کچھ جنابِ اصغر بٹ کی یاد میں!

کالم نگار  |  خالد احمد
کچھ جنابِ اصغر بٹ کی یاد میں!


الحمرا آرٹس کونسل کے ہال III کی سیڑھیوں میں جنابِ مجید نظامی اپنا بایاں بازو گردن میں لٹکی ایلبو بینڈ سپورٹ میں ٹکائے اپنی شریکِ حیات محترمہ ریحانہ نظامی کے باہر آجانے کے انتظار میں کھڑے ہیں! محترمہ ریحانہ نظامی کی طبیعت اچھی نہیں! مگر، وہ اس تقریب میں شرکت کے لیے سیڑھیاں چڑھ کر ہال III میں پہنچیں! اور تقریب کے اختتام تک وہاں موجود رہیں! معاملہ محترمہ نثار عزیز بٹ کے شوہرِ نامدار جنابِ اصغر بٹ کے منتخب ڈراموں کے مجموعے کی تقریبِ رونمائی کا ہے! جنابِ سرتاج عزیز بھی محترمہ نثار عزیز بٹ اور جنابِ اصغر بٹ کے ساتھ کھڑے ہیں! کراچی سے محترمہ ہاجرہ مسرور اس تقریب میں صدارتی خطبہ پڑھنے کے لیے تشریف لائی ہوئی ہیں! ہم جنابِ مجید نظامی کی پیشوائی کے لیے آگے بڑھتے ہیں،تو، وہ ہمیں دوسرے مہمانوں کی آﺅ بھگت کا حکم صادر کرتے ہوئے آگے بڑھ جانے کے لیے کہتے ہیں! مسکراہٹوں اور جگمگاتے چہروں کا یہ ہجوم ایک ہی خاندان کے روشن تاروں کا اجتماع لگ رہا ہے! یہ سب لوگ خون کے رشتوں کے ساتھ ساتھ لفظ کے رشتے میں بندھے ہیں! چائے کے کپ پر گفتگو جاری ہے! اور تصویریں اُتر رہی ہیں! ایسا لگ رہا ہے کہ یہ ہنگامہ ہمیشہ برپا رہے گا! کیونکہ یہ تصویریں یہ لمحات کبھی فراموش نہیں ہونے دیں گی!
آج کے نوائے وقت، لاہور کے صفحہ¿ اول پر جنابِ اصغر بٹ کی رحلت کی خبر نمایاں ہے! جنابِ محمد اصغر بٹ روزنامہ دی نیشن،لاہور سے منسلک رہے ! اور دی نیشن کے ڈپٹی ایڈیٹر ایڈیٹوریل کے طور پر بھی کام کرتے رہے! بیماری کی لپیٹ میں آجانے کے بعد وہ آخری سانس تک دی نیشن کے لیے کالم نگاری بھی کرتے رہے!
جنابِ محمد اصغر بٹ اور محترمہ نثار عزیز بٹ دومثالی لکھاریوں کی مثالی جوڑی تھی! کل رات یہ جوڑی ٹوٹ گئی! مگر، جنابِ اصغر بٹ کی لکھتیں ہمیشگی کے تمام پہلو سمیٹے ہمیشہ ہمارے ساتھ رہیں گی! وہ اُردو دُنیا میں ’بیلے ‘لکھنے والے پہلے ڈرامہ نگار ہیں! اُن کا یہ منصب بھی تاقیامت اُن کے ساتھ رہے گا!
جنابِ اصغر بٹ ایک انتہائی خوشگوار شخصیت کے مالک تھے! وہ وفاقی سیکرٹری کے طور پر ریٹائر ہوئے! مگر، اُن کے پورے کیریئر میں اُن کے ساتھ رابطے میں آنے والا ہر شخص تا عمر، اُن کے لیے سراپا سپاس گزاری کے جذبات سے مملو ہوکر رہ جاتا! اُنہوں نے اپنے کیریئر کا آغاز 1950میں بطور اسسٹنٹ ڈائریکٹر ریڈیو پاکستان کیا!اور پھر وہ ریڈیو پاکستان کراچی کے سٹیشن ڈائریکٹر رہے! بعد ازاں وہ وزارتِ سیاحت و ثقافت میں چلے گئے! جہاں سے وہ بطور جوائنٹ سیکرٹری ریٹائر ہوئے!وہ اپنی سرکاری ملازمت کے دوران پاکستان ٹائمز میں ثقافت پر مضامین بھی لکھتے رہے! ریٹائرمنٹ کے بعد انہوں نے پنجاب یونیورسٹی سے قانون کی ڈگری حاصل کی اور پاکستان ٹائمز کے ایڈیٹر کے طور پر بھی کام کیا !انہوں نے سٹیج اور ٹی وی ڈرامے لکھے! اُن کے لکھے ہوئے ون ایکٹ پلیز اُس وقت اُن کی پہچان بن گئے تھے ، جبکہ پاکستان میں سٹیج پلے کا آغاز ہی نہیں ہو سکا تھا!ان کا ناول ’ٹوٹی کہاں کمند‘ حال ہی میں شائع ہوا! اور ناول کے باب میں بھی ایک نیا دَر کھول گیا! جنابِ اصغر بٹ کے ورثا میںان کی بیگم محترمہ نثار عزیز بٹ اور دوبیٹے ڈاکٹر احمد عزیز بٹ اور جنابِ اشعر عزیز بٹ شامل ہیں!جنابِ اصغر بٹ سابق وفاقی وزیر خزانہ اور وزیر امورِ خارجہ جنابِ سرتاج عزیز کے بہنوئی اور ایم ڈی نوائے وقت گروپ جنابِ مجید نظامی کے برادرِ نسبتی تھے!
ہم پر واجب ہے کہ ہم پوری ادبی برادری کے ساتھ ساتھ اُن کے قریبی عزیزوں کے ساتھ بھی اُن کے غم میں شراکت داری کریں! مگر، ہمارے پاس اُس پائے کے لفظ ہی موجود نہیں ، جس درجے کے ادیب سے ہم لوگ محروم ہو گئے ہیں! ایسے اچھے انسان بھی کم ہی پیدا ہوا کرتے ہیں!ہم نے اتنی صاف ستھری زندگی بسر کر جانے والے لوگ خال خال ہی دیکھے ہیں! اللہ تبارک و تعالیٰ اُن کے دُنیوی درجات کے ساتھ ساتھ اُخروی درجات میں بھی نئی بلندیاں پیدا فرمائے! آمین! اور اپنے حبیب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے طفیل اُن کے کام اور نام میں دُنیوی اور اُخروی برکات نازل فرماتا رہے! ثم آمین!