محرم الحرام پر فول پروف پروگرام ترتیب دے دیا

کالم نگار  |  محمد مصدق

پنجاب کی آب و ہوا میں افہام و تفہیم کا خمیر موجود ہے۔ یہی سبب ہے کہ ہر خطے سے ہر مذہب اور فرقے کے افراد یہاں آ کر آباد ہوئے اور کبھی کسی نے دوسرے کے مسلک کو نہیں چھیڑا لیکن کچھ عرصہ سے سازشی عناصر کی پوری پوری کوشش ہے کہ پنجاب میں بھی بے چینی اور افراتفری کی صورت حال پیدا کی جائے۔
90 شاہراہ قائد اعظم پر وزیر اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف کے سینئر مشیر سردار ذوالفقار علی خان کھوسہ نے اخبار نویسوں اور کالم نویسوں کو محرم الحرام کے موقع پر حکومتی اقدامات سے باخبر کرنے کے لئے ایک پریس بریفنگ کا اہتمام کیا۔ سردار ذوالفقار علی کھوسہ نے نوائے وقت کو بتایا کہ گزشتہ دنوں ذرا سی بات کا تماشہ بنا دیا گیا اور کہہ دیا گیا کہ میں نے اور میرے بیٹے سردار دوست محمد کھوسہ نے مسلم لیگ ن چھوڑ دی ہے جبکہ ایسا ہونا ممکن ہی نہیں ہے۔ ہم خاندانی لوگ ہیں ہمارا جینا مرنا اسی ن لیگ میں ہے میں نے تو صرف سینئر مشیر کے عہدے سے استعفیٰ دیا تھا۔
محرم الحرام کے پروگرام کے بارے میں بتایا گزشتہ تجربات کی روشنی میں ہر سال ہم خوب سے خوب تر انتظامات کر رہے ہیں۔ پنجاب کے تمام ڈویژن کا تفصیلی دورہ کرکے محرم الحرام کی تیاریوں کا مکمل جائزہ لیا ہے اور خوشی کی بات ہے کہ کسی جگہ بھی کوئی سنگین مسئلہ موجود نہیں تھا۔ شیڈول چار کے افراد کا خصوصی جائزہ لیا گیا کہ وہ علاقہ پابند ہیں یا نہیں۔ کچھ افراد علاقہ پابند نہیں تھے اس لئے ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ ان کی موجودگی کے مقام کو تلاش کرکے متعلقہ تھانے کی ذمہ داری لگائی جائے کہ وہ ان پر کڑی نظر رکھے۔ شیڈول چار کی فہرست وقت کے ساتھ تبدیل ہوتی رہتی ہے۔ اس میں راہ راست پر آنے والوں کے نام نکال دیئے جاتے ہیں اور ضرورت کے مطابق نئے نام میرٹ پر شامل کر دیئے جاتے ہیں۔
لاہور کے انتظامات کی ہمیں اس مرتبہ زیادہ فکر اس لئے تھی کہ میٹرو بس کی وجہ سے جلوس کے روٹ پر اینٹیں پتھر اور سڑکوں کی ٹوٹ پھوٹ موجود ہے چنانچہ احکامات جاری کر دیئے گئے ہیں کہ پورے روٹ کی مقررہ تاریخ سے پہلے صفائی کر دی جائے۔ پولیس کی نفری کے علاوہ سفید پوش پولیس، رینجرز اور فوج بھی سٹینڈ بائی ہو گی۔ لاہور میں کیونکہ شیخ علی ہجویری المعروف حضرت داتا گنج بخش کا عرس بھی ماہ محرم میں آتا ہے اس لئے زیادہ احتیاطی تدابیر اختیار کی گئی ہیں۔ سردیوں کی آمد کی وجہ سے دن چھوٹے ہو رہے ہیں اس لئے ماتمی جلوس کو مغرب کے وقت تک ختم کرنے کے لئے ہم نے منتظمین سے درخواست کی ہے کہ وہ مقررہ وقت سے پہلے جلوس کا آغاز کر دیں۔
دو روز پیشتر وزیر اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف نے بھی اسی ہال میں علمائے کرام اور مشائخ سے ملاقات کی۔ سی سی ٹی وی کیمرے پورے روٹ پر موجود ہوں گے اور سی سی پی او اسلم ترین نے پوری حکمت عملی تیار کر لی ہے تاکہ شرپسند اپنے کسی مذموم ارادے میں کامیاب نہ ہو سکیں۔کچھ اضلاع حساس ہیں خصوصاً جن کی سرحدیں پنجاب اور انڈیا کی سرحد سے ملتی ہیں، وہاں پر خصوصی انتظامات کئے گئے ہیں۔
ڈبل سواری پر پابندی کے بارے میں کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا، ہوم ڈیپارٹمنٹ موقع محل دیکھ کر فیصلہ کرے گی کیونکہ لاہور میں صرف چند علاقے ہی زیادہ حساس شمار ہوتے ہیں کیونکہ گزشتہ سال چکوال سے سخت ردّ عمل سامنے آیا تھا۔ امن کمیٹیاں تھانے کا ایس ایچ او ترتیب دے گا اور علاقے کے شرفا کو ان کمیٹیوں میں شامل کرے گا۔ نیٹ ورک قائم کیا گیا ہے کوئی بھی منفی خبر یا افواہ تحقیق کے بغیر نشر یا تردید نہ کی جائے اور واقعات کی تصدیق کرنے کے لئے تمام ٹیلی فون نمبرز مشتہر کر دیئے جائیں گے۔