانی ہو گی۔ جمہوریت ہی پاکستان کا مستقبل ہے اور اب عوام کی مرضی کے خلاف کوئی اقدام نہیں ہوگا“ ۔
ڈسکہ بار ایسوسی ایشن ضلع سیالکوٹ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے کہا کہ ”آئین پر شب خون مارنے کا وقت گزر گیا اور کوئی بھی قانون سے بالاتر نہیں ہے“ چیف آف آرمی سٹاف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے کاکول میں 128 ویں لانگ مارچ کی پاسنگ آو¿ٹ پریڈ کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ”دہشت گردی اسلام کے منافی ہے، شدت پسندوں سے مذاکرات کی حدود سیاسی قیادت طے کرے گی لیکن مذاکرات آئین کی حدود میں رہ کر ہوں گے۔ شدت پسندوں کے خلاف آپریشن آخری آپشن ہوگا۔“
 ”شب خون“ فارسی زبان کی ایک ترکیب ہے جس کا مطلب ہے ”دشمن کی بے خبری میں اس پر رات کو حملہ کرنا“ ۔ اس لحاظ سے کوئی بھی فوج اپنے سپہ سالار کی قیادت میں یا اُس کی ہدایت پر کسی بھی دشمن پر اُس کی بے خبری میں اُس پر حملہ کرے تو اُسے تو ”شب خون“ ہی کہا جائے گا لیکن جب کوئی فوج کا سربراہ رات کے اندھیرے میں آئین پر شب خون مارتا ہے تو بے شک وہ الیکٹرانک میڈیا پر ”میرے عزیز وطنو! “ کہہ کر قوم سے خطاب کرے لیکن یہ بات واضح ہے کہ اُس نے پوری قوم کو دشمن سمجھ کر ہی اُس پر شب خون مارا ہے۔ اس لحاظ سے وزیراعظم صاحب کا یہ کہنا کہ ”پاکستان میں اب صرف آئین کی حکمرانی ہو گی“ اور محترم چیف جسٹس صاحب کا یہ فرمان کہ ”آئین پر شب خون مارنے کا وقت گزر گیا۔“ حُسن ظن ہی سمجھا جائے گا کوئی گارنٹی نہیں۔ یہ درست ہے کہ جنرل اشفاق پرویز کیانی نے اپنی مدت ملازمت میں اور ملازمت میں توسیع ملنے کے بعد بھی آئین پر شب خون نہیں مارا۔ بُری بھلی (بُری زیادہ) جمہوریت کو چلنے دیا لیکن جب تک آئین کے مطابق ملک میں حقیقی جمہوریت مستحکم نہیں ہوگی اور جمہور کو جمہوریت کے ثمرات نہیں ملیں گے یہ خطرہ ہمیشہ رہے گا کہ:   
”سکریپ بن نہ جائے، لے جائیں نہ کباڑی
لنگڑا کے چل رہی ہے، جمہوریت کی گاڑی“
 یہ بات سوچنے کی ہے کہ جب بھی آئین پر شب خون مارا گیا اور فوج کے سپہ سالار نے آمریت قائم کی تو کسی دور میں بھی عوام نے آمریت کے خلاف بغاوت نہیں کی؟ اور فوجی آمر کو بھی مسیحا قرار دے کر اکثر سیاسی اور مذہبی قائدین اُس کے قصیدہ گو اور درباری بن گئے۔ سیاسی (جمہوری) حکومت نے جنرل ایوب خان کو ”وفادار“ سمجھ کر ان کی ملازمت میں توسیع کر دی تھی۔ انہوں نے ساڑھے دس سال حکومت کی۔ تحریک پاکستان کے کئی رہنما / کارکن ان کے ساتھ رہے۔ جنرل یحییٰ خان، جنرل ایوب خان کا ہی تسلسل تھے۔ وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے کئی سینئر جرنیلوں کو نظرانداز کر کے اپنا ”ذاتی وفادار“ سمجھ کر جنرل ضیاءالحق کو سپہ سالار بنایا اور پھانسی پا گئے اور وزیراعظم نوازشریف نے بھی یہی غلطی کی تو اُن کے ”وفادار“ نے بھی انہیں جیل بھجوایا اور پھر جلاوطن کئے گئے۔ جنرل پرویز مشرف نے مسلم لیگ (ن) کی کوکھ سے مسلم لیگ (ق) نکال لی، مسلم لیگ (ن) نے تو مسلم لیگ (جونیجو) کی کوکھ سے نکالی گئی تھی۔ جنرل پرویز مشرف نے وزیراعظم نوازشریف کی حکومت برطرف کی تو جناب آصف علی زرداری جیل میں تھے اور انہوں نے جیل کے قیدیوں میں کئی من مٹھائی تقسیم کی۔ علامہ اقبالؒ نے کہا تھا
”آئین جواں مرداں، حق گوئی و بے باکی
اللہ کے شیروں کو آتی نہیں روباہی“