جنرل کیانی کا زندہ کردار

بھارت نے پاک فوج کے خلاف اس قدر مذموم پراپیگنڈہ کر رکھا ہے کہ ہمارا بھی جب بس چلتا ہے تو اپنی فوج میں کیڑے نکالنے یا ڈالنے شروع کر دیتے ہیں، یہی کچھ جنرل کیانی کی کاکول اکیڈمی میں کی گئی حالیہ تقریر کے ساتھ کیا گیا ہے۔ آرمی چیف نے اس میں اپنا ایک بے لاگ تجزیہ پیش کیا ہے۔اداروںکے استحکام پر زور دیا ہے اور ہم ہیں کہ یہ سوال داغے چلے جا رہے ہیں کہ اداروں کو بلڈوز کس نے کیا، بھارت کے ساتھ تعلقات کو کس نے ویٹو کیا۔اور پھر اس سوال کا جواب بھی خود ہی دیتے ہیں کہ یہ سب پاک فوج کا کیا دھرا ہے۔
ہمارے ہوتے ہوئے پاک فوج کو کسی اور دشمن کی ضرورت نہیں۔
 بھارت کے ساتھ تعلقات کی نوعیت طے کرنے والے شخص کا نام جنرل کیانی یا جنرل مشرف یا جنرل ضیا الحق یا جنرل ایوب ہر گز نہیں بلکہ یہ کریڈٹ حمید نظامی اور مجید نظامی کو جاتا ہے۔پاک بھارت دوستی اور دشمنی کے فیصلے جی ایچ کیو پنڈی میںنہیں ، نوائے وقت کے دفتر میں ہوتے ہیں اور کس کی مجال ہے کہ ان فیصلوں سے روگردانی کرے۔یہ جی ایچ کیو لاہور کی شاہراہ فاطمہ جناح پر واقع ہے۔یہ نظریہ پاکستان کا سرچشمہ بھی ہے اور اس کا محافظ ادارہ بھی۔یہ نور کی کہکشاں ہے جو ہر نسل کے راستوں کو اجالتی ہے اور قائد اور اقبال کے افکار کو تابندہ رکھتی ہے۔
آج کئی لوگ ایسے ہیں جنہیں واہگہ کی لکیر پسند نہیں، ماسٹر تارا سنگھ نے بھی پنجاب اسمبلی کے سامنے کرپان لہراتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان نہیں بن سکتا مگر حمید نظامی کی قیادت میں پنجاب کے نوجوانوں نے پاکستان کا چراغ گھر گھر روشن کیا، یہ ملک بنا،ایک آزاد، خود مختار، ہمہ مقتدر ملک۔ ہندو کی غلامی یا برتری سے بالاتر، بے خوف ملک۔سبز ہلالی پرچم کی آن بان اور شان والا ملک۔
جنرل کیانی اس ملک کو بھارت کے حلقہ اثر سے آزاد رکھنا چاہتے ہیں توو ہ اقبال، قائد، حمید نظامی اور ڈاکٹر مجید نظامی کے نقش قدم پر چلنے کی کوشش کر رہے ہیں،اور پاکستان کا آئین بھی اپنی فوج کو دفاع وطن کا پابند بناتا ہے، آئین کی رو سے پاکستان کو بھارت کے سامنے سرنڈر کرنے والا غدار تصور کیا جائے گا۔
کاکول میں جنرل کیانی نے اس عزم کو دہرایا ہے کہ جمہوریت کا استحکام جمہوری عمل کے تسلسل میںمضمر ہے۔ اس کے لئے جنرل کیانی نے کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا،دو ہزار آٹھ اور تیرہ کے انتخابات کے ذریعے عوام کی حکمرانی کا اصول محکم ہوا۔ملک میں پہلی بار ایک منتخب سول حکومت نے آنے والی سول قیادت کو اقتدار منتقل کیا، ایک دوسرے کو گارڈ آف آنر دیا، یہ گارڈ آف آنر درا صل عوام کی لازوال قوت کو پیش کیا گیا۔
جنرل کیانی کا ایک جرم یہ بتایا جا رہا ہے کہ ان کے ہوتے ہوئے کیری لوگر بل کی مخالفت میں شور مچا۔یہ بل امریکی کانگرس نے منظور کیا اور پاکستان پر نافذ کر دیا تو کیا امریکی بل کو پاکستان پر تھوپا جائے تو اس کے راستے میں سرخ قالین بچھایا جائے اور کھلے بازووں سے اس کا سواگت کیا جائے۔
کیری لوگر بل کے ذریعے امریکہ نے پاکستان کے معاملات کی ڈور براہ راست اپنے ہاتھ میں لے لی، جبکہ ساری دنیا کے ممالک ایک دوسرے کی حکومتوں کے ذریعے معاملات آگے بڑھاتے ہیں ، مگر کیری لوگر بل نے حکومت پاکستان کو پاﺅں کی ٹھوکر سے ایک طرف کر دیا او ر سیدھے پاکستانی عوام کی جھولی میںڈالر وں کی بھیک بانٹنا شروع کر دی۔کیا ہمارے پڑوس بھارت میں امریکہ کو ان لچھنوں کی ا جازت ہے۔ ہر گز نہیں تو پھر جنرل کیانی اس بل کی حمائت کا گناہ کیونکر کرتے۔
کوئی خاتون آٹا گوندھ رہی ہو تو اس پر اعتراض برائے اعتراض کیا جاتاہے کہ وہ ہل کیوں رہی ہے۔ جنرل کیانی بھی جو کچھ کہیں ، ان پر اعتراض وارد کرنا ہمارا وطیرہ بن گیا ہے۔ انہوںنے پہلے کہا کہ قاتلوں کے ساتھ مذاکرات کیسے، تو کہا گیا کہ وہ حکومت وقت کی پالیسی کے الٹ چل رہے ہیں، اب کاکول میں خطاب کرتے ہوئے انہوںنے کھل کر کہہ دیا ہے کہ چلئے مذکرات کے ذریعے امن قائم کر لیجئے اورا گر یہ کوشش کامیاب نہ ہو پائے تو فوج ہر خدمت کے لئے حاضر ہے۔ تو پھر کیجئے بسم اللہ!