اندھیروں میں اُجالے ۔۔۔!

انسان کو اپنی اولاد سے بے انتہا محبت ہوتی ہے مگر آج کے مشینی دور نے محبوب ترین رشتے سے بھی دور کر دیا ہے۔ انسان اس قدر مصروف ہو گیا ہے کہ اپنی اولاد کے ساتھ سکون کے چند لمحات گزارنے کی حسرت لئے اس دنیا سے چلا جاتا ہے۔ کام کا بوجھ اور مسائل کے جھنجھٹ نے اسے دنیاکے حُسن سے محروم کر دیا ہے لیکن انسان چاہے تو اندھیروں میں بھی اُجالے تلاش کر سکتا ہے۔ بجلی چلی جائے تو لگتا ہے دنیا کا نظام رک گیا ہے مگر انسان چلا جائے تو نظام چلتا رہتا ہے۔ درحقیقت انسان کا دماغ اس کو چلاتا ہے، اگر دماغ مثبت سوچ اختیار کر لے تو اس کے چارسُو اُجالا ہے اور اگر اس کا دماغ منفی سمت چل دے تو اس کو ہر طرف اندھیرے دکھائی دیتا ہے۔ سینڈی طوفان کے بعد نیویارک اور نیوی جرسی کے لاکھوں افراد بجلی اور فون کی سہولت سے محروم ہو گئے۔ ہمارے ایک عزیز کا نیو جرسی سے فون آیا کہ دو ہفتے بعد ان کے علاقے کی بجلی بحال کر دی گئی ہے۔ یہ خبر وہ بڑے اطمینان کے ساتھ سُنا رہے تھے، ہم نے سوچا کہ اس اطمینان بخش خبر کے بعد بجلی کے جانے سے جو مشکلا ت پیش آئیں ان کی فہرست سُنائی جائے گی ، خاص طور پر یہ جملہ تو سُننے کو ملے گا کہ ”بجلی کے بغیر امریکہ بھی پاکستان لگ رہا تھا“۔۔۔ مگر انہوں نے ایسا کوئی جملہ نہیںکہا بلکہ وہ کچھ کہا جو اس سے پہلے کسی کی زبان سے نہیں سُنا، انہوں نے کہا کہ اللہ کرے سال میں کم از کم دو ہفتے کے لئے بجلی جایا کرے تاکہ میں اپنے نواسوں کے ساتھ وقت گزار سکوں، پھر سے انہیں اپنے بچپن کے قصے سُنا سکوں، پاکستان کے شباب اور بزرگوں کے ایثار کی کہانیاں سُنا سکوں۔ میں نے امریکہ میں زندگی کے تیس سال گزار دیے، روزگارِ زندگی اور دیگر سیاسی و سماجی مصروفیات کی وجہ سے اپنی فیملی کو وقت نہ دے پایا حتیٰ کہ نانا بن گیا اور اگلی نسلوں کے ساتھ کھیلنے کی بھی فرصت نہ مل سکی۔ سینڈی طوفان نے بجلی اور فون کی نعمت سے محروم کرکے حقیقی نعمتوں کا احساس دلا دیا۔ بجلی چلی گئی، کمپیوٹر بند ہو گئے، موبائل فون کے سگنل خراب ہو گئے، فون کی بیٹری ختم ہو گئی، زندگی درہم برہم ہو گئی تو لگا جیسے زندگی میں فراغت ہی فراغت ہے۔ جب کرنے کو کچھ نہ رہا تو فیملی کے ساتھ وقت گزارنے کا سنہری موقع میسر آ گیا۔ اپنے بچوں کے بچوں کو اپنے بچپن کے قصے سُناتا رہا اور امریکہ میں پیدا ہونے والی نسل میرے بچپن کے معصوم واقعات سُن کر حیران تھی کہ نانا نہ جانے کس دنیا کے قصے سُنا رہے ہیں۔ ہمارے عزیز نے بتایا کہ طوفان نے جہاں لوگوں کی زندگی پریشان کر دی وہاں زندگی کا یہ خوبصورت پہلو بھی سامنے آ گیا کہ جب سائنس نے ترقی نہیں کی تھی اور انسان کو مشین نہیں بنایا تھا، اس دور کا انسان خود کو کس قدر مکمل محسوس کرتا تھا۔ رشتوں کے بے لوث بندھن میں جُڑا ہوا تھا۔ خوشیوں، مسرتوں، محبتوں، قربتوں، رفاقتوں میں گُندھی ہوئی ایک بے مثال زندگی گزار رہا تھا۔ اپنے بچوں کو جو کہانی سُناتا تھا، اخیر تک مکمل کرتا تھا، نہ کوئی فون کی گھنٹی اس کے تسلسل کو توڑ سکتی تھی اور نہ ہی کوئی ٹی وی شو اس کی توجہ ہٹا سکتا تھا۔ امریکہ میں دو ہفتے کے لئے بجلی گئی تو پاکستان یاد آ گیا مگر لوڈشیڈنگ کے عذاب والا پاکستان نہیں بلکہ وہ پاکستان یاد آیا جہاں حویلیوں کے مقیم بھی ایک دوسرے کے قریب بستے تھے۔ جہاں دوسروں کے بچے کے رونے کی آواز سے بھی دل میں درد محسوس ہوتا تھا، جہاں دکھ سکھ سانجھے ہُوا کرتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان سے دوستوں اور رشتہ داروں کے فون آئے اور سب نے طوفان کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا، بجلی اور فون کے بغیر گزری دشواریوں پر اظہار افسوس کیا جبکہ وہ دو ہفتے ان کی زندگی کا اثاثہ ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ انہوں نے جو وقت اپنی فیملی کے ساتھ گزارا، بجلی بحال ہونے کے بعد وہیں رک گیا ہے۔ موبائل فون کی گھنٹیاں بجنا شروع ہو گئی ہیں۔ ٹی وی اور کمپیوٹر آن ہو گئے ہیں۔ ای میلز اور فیس بُک نے اپنے منہ کھول لئے ہیں۔ اندھیروں کے دو ہفتوں میں دل بھی روشن تھا۔ اللہ کی یاد میں بھی ایک عجیب لذت محسوس ہونے لگی تھی۔ پہلی بار خود سے ملاقات کا موقع ملا۔ اندر کی دنیا میں جھانکنے کی فرصت ملی، وہ دنیا جہاں پریشانیاں، مشکلات، جہد مسلسل ، بے چینی اور اضطراب کے سوا کچھ نہ تھا جبکہ ہر نعمت تھی مگر اس کو محسوس کرنے کی فرصت نہ تھی۔ باہر کی دنیا میں اندھیرے ہوئے تو اندر کے اندھیرے بھی بے نقاب ہو گئے اور زندگی کی بے شمار نعمتوں کے چھن جانے کا احساس ہونے لگا۔ وقت بے لگام گھوڑے کی طرح دوڑا چلا جا رہا ہے اور مُڑ کر دیکھنے کی مہلت نہیں ۔ جب ان دو ہفتوں کے دوران وقت نے کچھ بریک لگائی تو زندگی کا اہم حصہ گزر چکا تھا، اب تو بس ایک نحیف سایہ ساتھ ہے جو کسی بھی وقت ڈھل سکتا ہے ۔۔۔ ہمارے عزیز نے دو ہفتوں کے اندھیروں میں زندگی کو جس انداز میں دیکھا اس کا سکون ان کی آواز میں محسوس کیا جا سکتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس مشینی زندگی میں مجھے اتنی فرصت نہ مل سکی کہ اگلی نسلوں کے ذہن کو پڑھ سکتا، ان دو ہفتوں میں معلوم ہوا کہ اگلی نسلیں ہم سے بھی زیادہ تیز رفتار گھوڑے پر سوار ہیں۔