بھارت گوادر کے سامنے

کالم نگار  |  جاوید صدیق
بھارت گوادر کے سامنے

جب سے چین نے پاکستان میں گوادر پورٹ کی تعمیر اور اسے تجارتی سرگرمیوں کے لیے آپریشنل بنانے کے لیے پاکستان کی مدد شروع کی تو خطے کے کئی ممالک کے لیے پریشانیاں پیدا ہونا شروع ہو گئیں۔ علاقے کی صورت حال پر نظررکھنے والے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ گوادر پورٹ کو تجارتی مقصد کے لیے قابل استعمال بنانے کے فیصلہ پر بھارت کو زیادہ پریشانی ہوئی ہے۔ اس لیے اس نے فوری طورپر ایران کی بندر گاہ چابہار کو ترقی دینے کے لیے ایران سے ایک سمجھوتہ کیا ہے۔ ایران نے چابہار کی بندر گاہ کو ستر کی دہائی میں ترقی دینے کا منصوبہ بنایا تھا لیکن یہ منصوبہ مکمل نہ ہوا۔ 1984ء میں چابہار کو ترقی دینے اور اسے تجارتی سرگرمیوں کے لیے استعمال کرنے کا منصوبہ ترک کر دیا گیا لیکن جب سے پاکستان نے گوادر پورٹ کو ترقی دینے کی کوشش شروع کی ایران نے اپنے مشرق میں واقع چابہار پورٹ کو ترقی دینے پر توجہ دینی شروع کی ہے ۔ ایران کو بھارت نے پیشکش کی ہے کہ وہ 85 ملین ڈالر کی لاگت سے چابہار پورٹ کو تعمیر کرے۔ بھارت نے ایران کے مشرق میں واقع اس پورٹ کے لیے سڑکیں اور دوسری سہولتیں بنانے کے لیے سرمایہ کاری کی پیشکش کی ہے۔
بھارت ایک عرصہ سے اس کوشش میں تھا کہ پاکستان کے راستے اسے افغانستان تک رسائی مل جائے۔ اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے نئی دہلی نے بڑے جتن کئے۔ امریکہ اور یورپی ملکوں نے پاکستان پر دباؤ ڈالا کہ وہ بھارت کو سڑک کے راستے افغانستان اور سنٹرل ایشیاء تک راستہ دے لیکن پاکستان کی طرف سے حوصلہ افزاء جواب نہ ملنے پر بھارت نے افغانستان اور اس سے آگے وسط ایشیاء کی ریاستوں تک رسائی کے لیے ایران سے رجوع کیا اوراب وہ چابہار کو گوادر کے مقابلے میں ترقی دینے کے لیے بھاری سرمایہ کاری کررہا ہے۔ ایران بندر عباس کی بندر گاہ کو روس اور یورپی ملکوں سے تجارت کے لیے استعمال کرتا ہے۔ وہ چابہار کو افغانستان اور وسط ایشیاء کے ملکوں کے ساتھ رابطوں اور تجارت کے لیے استعمال کرنا چاہتا ہے۔ چابہار پورٹ بننے کے بعد ایران کے تاجکستان اور دوسری ریاستوں سے تجارتی روابط مضبوط ہوں گے۔ افغانستان کے ساتھ بھی اسے تجارتی حوالے سے سہولت مل جائے گی۔ بھارت کو چابہار کے ذریعے افغانستان اور اس سے آگے وسط ایشیاء کے ملکوں کی مارکیٹوں تک پہنچنے کا موقع مل جائے گا۔ بھارت پاکستان کو چھوڑ کر ’’بائی پاس‘‘ کرکے ایران کی پورٹ چابہار کے ذریعہ افغانستان میں داخل ہونا چاہتا ہے ۔
بھارت ایک عرصہ سے افغانستان تک آسانی سے رسائی کا خواہاں رہا ہے ۔ پاکستان کو یہ اندیشہ ہمیشہ سے رہا ہے کہ بھارت افغانستان میں اپنے اثرورسوخ کو بڑھا کر مغربی سرحد کے ذریعے پاکستان کے لیے مسائل کھڑا کرنا چاہتا ہے۔ چابہار کے ذریعے بھارت کو جو راستہ ملے گا اس کے پاکستان کی سیکورٹی کے لئے مضمرات موجود ہیں یقیناً پاکستان کی سیکورٹی اور خارجہ پالیسی سے متعلق ادارے اس صورت حال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ بہت سے ماہرین اور تجزیہ کار جو گوادر اور چابہار کا تقابل کرتے ہیں ان کی رائے یہ ہے کہ گوادر کی بندرگاہ بننے سے پاکستان کو کراچی کی بندرگاہ کی بھارتی ناکہ بندی کے خطرات کم ہوں گے بھارت 1971ء کی جنگ میں کراچی کی بندرگاہ کا محاصرہ کرنے کی کوشش کر چکا ہے۔کراچی کی بندرگاہ اور سمندری راستوں کی اگر ناکہ بندی کر لی جائے تو پاکستان کی سلامتی کے لئے اس کے سنگین مضمرات ہیں گوادر کی بندرگاہ بھارت کے ایسے منصوبوں کی زد میں نہیں آسکتی۔ بھارت گوادر پورٹ کی تعمیر کے بعد بلوچ علیحدگی پسندوں کے ذریعہ گڑبڑ کرانے کی کوشش کر سکتی ہے۔ چینی ماہرین اور دوسرے کارکنوں پر حملے بھی ہو سکتے ہیں ان خدشات کے پیش نظر پاکستان نے ایک خصوصی سیکورٹی فورس بنانے کا فیصلہ کیا ہے جو چینی ماہرین اور دوسرے کام کرنے والوں کو سیکورٹی فراہم کرے گی۔
ایران اور پاکستان نے چابہار اور گوادر کو ترقی دینے کے لئے حکمت عملی بنا لی ہے گوادر اور چابہار‘ افغانستان‘ تاجکستان‘ ازبکستان‘ ترکمانستان اور دوسرے وسط ایشیائی ملکوں کو خیلج‘ مشرقی وسطیٰ اور یورپ تک تجارتی روٹ فراہم کریں گی۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ وسط ایشیاء کے ملکوں سے تجارت کرنے اور ان ملکوں کے قدرتی وسائل اور مصنوعات کو برآمد اور بیرون ملک سے درآمد کے لئے مختصر اور کم لاگت کا روٹ فراہم کرنے کے لئے پاکستان اور ایران ایک دوسرے سے مقابلہ کریں گے
گوادر پورٹ چابہار کے مقابلے میں جلد آپریشنل ہو جائے گی اس کی وجہ اس پورٹ کی ترقی اور اس کے ذریعہ تجارت کرنے میں چین بے حد دلچسپی لے رہا ہے۔ حال ہی میں پاکستان اور چین کے درمیان پاک چین اکنامک کوری ڈور کا جو سمجھوتہ ہوا جس کے تحت چین اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے اور گوادر پورٹ کو تجارتی مقاصدکے لئے قابل استعمال بنائے گا۔ گوادر کاشغر روٹ کے ذریعہ چین اپنی تجارت کے لئے مختصر ترین روٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائے گا۔ اس سے چین کی مصنوعات پر لاگت کم ہو گی۔ گورادر پورٹ آبنائے ہرمز STRAIT OF HURMUZ سے فاصلے پر ہے۔ آبنائے ہرمز سے مغربی ممالک کو عرب ممالک سے جانے والا تیل گزرتا ہے اگر کسی تنازعہ کی وجہ سے ابنائے ہرمز بند ہوتی ہے تو بھی چین کو اپنے مال کی ترسیل میں کسی رکاوٹ کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ گوادر اور چابہار کی بندرگاہوں کے آپریشنل ہونے سے علاقے میں ایک نئی معاشی اور سٹریٹجک حرکیات DYNAMICS کا آغاز ہو گا۔ وزیراعظم نواز شریف وسط ایشیاء کے ملکوں کا دورہ کرنے والے ہیں یہ دورہ وسط ایشیاء کے ملکوں کے ساتھ تعلقات اور رابطوں کو مستحکم بنانے کی کوشش ہے پاکستان بھارت اورچین اپنے مفادات کے لئے متحرک ہو گئے تو علاقے میں ایک دلچسپ صورت حال پیدا ہو گی۔