قومی پرچم سَرنگُوں ، ’’جمہوریت سَر بلند؟‘‘

کالم نگار  |  اثر چوہان
قومی پرچم سَرنگُوں ، ’’جمہوریت سَر بلند؟‘‘

20 جنوری 2014ء کو ، وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہُوئے وزیراعظم نواز شریف نے کہا تھا کہ ’’ دہشت گردی کے خلاف ہماری کوشِشیںپاکستان کی بقا کا مسئلہ ہے ۔ دہشت گردی کے حالیہ واقعات ناقابلِ برداشت ہیں ۔ غیر معمولی اقدامات کی ضرورت ہے ۔ دہشت گردی کا جِن بے قابو ہوگیا ہے ۔ اُسے واپس بوتل میں بند کرنا ہوگا۔‘‘ جنابِ وزیراعظم کے اس خطاب کو آج ایک سال تین ماہ اور 26 دِن ہوگئے ہیں لیکن دہشت گردی کا جِن پہلے سے زیادہ بے قابو ہوگیا ہے اور ابھی تک جنابِ وزیراعظم اور چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ کو دہشت گردی کے بے قابو جِن کو قابو میں لانے کا مَنتر نہیں مِلا۔ مَنتر مِلا تو جِن کے تن و توش کے مطابق بوتل بھی تلاش کرلیں گے۔ " Home Made" نہ مِلی تو امپورٹ کرلیں گے ۔
کراچی میں دہشت گردی کا جِن بہت ہی بے قابو اور مُنہ زور ہے ۔ آلِ رسولؐ ہونے کے دعویدار سیّد قائم علی شاہ کو بار بار چیلنج کرتا ہے ۔ اُن کی کپتانی اور بددَعائوں سے بھی نہیں ڈرتا  حالانکہ علاقہ ’’ تھر‘‘ میں بھوک اور پیاس سے مرنے والے لوگ شاہ صاحب کے خوف سے ’’ تھر تھر ‘‘ کانپتے ہیں ۔ کراچی کے کئی علاقوں کے لوگ پینے کے صاف پانی کے قطرے قطرے کو ترس رہے ہیں لیکن کربلا کے پیاسوں کی پیاس کو یاد کر کے صبر کر لیتے ہیں ۔ سیّد قائم علی شاہ کو یقین ہے کہ ’’ جب تک پاکستان میں ‘‘ جمہوریت کے تسلسل کا اصول ‘‘ غالب رہے گا ، اُن کی شاہی بھی قائم رہے گی۔ فی الحال تو نہیں ۔ کل کلاں اپنے قائد جناب آصف علی زرداری سے پوچھے بغیر ہی اعلان کردیں کہ ’’ راج کریسُوں ، پانی نہ ڈَیسوں‘‘۔
کراچی میں اپنے جماعت خانہ کی طرف رواں اسماعیلی کمیونٹی کی بس میں گُھس کر دہشت گردوں نے بوڑھوں، عورتوں اور بچوں سمیت 46 افراد کو جاں بحق اور 20 کو زخمی کردِیا اور فرار ہوگئے۔ حکومت نے جاں بحق ہونے والوں کے ورثاء کے لئے پانچ پانچ لاکھ اور زخمی ہونے والوں کو (خواہ وہ اپاہج بن کر ہی زندگی کیوں نہ گُزاریں )ایک ایک لاکھ روپے معاوضہ دینے کا اعلان کردِیا ہے ۔ ادائیگی بھی کردی جائے گی۔ اب یہ تو نہیں ہوسکتا کہ حکومت عام بَسوں کو بھی بُلٹ پروف بنوادے۔ عام آدمی اور وی  آئی پی میں کچھ تو فرق ہونا چاہیے۔ اور موت کا تو ایک دِن مُعیّن ہے ۔حکومت وفاقی ہو یا صوبائی وہ فرشتۂ اجل سے کسی بھی عام شخص کو "Stay Order" لے کر تو نہیں دے سکتی۔
اسماعیلی برادری کے لوگ پُر امن ہیں ۔ مُحبّ وطن پاکستانی ہیں ۔ اُن کے بزرگوں نے پاکستان بنانے میں حِصّہ لیا لیکن ، انہوں نے ’’ پاکستان بنانے والوں کی اولاد‘‘ ہونے کا دعویٰ نہیں کِیا اور نہ ہی وہ ’’ مہاجر‘‘ کہلاتے ہیں ۔ ہندوستان کی آزادی اور قیامِ پاکستان کی جدوجہد میں مسلمانوں کا جو وفد 1906ء میں انگریز وائسرائے سے مِلا تھا اُس کی قیادت اسماعیلی مسلمانوں کے رُوحانی پیشوا سَر آغا خان نے کی تھی اور مسلمانوں کے لئے جُدا گانہ انتخاب اور اردو زبان کے تحفظ کے مطالبات بھی منوالئے تھے ۔ جُداگانہ انتخاب کی بنا پر (1945ء ۔ 1946ئ) کے انتخابات میں قائداعظم کی قیادت میں آل انڈیا مُسلم لیگ ہندوستانی مسلمانوں کی واحد نمائندہ جماعت بن کراُبھری تھی اور ’’ بے چاری اردو زبان ‘‘کو پاکستان کی قومی زبان کا درجہ دینے کا مقدمہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے ۔
اسماعیلی مسلمانوں کے روحانی پیشوا پرنس کریم آغا خان پیرس میں رہتے ہیں اور دُنیا بھر میں (پاکستان میں بھی)۔ رفاہی کام کرتے ہیں ۔ تعلیمی ادارے اور ہسپتال قائم کرتے ہیں ۔ اُن کے نام سے پاکستان میں کوئی سیاسی جماعت نہیں چل رہی اور نہ ہی وہ پاکستان میں اپنے پَیروکاروں سے خطاب کر کے انہیں غریبوں کے حق میں ’’ انقلاب‘‘ کے لئے تیار کرتے ہیں ۔ انہیں پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ سے کوئی ناراضی نہیں اور نہ ہی انہوں نے کبھی یہ مطالبہ کِیا ہے کہ’’ اگر 6 ماہ کے لئے پاکستان کی حکومت میرے حوالے کردیں تو مَیں سارا نظام ٹھیک کردوں گا۔ ‘‘پاکستان ( خاص طور پر کراچی) میں اسماعیلی مسلمانوں کا کوئی عسکری وِنگ نہیں اور نہ ہی کبھی اُن پر بھتہ خوری اور ٹارگٹ کِلنگ کا کوئی الزام لگایا گیا پھر دہشت گردی کے بے قابو جِن نے اُن کے لوگوں کی جان کیوں لے لی؟ اور جمہوریت اُن دہشت گردوں کا منہ دیکھتی کیوں رہ گئی؟۔
فی الحال یہ فیصلہ نہیں ہوسکا کہ ، اسماعیلی مسلمانوں کو دہشت گردی کا شکار بنانے والے کون ہیں؟ وزیراعظم صاحب کہتے ہیں کہ ۔ ’’ سانحۂ کراچی عالمی سازش ہوسکتی ہے ‘‘۔ مذہبی جماعتیں بھارتی خفیہ ایجنسی ’’ را‘‘ کو ذمہ دار ٹھہراتی ہیں ‘‘۔ وزیراعلیٰ سندھ سیّد قائم علی شاہ ’’ طالبان‘‘ کومجرم ٹھہراتے ہیں ۔ وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان چونکہ ’’علیل‘‘ تھے اور انہوں نے 14 مئی (بدھ) کو گورنر ہائوس کراچی کے وزیراعظم کی صدارت میں منعقدہ اعلیٰ سطحی اجلاس میں شرکت بھی نہیں کی اِس لئے اُن کا مؤقف فی الحال معلوم نہیں ہو سکا۔ چودھری نثار علی خان پاکستان میں عالمی دہشت گرد تنظیم ’’ داعش‘‘ کا وجود تسلیم نہیں کرتے لیکن ’’ داعش‘‘ اور ایک دوسری دہشت گرد تنظیم ’’ جند اللہ‘‘ نے اسماعیلی مسلمانوں کے قتلِ عام کی ذمہ داری قبول کرلی ہے ۔
امامِ کعبہ ڈاکشر شیخ الخالد الغامدی پاکستان میں تھے جب انہوں نے فتویٰ دِیا تھا کہ ’’ طالبان اور داعش کے لوگوں کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے  اور وہ خوارج کے انداز میں اپنی مرضی کے مطابق قُرآن و سنت کی تشریح کر رہے ہیں ‘‘۔ اصولی طور پر پاکستان میں سعودی عرب کی ہم مسلک مذہبی جماعتوں کے قائدین کو یہ فتویٰ مدرسوں کے تمام اساتذہ اور طلبہ و طالبات تک پہنچانا چاہیے ۔پاکستان میں اسلام آباد کی حد تک نظامِ صلواۃ قائم کرانے میں کامیاب وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف نے بھی دلچسپی نہیں لی ۔ فی الحال فیڈرل شریعت کورٹ اور اسلامی نظریاتی کونسل نے بھی اِس فتوے پر اپنی رائے نہیں دی ۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے صدر ممنون حسین اور قائداعظم کی وراثت مسلم لیگ کے صدر وزیراعظم اور پارلیمنٹ نے بھی چُپ سادھ رکھی ہے ۔
فقط ’’جمہوریت کا تسلسل‘‘ ایک ایسا "Issue" ہے ، جس پر( عمران خان کی تحریک انصاف کے سِوا) سبھی سیاسی جماعتیں متفق ہیں ۔ اِس میں زیادہ فائدہ مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی کا ہے۔ جناب آصف علی زرداری اور اُن کے پارٹی کے بڑے بڑے لیڈروں کے خلاف اربوں روپے کی بدعنوانیوں کے مقدمات ( حکومت کی عدم پیروی) کے باعث علاقہ تھر کے مکینوں کی طرح نحیف و نزار ہوچکے ہیں ۔ مولانا فضل الرحمن بیک وقت وزیرِاعظم اور جنابِ زرداری کے کامیاب اتحادی ہیں ۔ سیّد قائم علی شاہ کی وزارتِ عُلّیہ کے ساتھ ایم کیو ایم کی طرف سے ’’ عاق کردہ‘‘ ڈاکٹر عِشرت اُلعباد کی گورنری بھی پکّی ۔ مجھے معروف صحافی / اینکر پرسن سہیل وڑائچ کا یہ مقولہ بار بار یاد آ رہا ہے کہ’’ جب بھی جمہوریت میں کمی آ جائے تو اُس میں تھوڑی سی جمہوریت اور ڈال دیں‘‘۔ جمہور کا کیا ہے؟ جمہوریت کو سربلند ہونا چاہیے۔ 15 مئی ( جمعرات) کو پورے ملک میں اسماعیلی برادری کے لوگوںکے جاں بحق ہونے پر سوگ منایا گیا اور قومی پرچم سرنگوں رہا۔ قومی پرچم تو سقوطِ ڈھاکہ پر بھی سرنگوں ہُوا تھا لیکن ہم تو ہرحال میں جمہوریت کو سربلند دیکھنا چاہتے ہیں!