پارلیمنٹ کی غلام گردشوں میں وزیر داخلہ کی ’’علالت‘‘ موضوع بحث بنی رہی

پارلیمنٹ کی غلام گردشوں میں وزیر داخلہ کی ’’علالت‘‘ موضوع بحث بنی رہی

جمعرات کو بھی سینٹ کا اجلاس صبح 10بجے شروع ہوا لیکن ایک گھنٹے کے وقفے کے بعد شام کو بھی جاری رہا، چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی اجلاس کا ’’روزانہ کا ایجنڈا ‘‘نمٹانے کی نئی پارلیمانی تاریخ رقم کر رہے ہیں ،چیئرمین سینیٹ عملاً ’’ سخت گیر ’’ہیڈ ماسٹر ‘‘ کا کردار ادا کر رہے ہیں ،ان کی سخت گیری سے ان کے ساتھی ارکان بھی تنگ نظر آتے ہیں ،میڈیا بھی طویل اجلاس کی کوریج سے عاجز آگیا، یہ بات خاص طور پر نوٹ کی گئی ہے ۔ مسلم لیگ(ن) کے نو منتخب ارکان چوہدری تنویر خان ،ڈاکٹر غوث ،نہال ہاشمی ،سلیم ضیاء سینٹ کے ہر اجلاس میں اپنی حاضری کو یقینی بناتے ہیں ۔چوہدری تنویر خان جو پہلی بار ایوان بالا کے رکن منتخب ہوئے ایوان میں اپنے وجود کا احساس دلانے کی بھر پور کوشش کر رہے ہیں شاید 6،7سال سیاسی منظر سے غائب رہنے کی کسر نکال رہے ہیں ،پارلیمنٹ کی غلام گردشوں میں وزیر داخلہ چوہدری نثار کی ’’علالت ‘‘ موضوع بحث بنی رہی جن ’’خبر نگاروں ‘‘ کی چوہدری نثار علی خان تک رسائی نہیں ہے وہ کوئی نہ کوئی خبر بنانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں اور بات کا بتنگڑ بنانے کی کوشش کرتے خاص طور وہ ’’خبر نگار‘‘ حاشیہ آرائی کرتے رہتے ہیں جب پارلیمنٹ ہائوس سے باہر مسلم لیگی رہنماء چوہدری تنویر علی خان باہر نکلے تو ’’خبر نگاروں ‘‘ نے ان سے خبر بنانے کی کوشش کی تو وہ ان کے قابو میں نہیں آئے اور ایک ایسا بیان دے کر چلے گئے کہ خود اخبار نویس بھی چکرا گئے ، گورنر ملک محمد رفیق رجوانہ پارلیمنٹ میں خاصے مصروف رہے ۔ صدر ممنون حسین، وزیراعظم محمد نواز شریف ، کے علاوہ اپوزیشن لیڈر سید خورشید علی شاہ اور سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کیں بعد ازاں،رکن قومی اسمبلی حمزہ شہباز شریف نے پنجاب ہاوس اسلام آبادمیں گورنر پنجاب محمد رفیق رجوانہ سے ملاقات کی۔انہوں نے پنجاب کے گورنر کا عہدہ سنبھالنے پر انہیں باد دی اور نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔ ملک ابرار احمد ، ملک افتخار احمد ،سعود مجید، سینیٹر محسن لغاری ، اویس لغاری ،ضیاء اللہ شاہ، چوہدری واجد ایوب نے بھی گورنر پنجاب سے ملاقات کی اور انہیں گورنر پنجاب کا منصب سنبھالنے پر مبارک باد پیش کی ،جمعرات کو چیئرمین سینیٹ نے تین گھنٹے تک اجلاس کی صدارت کی جبکہ ڈپٹی چیئرمین نے پون گھنٹہ تک صدارت کی ایوان بالا میں مختلف ارکان کے نکتہ ہائے اعتراض پر ریمارکس دیتے ہوئے چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی نے کہا کہ ہر پانچ سال بعد این ایف سی ایوارڈ کا اجراء ضروری ہے ، اجلاس میں عوامی نوعیت کے مسائل کے وقفہ کے دوران بحث سے قبل چیئرمین رضاربانی نے ایوان کو آگاہ کیا کہ پبلک پٹیشن ڈراپ باکس میں 200 عوامی عرض داشتیں وصول ہوئیں جن میں زیادہ تر مجالس قائمہ سے متعلق تھیں جن پر غور کر کے سفارشات تیار کرنے کیلئے کمیٹیوں کو بھجوا دی گئیں ہیں۔