بھارت کی آبی دہشت گردی ۔ ایک نیا محاذ

بھارت کی آبی دہشت گردی ۔ ایک نیا محاذ

اخبارات کاا یک ڈھیر ہے اور صرف ایک اخبار میں بڑی غیر نمایاں سی خبر ہے کہ بھارت نے آبی دہشت گر دی کا محاذ گرم کر دیا ہے جس کی وجہ سے پاکستان کے ڈیمز خالی ہو رہے ہیں اور کاشتکاروں کو فصلیں سیراب کرنے کے لئے پانی میسر نہیں ہے۔

بھارتی دہشت گردی بھی ہشت پا کی طرح ہے، اس کے کئی روپ ہیں، کبھی کنٹرول لائن پر گولہ باری، کبھی ورکنگ با¶نڈری پر گولہ باری، کبھی مقبوضہ کشمیر میں نوجوانوں،بچوں اور عورتوں پر پیلٹ گنوں سے فائرنگ۔ کبھی بلوچستان میں کلبھوشنوں کے ذریعے علیحدگی کی تحریک ، کبھی کامرہ میں سیب ا یواکس طیارے کی تباہی، کبھی کراچی میں اورین طیارے کو نشانہ۔ اور جب دل چاہا تو پاکستان کے لئے پانی بند یا فالتو پانی چھوڑ کر پاکستان میں بد تریں سیلاب۔
اس سال کے شروع میں ایک درد مند پاکستانی برطانیہ سے دو بار پاکستان تشریف لائے، یہ تھے انجینئر محمد اقبال چیمہ، میںنے کئی کالموںمیں انکے خیالات کا خلاصہ پیش کیا، وہ ایک ہی وارننگ دے رہے تھے کہ بھارت ہمارا ازلی دشمن ہے اور ہر پہلو سے ہمیں نقصان پہنچانے کے لئے کوشاں ہے، اس کی بڑی کوشش یہ ہے کہ آبی جارحیت سے پاکستان کے ہرے بھرے لہلہاتے کھیتوں کو برباد کر کے رکھ دے، اس مذموم مقصد کے لئے اس نے سندھ طاس معاہدے کی دھجیاں بکھیر دی ہیں اور پاکستان کے حصے کے پانی پرناجائز قبضہ جما لیا ہے، انجینئر اقبال چیمہ اس نکتے پر تسلسل کے ساتھ زور دیتے رہے کہ کسی عالمی آبی معاہدے میں ایسا نہیں ہوا کہ پورا دریا ہی ایک ملک کے تصرف میں دے دیا گیا ہومگر سندھ طاس معاہدے میں ایک نہیں دو دریا پورے کے پورے بھارت کے حوالے کر دیئے گئے، راوی اور ستلج کے علاوہ بیاس بھی بھارت کے قبضہ میں چلا گیا، پاکستان کے حصے میں کشمیر سے نکلنے والے دو دریا چناب اور جہلم دیئے گے مگر بھارت نے ان دونوں دریاﺅں پر ڈیم تعمیر کر لئے ہیںیا ان کا رخ موڑ کر اپنی طرف کر لیا ہے جس کی وجہ سے پاکستان میں پانی ا ور بجلی کی کمی ایک بحران کی شکل اختیار کر چکی ہے۔وہی پنجاب جو پورے ہندوستان کی غذائی ضروریات پوری کرتا تھا، اب اسے سبزیاں تک مہنگے داموں در آمد کرنا پڑتی ہیں۔بھارت کی کوشش یہ ہے کہ وہ پاکستان میں پانی کی سپلائی اس قدر روک دے کہ ہمارے کھیتوں میں خدا نخواستہ خاک اڑنے لگے۔اصل میں بھارت کی آبی جارحیت کو کامیاب بنانے میں ہمارے میر جعفروں کا بھی کردار ہے، ہمارے سندھ طاس کمیشن کا فرض تھا کہ وہ بھارت کو غیر قانونی آبی ڈیم تعمیر کرنے سے روکتا اورا س کے خلاف عالمی عدالت میں مقدمے قائم کراتا مگر اس کمیشن کے ایک سربراہ جو طویل عرصے تک اپنے منصب سے چمٹے رہے، انہوںنے مجرمانہ غفلت یا خاموشی ا ختیار کی، نہ بھارت کو روکا ، نہ پاکستانی عوام کو جگانے کی کوشش کی جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ آج بھارت نے چناب اور جہلم کے پانیوں پر تصرف حاصل کر لیا ہے اور بتدریج وہ پانی کی سپلائی بالکل بند بھی کر سکتا ہے اور اسی وقت پانی چھوڑے گا جب اس کے ڈیم بھر جائیں گے، اس طرح وہ پاکستان کو خوفناک سیلابوں کی نذر کرتا رہے گا۔
بد قسمتی کی بات یہ بھی ہے کہ ہمارے حکمران بھی خواب غفلت میں مست رہے اور انہوںنے بر وقت نئے آبی ڈیموں کی تعمیر کی طرف کوئی دھیان نہیں دیہا، ایک کالا باغ ڈیم کا منصوبہ کاغذوں کی حد تک مکمل تھا مگر اسے دن کی روشنی نصیب نہ ہو سکی کیونکہ بھارت نے اپنے تنخواہ دار ایجنٹوں کے ذریعے اس کی مخالفت میں ایک طوفان کھڑا کر دیا، گاندھی کے چیلے تو دھمکی دیتے رہے کہ کالا باغ ڈیم بنا تو اسے بحیرہ عرب میں غرق کر دیں گے، کوئی کہتا تھا کہ اسے بم سے اڑا دیں گے۔بھارت نے بڑی عیاری سے اپنی لابی کو پاکستان میں پروان چڑھایا جنہوںنے منگلاا ور تربیلا کے بعد کوئی نیا ڈیم نہیں بننے دیا، واپڈا بھی سفید ہاتھی ثابت ہوا، اب بھاشہ ڈیم کی بات شروع ہوئی تو بھارت نے کھلی مخالفت کر دی اور اس کی خوشنودی کے لئے امریکہ نے بھی کہہ دیا کہ یہ ڈیم ایک متنازعہ علاقے میںبنے گا، امریکہ نے تو سی پیک پر بھی اسی بنیاد پر اعتراض کر دیا ہے ،اب دیکھنا یہ ہے کہ ہم اس بھارتی اور امریکی پروپیگنڈے کا کیسے توڑ کرتے ہیں ۔ مگر ایساکون کر پائے گا۔ ہم تو ایک دوسرے کا گریبان پھاڑ رہے ہیں، بلیم گیم میں پڑے ہوئے ہیں، نااہلیوں کے بخار مںمبتلا ہیں اور احتساب کے لئے پاگل ہو رہے ہیں۔پچھلے چار سال سے ایک پارٹی نے تو دھرنوں ، لاک ڈاﺅنوں اور جلاﺅ گھیراﺅ کا رستہ اختیار کر رکھا ہے، ان حالات میں ملک کو درپیش بیرونی خطرات کی طرف کون توجہ دے سکے گا، پاکستان کی حالت تو ایک کمزور گائے کی سی ہو گئی ہے کہ اس کی کمر پر ہر کوئی ڈنڈے رسید کرتا ہے، کل تو حد ہو گئی کہ ایک چوکی پر حملہ کر کے افغان فوجیوں نے ہمارے ایک فوجی افسرا ور جوان کو شہید کر دیا۔ ایک منتشر اور پھوٹ کی شکار قوم کا یہی حال ہوتا ہے۔
بنیادی طور پر پاکستان کے پہلے فوجی حکمران ایوب خاں نے سندھ طاس کے معاہدے پردستخط کر کے پاکستان کی تباہی کی بنیاد رکھ دی تھی، اس معاہدے میں بیاس، ستلج اور راوی کا سو فیصد پانی بھارت کو دان کردیا گیا، سوال یہ ہے کہ دنیا میں یہ کوئی پہلاا ورا ٓخری آبی معاہدہ تو نہیں تھا، آپ دیکھ لیجئے کہ دریائے نیل درجنوں افریقی اور عرب ملکوںمیں سے گزرتا ہے مگر اس کے پانی کا حق کسی ایک ملک کو نہیں دیا گیا، دریائے ڈینیوب بھی درجنوں یورپی ممالک سے گزرتا ہے، اسے بھی کسی ایک ملک کے حوالے نہیں کیا گیا، درائے مسس پی ا ور دریائے ایمازون بھی کئی ممالک سے گزرتے ہیں ، ان کے پانیوں پر بھی ہر ملک کا حق تسلیم کیا گیا ہے تو پھر بر صغیر میں ایک فوجی حکمران نے انوکھا ور ظالمانہ معاہدہ کیوں قبول کیا، صرف اس لئے کہ فوجی حکمران کوسول معاملات کا کچھ شد بد نہیں ہوتی۔ مگر فوجی حکمرانوں نے ایک بار نہیں ملک پر بار بار مارشل لا نافذ کیا اور اب تو والدین کی خواہش یہ ہوتی ہے کہ ان کا بچہ فوج میں بھرتی ہو ، شاید اس کی قسمت میں فوجی حکمران بننا لکھا ہو۔ بہر حال ایوب خان کی غلطی کا خمیازہ پاکستانی عوام کو بھگتنا پڑ رہا ہے اور بعد میں جب بھارت نے کشمیر میں ڈیموں کا ایک سلسلہ شروع کیا تو یحییٰ خان، جنرل ضیاالحق اور جنرل پرویز مشرف نے بھارت سے کوئی تعرض نہیں کیا ، اب رونے دھونے کا کیا فائدہ جب چڑیاں چگ گئیں کھیت، آج ہمیں بجلی بنانے کے لئے تھرمل کا سہارا لینا پڑتا ہے، یہ بجلی بے حد مہنگی ہے جس نے قوم کی جیبوں پر ناروا بوجھ ڈال دیا ہے، ہماری مصنوعات مقابلے میں مہنگی ہیں اس لئے ہماری برآمدات گھٹتی چلی جا رہی ہیں مگر ہم دوش سیاسی حکومت کو دیتے ہیں کہ وہ نااہل ہے حالانکہ اس سیاسی حکومت نے تو ایٹمی دھماکوں کے بعد اعلان کیا تھا کہ کا باغ ڈیم بنائیں گے مگر بھارتی شردھالو اس منصوبے کے خلاف دیوار بن گئے۔
شاید اب بھی ہمارے پاس وقت ہے، اگر ہم باہمی سر پھٹول میں نہ الجھیں اور اپنے مشترکہ دشمن بھارت کے مذموم منصوبوں پر توجہ دیں تو لازمی طور پر ہم اس اتحاد کی بدولت بھارتی عزائم کو اب بھی ناکام بنا سکتے ہیں۔
٭٭٭٭٭