دی والڈ سٹی آف لاہور نئے رنگ میں پرانا منظر

کالم نگار  |  ڈاکٹر محمد اجمل نیازی
دی والڈ سٹی آف لاہور نئے رنگ میں پرانا منظر

نیا لاہور کی بات چلی تو خواہ مخواہ اندرون شہر کو پرانا شہر سمجھا جانے لگا۔ اندرون شہر میں پرانے آثار تو بہت واضح تھے مگر کچھ بوسیدگی سی ماحول میں تھی۔ اجڑے ہوئے دیار میں بھی کوئی کشش تو ہوتی ہے۔ منصوبہ یہ بنا کہ اندرون شہر کی بحالی ہونا چاہیے۔ اس میں جدت کو اس طرح ضم کیا جائے کہ قدامت کا حسن باقی رہے۔بارہ دروازوں کی پرانی تہذیب تقریباً ختم ہو رہی تھی۔ اسے محفوظ کیا جائے اور جدید و قدیم کا ایسا امتزاج بنایا جائے کہ لوگوں کو پرانا منظر بھی دیکھنے کو ملے اور نئی صورت بالکل نئی نہ لگے۔ اس طرح پاکستان میں سیاحت کو فروغ دینے کے لئے بھی کافی کام ہوا۔ جو بہت خوش آئند ہے۔

ایک منصوبہ بنایا گیا۔ دی والڈ سٹی آف لاہور (The Walled of Lahore)۔ جب یہ شعبہ بنا تو اسے انجمن بحالی اندرون شہر کہا گیا۔ اب دی والڈ سٹی آف لاہور اتھارٹی ہی ہر جگہ چلتا ہے شاہی قلعے کی عظیم اور قدیم عمارت کو ایک نئی صورتحال سے ہم آہنگ کیا۔ شاہی قلعے کی سیر کرتے ہوئے ایک حیرت طاری ہوتی ہے۔ اور ایک ہیئت بھی ساتھ ساتھ رہتی ہے۔ شاہی حمام کے پرانے انداز کو نیا رنگ دینے کی کوشش کی گئی۔ جہاں سیاحوں کا جی چاہتا ہے کہ اجازت ہو تو تھوڑا سا غسل کر لوں۔
آجکل کامران لاشاری والڈ سٹی کے ڈائریکٹر جنرل ہیں۔ وہ ایک پورا بیورو کریٹ ہیں مگر اہل اور اہل دل آدمی ہیں۔ اب وہ ایک ریٹائرڈ افسر ہیں مگر ویسے کے ویسے ہیں۔ ان میں افسرانہ شان تو ہے مگر افسرانہ رعونت نہیں ہے۔ وہ ڈی سی لاہور تھے تو ہم انہیں جان گئے تھے۔ ورنہ ہم لاہور کے کسی ڈی سی یا آجکل کے ڈی سی او کو نہیں جانتے۔ مجھے تو یہ بھی پتہ نہیں کہ آجکل کون ڈی سی ہیں۔ مگر ہم اب تک کامران لاشاری کے قائل ہیں۔ وہ راوین ہیں اور گورنمنٹ کالج کے شاندار طالب علموں میں ایک ہیں۔ اب وہ اولڈ راوینز ایسوسی ایشن کی سرگرمیوں میں دلچسپی لیتے ہیں۔ وہ ایسوسی ایشن کے پسند کئے جانے والے لوگوں میں سے ہیں۔
انہوں نے مکمل محنت اور پوری پلاننگ سے ایک عملی اور تخلیقی منصوبہ بنایا اور تسلسل سے کام ہونے لگا۔ مسجد وزیر خان کو خاص طور پر بڑے سلیقے سے محفوظ کیا گیا ہے۔ مسجد کے ساتھ میں بھی جگہ اونچی ہو گئی تھی۔ اسے کھود کر اس طرح محفوظ کیا گیا کہ اب لوگ مسجد کی پہلی سیڑھی پر قدم رکھ کے مسجد میں داخل ہو سکتے ہیں۔ بڑے سکون سے نماز پڑھتے ہیں اور تاریخی ورثے سے بھی مستفید ہوتے ہیں۔ شاہی حمام کی تزئین و آرائش کے لئے خاص توجہ دی گئی۔ اس کے لئے یونسکو کا نیشنل ایوارڈ بھی دیا گیا ہے۔ ہر روز تقریباً ایک ہزار سیاح دلی دروازہ شاہی حمام اور مسجد وزیر خان کو دیکھنے کے لئے شاہی گزرگاہ سے گزرتے ہیں جہاں سے بادشاہ گزر کر جاتے تھے۔
جن لوگوں نے پہلے شاہی قلعہ دیکھا ہوا ہے وہ اب جا کے دیکھیں انہیں ایک پرانی صورتحال نئے رنگ میں ڈوبی ہوئی دکھائی دے گی۔ دوسری تاریخی عمارتیں بھی لطف دیں گی۔ یہ شاہی باورچی خانہ عرصہ دراز سے بند پڑا تھا۔ جہاں کچھ بھی نہ پکتا تھا۔ اب اسے اصل شکل میں بحال کیا جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں میری گزارش ہے کہ یہ کام بھی جلد مکمل کیا جائے تاکہ اس شاہی باورچی خانے میں پکی ہوئی کوئی خاص ڈش سے ہماری بھی تواضع ہو سکے۔ ہم برادرم کامران لاشاری کے شکرگزار ہیں کہ ان کی ذاتی دلچسپی سے یہ تاریخی کام ہو رہا ہے۔ تاریخ کو محفوظ کرنا بھی تاریخی کام ہے۔
ہم لکھنے پڑھنے والے لوگ بھی لاشاری صاحب کے ممنون ہیں کہ انہوں نے پاک ٹی ہاؤس کو ادیبوں شاعروں کے لئے پرانا زمانہ لوٹا دیا۔ ایک نئے اور شاندار انداز میں یہ ادبی ٹھکانہ محفوظ کر لیا گیا ہے۔ اس ضمن میں حمزہ شہباز شریف نے بھی دلچسپی لی۔ یہاں چاروں طرف ادبی طور پر مشاہیر کی تصویریں ہمکلام ہوتی ہیں۔ یہاں اب باقاعدگی سے دوبارہ تنقیدی اجلاس ہونے لگے ہیں۔ برادرم غلام حسین ساجد آج کل سیکرٹری حلقہ ارباب ذوق ہیں۔ پاک ٹی ہاؤس کی رونقیں بحال ہو گئی ہیں۔ یہاں دفتر میں محترمہ تانیہ قریشی سے بھی مذاکرات ہوئے‘ وہ ڈپٹی ڈائریکٹر ہیں۔
اب اندرون شہر میں گندگی نہیں۔ گلیوں میں بجلی کی تاریں لٹکتی ہوئی نظر نہیں آتیں۔ یہاں نئی ہوائیں چلتی ہیں مگر ان میں پرانی خوشبو بھی ہوتی ہے۔