تخلیقی خوشبو کے دو رنگ

کالم نگار  |  ڈاکٹر محمد اجمل نیازی

آج میرا جی چاہتا ہے کہ ادبی کالم لکھا جائے۔ جس سیاسی کالم میں ادبیت نہیں ہوتی وہ ریڈایبل بھی نہیں ہوتا۔ یوں بھی ادب و سیاست کی سرحدیں آپس میں ملی ہوئی ہیں۔ ایک خاتون سے پوچھا گیا کہ آپ کو ادب سے دلچسپی ہے تو اس نے بڑی سادگی سے کہا ہاں میں بڑوں کا بہت ادب کرتی ہوں۔ مگر میں آج دو ایسی شاعرات شازیہ نورین اور رافیلہ انجم کا ذکر کرنے لگا ہوں جن کے ادبی ذوق و شوق نے مجھے بہت متاثر کیا ہے۔ ان کے ہاں پراسراریت نے انہیں پرکشش بنا دیا ہے۔
شازیہ نورین نے اپنے باہر ہجرت کی ہے اور رافیلہ انجم نے اپنے اندر ہجرت کی ہے۔ دونوں جہانوں میں انہوں نے اپنا اپنا جہان دیگر تلاش کر لیا ہے اور وہاں رہنا بھی شروع کر دیا ہے۔ اپنے ملک سے باہر جا کے رہا جائے۔ اپنے اندر جا کے رہا جائے۔ یہ دونوں جگہیں علاقہ غیر ہیں۔ غیریت میں اپنائیت ڈھونڈھ نکالنا تخلیقی لگن کے بغیر ممکن نہیں اور یہیں سے شاعری جنم لیتی ہے جو حیران کر دیتی ہے۔ شازیہ نورین کہتی ہے
جنوں کا سلسلہ کیا ہے نہ تو جانے نہ میں جانوں
سدا سے یہ صدا کیا ہے نہ تو جانے نہ میں جانوں
کوئی کردار ہیں ہم جو نبھاتے جا رہے ہیں سب
وفا کیا ہے جفا کیا ہے نہ تو جانے نہ میں جانوں
ہمیں اک دوسرے سے ہی کوئی فرصت نہیں ملتی
کسی نے کچھ کہا کیا ہے نہ تو جانے نہ میں جانوں
کسی احساس سے نورین جو ہوتا ہے لکھتی ہوں
مگر میں نے لکھا کیا ہے نہ تو جانے نہ میں جانوں
لگتا ہے کہ کچھ نہ کچھ شازیہ جانتی ضرور ہے۔ جو جانتا ہے وہی کہتا ہے، میں نہیں جانتا۔ جو کہتا ہے میں جانتا ہوں وہ نہیں جانتا۔ اب رافیلہ انجم کی نظم دیکھیں
میں نے کہا حسن کیا ہے
اس نے کہا عورت
میں نے پوچھا اور دکھ؟
وہ بولا عورت
میں نے یہ سوال کیا حسن اور دکھ کی انتہا کیا ہے
اس نے آنکھیں موند لیں لمبی سانس لی اور کہا ماں
عورت مامتا ہے۔ مامتا کو محبت کہہ سکتے ہیں۔ محبت کو مامتا نہیں کہہ سکتے۔ عورت اپنے ضمیر میں ماں ہے۔ وہ بچی ہو لڑکی ہو محبوبہ ہو، بیوی ہو ماں ہو وہ صرف ماں ہے۔ ایک میاں بیوی میں جھگڑا ہوا۔ بیوی نے تھک ہار کر کہا کہ وے شرم کر میں تیرے بچوں کی ماں ہوں۔ اس نے حسرت سے کہا۔ دکھ تو یہی ہے کہ تو صرف میرے بچوں کی ماں ہے۔ تھوڑی سی مامتا اپنے بچوں کے باپ کے لئے بھی ہو تو ازدواجی مسائل ختم ہو جائیں۔ رافیلہ انجم کامیاب ایڈووکیٹ بھی ہے۔ جبکہ شاعر کے پاس دلیل نہیں ہوتی۔ رافیلہ اپنے آپ کو شاعر نہیں مانتی۔ میرے خیال میں وہ شاعرہ سے آگے کی کوئی چیز ہیں۔ اس کے مجموعہ کلام ”محبت رتّہ روگ“ کی تقریب رونمائی کتاب کی دس برس اشاعت کے بعد ہائی کورٹ بار کے کیانی ہال میں ہوئی۔ چیف جسٹس کیانی یاد آتے ہیں۔ کئی لوگوں کا دھیان جنرل کیانی کی طرف چلا جاتا ہے۔ کیانی ہال میں وکلا تحریک کی حمایت کے لئے مجھے ایوارڈ دیا گیا۔ آج اس تقریب میں مہمان خصوصی ہونا بھی کم ایوارڈ نہیں تھا۔ ایک انوکھی شاعرہ رافیلہ وکیل بھی ہے۔ اس نے دلیل کو تخیل بنا دیا ہے۔ یہ ایک تخلیقی معرکہ آرائی ہے۔ تدبر کو تفکر بنانا کس قدر مشکل ہے یہ کام بڑی آسودگی سے اس نے کر لیا ہے۔ اپنے اندر مشکلوں پر قابو پانا بڑا مشکل ہے۔ اس کی شاعری کو نثری شاعری نہیں کہا جا سکتا۔ ہر اظہار اپنا اسلوب ساتھ لے کے آتا ہے۔ اظہار محبت محبت سے آگے کی چیز ہے
رکے ہوئے ہیں جو دریا انہیں رکا نہ سمجھ
کلیجہ چیر کے نکلیں گے کہساروں کا
اس کا مطلب ہے کہ رافیلہ کی شخصیت میں دریا بھی ہیں اور کہسار بھی ہیں۔ کوہساروں سے چشمے نکلتے ہیں تو کوئی اندازہ کر سکتا ہے کہ پانی کس کس طرح اپنا رستہ بناتا ہے۔ رافیلہ نے ٹھیک کہا اور اس نے ہی سب سے اچھی بات کہی۔ محبت ایک تخلیقی نورس (طاقت) ہے۔ محبت نے یہ کتاب مجھ سے لکھوائی ہے۔
شازیہ نورین کی کتاب کی تقریب رونمائی پنجابی انسٹی ٹیوٹ میں معروف شاعرہ ڈاکٹر صغرا صدف نے کرائی۔ محمود گیلانی ایڈووکیٹ نے بھی ایک محفل اس کے ساتھ کی۔ شازیہ نے اپنا بہت خوبصورت کلام سنایا۔ اس کے مجموعے کا نام ”فصیلِ جبر“ ہے۔ شازیہ کا تعلق صغرا صدف کے شہر گجرات سے ہے اور وہ اٹلی چلی گئی ہے۔ ہجرتوں کے سلسلے عورت کی زندگی میں پھیلے ہوئے ہیں۔ جو عورت ہجر اور ہجرت کو ہم رنگ کر لیتی ہے وہ شاعرہ ہو جاتی ہے۔ مجھے شازیہ اور رافیلہ کے لئے ایک ساتھ کالم لکھنے کے لئے کسی سانجھی سرپرستی نے اکسایا ہے۔ رافیلہ کی نظم مجھے کسی اور دنیا میں لے گئی اور شازیہ کی غزل مجھے واپس اپنی دنیا میں لے آئی۔ رافیلہ خودنگری خود شناسی کے راستے میں ہے۔ محبت اپنے آپ کو پا لینے کی آرزو میں بھی ہے۔ شازیہ فصیلِ جبر پر بیٹھی اپنے صبر کو آزما رہی ہے۔ شاعری اسی آزمائش دل و جاں میں ہوتی ہے۔
رافیلہ نے محبت کے فلسفے کو اپنی شاعری کا موضوع بنایا ہے۔ شازیہ نے محبت کی کہانی بیان کی ہے۔ اپنا سراغ لگانے کے لئے اپنے اندر چراغ جلایا جاتا ہے۔ کسی کو تلاش کرنے کے لئے بھی اپنے اندر چراغ جلایا جاتا ہے۔ ہر کوئی محبت سے اپنا اپنا کام لیتا ہے۔ اس کے لئے تفکر اور تخیل کی ضرورت ہے۔ شاعری اس سفر میں سب سے بڑا زادراہ ہے۔ ایک تلاطم اور کھلبلی ضروری ہے۔ یہ کسی کے اندر ہو یا باہر ہو۔ میرا جی چاہتا ہے کہ رافیلہ کو ایک بڑے صوفی سلطان باہو کا پنجابی مصرعہ سناﺅں
اندر بوٹی مشک مچایا تے جان پُھلن تے آئی ہُو
شازیہ کے لئے فارسی کا مصرعہ عرض ہے۔ ترجمہ میں دونوں کا نہیں کروں گا
من تو شدم تو من شدی من جاں شدم تو تن شدی
رافیلہ کی ایک مختصر نظم
محبت
رات کا پچھلا پہر ہے
اداس اور تنہا
شازیہ کا ایک شعر
تو ملا ہے تو میری رات کی تکمیل ہوئی
کوئی جذبہ تھا ادھورا جو مکمل ٹھہرا
تخلیقی خوشبو کے دو رنگ آپ نے دیکھے
وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ