’’صدر‘‘ زرداری اور ذوالفقار مرزا میں ’’صلح‘‘ ہونے والی ہے؟

کالم نگار  |  ڈاکٹر محمد اجمل نیازی
’’صدر‘‘ زرداری اور ذوالفقار مرزا میں ’’صلح‘‘ ہونے والی ہے؟

سنا ہے کہ ’’صدر‘‘ زرداری اور سنیٹر ڈاکٹر بابر اعوان کے درمیان صلح ہو گئی ہے۔ یہ صلح یقیناً ’’صدر‘‘ زرداری کی درخواست پر کی گئی ہو گی۔ ’’صدر‘‘ زرداری بدستور شریک چیئرمین پیپلز پارٹی رہیں گے۔ بابر اعوان بہت مقبول پروگرام ’’اختلافی نوٹ‘‘ میں شریک رہیں گے۔ شریکہ تو برادری میں رہتا ہے۔ اب ذوالفقار مرزا اور ’’صدر‘‘ زرداری کے درمیان بھی مفاہمت ہونے والی ہے۔ فہمیدہ مرزا بیچ میں پڑی ہیں۔ ابھی وہ ذوالفقار مرزا کے حق میں ہیں مگر ’’صدر‘‘ زرداری کے خلاف بھی نہیں ہیں۔ ذوالفقار مرزا نے یہ بھی کہہ دیا ہے کہ زرداری ’’را‘‘ کے ایجنٹ ہیں۔ اس کا برا زرداری صاحب نے نہیں منایا نہ تردید کی ہے۔ یہ بات خود مرزا صاحب کہیں گے کہ ’’صدر‘‘ زرداری ’’را‘‘ کے ایجنٹ نہیں ہیں۔ اس کی تردید بھی ’’صدر‘‘ زرداری نہیں کریں گے۔ ذوالفقار مرزا کا یہ جملہ کتنا بامعنی ہے۔ میں اور آصف زرداری ملیں گے مگر ایک دوسرے کے جنازے میں؟ یہ بھی کہا ہے ڈاکٹر مرزا نے کہ آصف زرداری کے دن تھوڑے ہیں۔ ان کی جسمانی اور ذہنی حالت بہت خراب ہے۔ اطلاعاً عرض ہے کہ مرزا صاحب ڈنگر ڈاکٹر ہیں۔ 

جہاں یہ بات ہوئی وہاں یہ بھی پتہ چلا کہ بابر اعوان اور زرداری صاحب کا راستہ اپنا اپنا ہو گا۔ نجانے ان کی منزل بھی ایک ہو گی یا نہیں۔ البتہ یہ خبر بہت اچھی ہے کہ سیالکوٹ کے ایم این اے وزیر شذیر خواجہ آصف کے حلقہ انتخاب کے لئے دھاندلی سے ہارنے والے عثمان ڈار صاحب کے اب وکیل ڈاکٹر بابر اعوان ہوں گے۔ وہ دبنگ آدمی ہیں اور لائق وکیل ہیں۔ اور اب زبردست تجزیہ کار بھی ہیں۔ ہماری برادری میں بہت جلد اپنی اہلیت کی بنا پر آئے ہیں۔ ہم خیرمقدم کرتے ہیں۔ توفیق بٹ ڈاکٹر بابر اعوان کے ساتھ مجھ سے بھی زیادہ پیار رکھتے ہیں۔ خواجہ آصف ہارے ہوئے دل والے آدمی ہیں۔ خواجہ سعد رفیق اپنے خلاف فیصلے کے بعد بھی قائم دائم تھے۔ خواجہ صاحب بولے کہ یہ مسلم لیگ ن کے لئے بہت بڑا سیٹ بیک ہے۔ خواجہ صاحب کا حلقہ پہلے چار متنازع حلقوں میں ایک ہے۔
کراچی کا سانحہ پشاور والے سانحے سے کم نہیں ہے۔ وہاں سارے قاتل قتل ہو گئے تھے۔ یہاں سارے قاتل بڑے آرام اور اہتمام سے فرار ہو گئے ہیں۔ یہاں جنرل راحیل شریف اور جنرل رضوان اختر فوراً پہنچے۔ نجانے حامد میر انہیں کب ’’ملزم‘‘ بنائیں گے۔ پشاور سانحے کے بعد عمران نے دھرنا ملتوی یا معطل کر دیا تھا۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے کسی پولیس والے معمولی ملازم کو معطل کیا جاتا ہے۔ جنرل راحیل نے سری لنکا کا دورہ ملتوی کر دیا ہے۔ مگر سیاستدانوں نے نواز شریف کو پارلیمانی لیڈروں کی میٹنگ ملتوی نہیں کرنے دی۔ وہاں پر کوئی فیصلہ ہوا یا نہیں ہوا سیاستدانوں نے کھانے پینے میں فیصلہ کن مظاہرہ کیا۔ چاہئے تو یہ تھا کہ سب سیاستدان میٹنگ میں کھانے پینے کے بعد کراچی آ جاتے۔ یا کراچی سانحے پر بات تو کرتے۔ اور ان کے آنے جانے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ آپ کسی مسئلے کے حل کے لئے ان کی ’’آنیاں جانیاں‘‘ دیکھا کریں۔ جیسے اب سب کچھ فوج کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ پھر کہتے ہیں بالخصوص زرداری صاحب کہ جمہوریت کو خطرہ ہے۔ اب کراچی میں آپریشن شروع ہوا ہے تو مجرمانہ اور دہشت گردانہ ’’وارداتیں‘‘ کچھ زیادہ ہونے لگی ہیں؟ سیاستدان اس طرح تاثر دے رہے ہیں کہ اب یہ فوج رینجرز اور آئی ایس آئی کا مسئلہ ہے۔ ہم تو صرف تماشا دیکھیں گے۔ انسپکٹر جنرل سندھ پولیس کہتے ہیں کہ ہم قاتلوں کو کیفر کردار تک پہنچائیں گے۔ وہ صرف یہ بتائیں کہ یہ جملہ وہ کتنی بار کہہ چکے ہیں۔ یہ تو سوچیں کہ ان کے منصب میں بھی ’’جنرل‘‘ آتا ہے۔ سرگوشیاں ہونے لگی ہیں کہ یہ سانحہ اسماعیلی کمیونٹی کے خلاف ہے۔ میڈیا پروپیگنڈے (منفی) کی طرح خبریں دی جا رہی ہیں۔ اس فرقے کے آغا خان دنیا کے امیرترین اور طاقتور ترین آدمی ہیں۔ اب دولت اور طاقت کا استعمال کس طرح ہو گا؟
کالعدم محاذ شریعت محمدی کے سربراہ صوفی محمد نے اپنی وصیت میں کہا ہے کہ طالبان غلطی پر ہیں۔ وہ غیراسلامی اقدامات کر رہے ہیں۔ صوفی محمد ملا فضل اللہ تحریک طالبان کے سربراہ کے سسر بھی ہیں۔ یہ وصیت نامہ اس وقت اچانک کیوں منظر عام پر آیا ہے۔ اس وصیت کی بے نظیر بھٹو کی وصیت سے کیا مماثلت ہے جو سیدھی آصف زرداری کے ہاتھ لگی تھی اور پھر مخدوم امین فہیم کے ساتھ سب جیالوں نے تسلیم کر لیا اور آصف زرداری ایوان صدر میں پہنچ گئے اور پانچ سال قابض رہے۔ میں اب بھی انہیں ’’ادب‘‘ سے ’’صدر‘‘ کہتا ہوں۔
انوشہ رحمان وزیر مملکت برائے انفارمیشن نے عمران خان کی گاڑی کو راستہ نہ دیا۔ انفارمیشن منسٹر پرویز رشید ہوتے تو وہ انہیں راستہ ضرور دیتے۔ وہ سخت بیانات تو دیتے ہیں مگر اس طرح کا رویہ اختیار کرنے کے لئے کبھی تیار نہ ہوتے۔ انوشہ بی بی عین سڑک کے درمیان میڈیا سے خوش گپیاں کر رہی تھی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ عمران کسی اور راستے سے گزر جائیں۔ یا ہمارے اوپر سے گزر جائیں۔ افسوس ہے کہ عمران کے دھرنے کے وقت انوشہ رحمان کی خدمات سے فائدہ نہیں اٹھایا گیا۔ نواز شریف نے انتہائی تحمل اور قوت برداشت کا مظاہرہ کیا۔ چودھری نثار کا کردار بھی اس حوالے سے بہت قابل تعریف ہے۔ لیڈروں کو اپنی خواتین ’’لیڈروں‘‘ کو کچھ تو سمجھانا چاہئے۔
اسرائیلی وزیراعظم نے کہا ہے کہ میرے خیال میں امریکی صدر ابامہ حماقت میں سرفہرست ہیں۔ صدر ابامہ اسرائیل کے مفاد کی خاطر دنیا کا ماما بننے کی کوشش کیوں کر رہا ہے؟
حسن نظامی مرحوم ایک بہت بڑے ادیب تھے۔ انہوں نے کئی کتابیں لکھیں۔ مجھے برادر مسعود عزیز خان نے بتایا کہ انہوں نے اپنے ہاتھوں سے ایک تحریر لکھ کر اپنے دستخطوں سے میرے دادا مرحوم حاجی محمد افضل خان کو عطا کی تھی۔ ’’مضامین حسن نظامی‘‘ کے نام سے یہ کتاب 1912ء کو شائع ہوئی تھی۔ ایک صدی پہلے کی یہ کتاب بہت اچھی حالت میں ہے۔ اس میں یہ بھی لکھا ہے کہ اس کی رونمائی حضرت نظام الدین اولیاء کی بارگاہ میں کی گئی تھی۔ خواجہ حسن نظامی کی نسبت بھی ان سے تھی۔ مرشد و محبوب مجید نظامی کی نسبت بھی ان سے ہے۔ ان کے والدین کی اولاد بچتی نہ تھی۔ نظام الدین اولیاء کے دربار پر منت مانی گئی تو پہلے حمید نظامی اور پھر مجید نظامی پیدا ہوئے۔
حیران کر دینے والی شخصیت اور شاعرہ فیصل آباد کی ناز فاطمہ نے اپنے شہری مجموعے کا نام ’’ہمیشہ رکھا ہے۔ نجانے کس ہمیشگی کی تڑپ اسے پریشان رکھتی ہے۔ اس نے اپنی دوست شاعرہ گلفام نقوی کے لئے ایک نظم لکھی ہے۔ اس کا ایک شعر دیکھیں اور جی چاہے تو حیران ہو چاہئیں ورنہ پریشان ہو جائیں۔
جنہیں چاہا نہیں ہوتا جنہیں سوچا نہیں ہوتا
کبھی ہوتے نہیں ہیں جو ہمارے کیسے ملتے ہیں