ٹیکسوں کا ۔” تھانیداری نظام!“

کالم نگار  |  اثر چوہان

بائیبل کے مطابق ،جب حضرت ابراہیم ؑ کے بڑے بیٹے، حضرت اسحٰقؑ ، بہت بُوڑھے ہو گئے اور اُن کی نظر بھی کمزور ہو گئی تو، اُن کے چھوٹے بیٹے حضرت یعقوب ؑ نے ،اپنے بڑے بھائی جنابِ عِیسو کا بھیس بدل کر ،اوروالد کو، اُن کی پسند کا کھانا کھِلا کر، اپنے اور اپنی آئندہ نسلوں کے لئے دُعائیںحاصل کر لیں اور جب جناب عِیسو کھانا لے کر والد کے پاس حاضر ہُوئے تو، حضرت اسحٰقؑ نے جناب عِیسوکو یہ دُعا دی کہ ۔’‘’ خُدا تمہیں اور تمہاری آئندہ نسلوں کو یعقوبؑ اور اُس کی آئندہ نسلوں کی، خِدمت کرنے کی توفیق دے!“۔مجھے نہیں معلوم کہ جو لوگ یا طبقے ٹیکس نہیں دیتے ،انہوں نے بھیس بدل کر۔ ( یا بھیس بدلے بغیر) ۔جنابِ اسحٰق ڈار کوکیا کھِلایا اور کیا سُنگھایا ہے، کہ جنابِ ڈار نے،خُوش ہو کر ٹیکس ادا کرنے والے لوگوں اور طبقوں کو دُعا دی ہے کہ۔” خُدا تمہیں اور تمہاری آئندہ نسلوں کو بھی، ٹیکس ادا کرنے اور ٹیکس نہ ادا کرنے والے لوگوں کی خدمت کرنے کی توفیق دیتا رہے!“۔
حضرت عیسیٰ ؑ کے دَور میں ۔یہودی۔رومیوں کے زیرِ نگِیں تھے۔ ایک شخص نے ،حضرت عیسیٰؑ سے پوچھا کہ ۔” ہم ٹیکس کِسے دیں ؟۔ خُدا کو یا۔ روم کے بادشاہ۔سِیزر۔ کو“۔ تو حضرت عیسیٰؑ نے کہا کہ ۔”خُدا کا۔ خُدا کو دو ۔اور سِیزر کا ۔سیِزرکو “۔اسلام میں ۔” زکوٰة“۔ بھی ایک طرح کا ٹیکس ہی ہے ۔ ہر صاحبِ نصاب مسلمان کو یہ ٹیکس دینا پڑتا ہے۔ابتدا میں زکوٰة ۔بیت اُلمال ( قومی خزانے) میں جمع ہوتی تھی ۔خلیفہءاوّل حضرت ابو بکر صدیق ؓ نے، مُنکرینِ زکوٰةکے خلاف جہاد بھی کِیا تھا ۔ کسی بھی صاحبِ نصاب مسلمان ( یا طبقے) کو زکوٰة سے استثنیٰ حاصل نہیںہے۔ صدر جنرل ضیاءاُلحق نے، ہر صاحبِ نصاب مسلمان سے قانوناً ۔زکوٰة حاصل کرنا شروع کی تو،شیعہ مسلمانوں نے ،۔احتجاج کِیا اور یہ مطالبہ منوا لِیا کہ ۔”وہ اپنی مرضی سے، جِسے چاہیں، زکوٰة دیں گے۔ حکومت کو نہیں دیں گے “۔ پھِر یہ ہُوا کہ بہت سے سُنّی سرکاری ملازمین نے زکوٰة سے بچنے کے لئے ،خود کو شیعہ ظاہر کر کے ،حلف نامہ داخل کر دیا ، کیونکہ سُنّی سرکاری ملازمین کی تنخواہوںکی مناسبت سے ،اُن کی زکوٰة، کاٹ لی جاتی تھی ۔مجھے حُسنِ ظن ہے کہ ،پاکستان کے تمام لوگ، بلا لحاظ مذہب و ملّت ۔( خُدا کے بندوں کی خدمت کر کے )۔خُدا کا۔ خُدا کو دے دیتے ہیں۔ لیکن یہ بھی یقین ہے کہ ، حکومت کا۔ حکومت کو (ٹیکس کی صُورت میں)۔دینے والے بہت کم لوگ ہیں۔ہمارے معاشی نظام میں ابتری کی بڑی وجہ یہی ہے ۔
ہر حکومت کو۔ ٹیکس نا دہندگان کا، عِلم ہوتا ہے،اِس لئے کہ بہت سے ٹیکس نا دہندگان تو ،حکومت میں ہی شامل ہوتے ہیں ۔گذشتہ پارلیمنٹ کے بہت سے ارکان۔ ( وزیرِاعظم یوسف رضا گیلانی سمیت) ۔کے بارے میں، 11مئی کے عام انتخابات سے، کچھ دِن پہلے انکشاف ہُوا کہ اُن کانام تو ،محکمہ انکم ٹیکس کے ریکارڈ میں، رجسٹرڈ ہی نہیں ہے “۔خُلفائے راشدین ؓ کو قاضی صاحبان کی عدالتوں میں پیش ہونے سے، استثنیٰ حاصل نہیں تھا، لیکن اسلامی جمہوریہ پاکستان کے مُتفقہ آئین میں۔ ( جِس پر ہر مسلک کے، جیّد عالم کے بھی دستخط تھے)۔ صدرِ پاکستان کو۔( خواہ وہ کرپشن کا بادشاہ ہی کیوں نہ ہو؟ )۔استثنیٰ حاصل ہے اور اُسے، پاکستان کی سپریم کورٹ۔ (اور شریعت کورٹ بھی)۔طلب کرکے نہیں پوچھ سکتی کہ ۔” جنابِ صدر ! ۔آپ نے ناجائز ذرائع سے، حاصل کی گئی دولت۔ بیرونی بنکوں میں جمع کرانے کی زحمت کیوں کی ؟۔ اسلامی نظریاتی کونسل اور مختلف مسالک کے مفتیان عُظّام نے بھی، اِس اہم مسئلہ پر توجہ نہیں دی اور نہ ہی اِس مسئلہ پر کہ ،جب ایک سرکاری ملازم اور کاروباری شخص، اپنی آمدن پر حکومت کو ٹیکس ادا کرتا ہے تو سینکڑوں اور ہزاروں مربع اراضی کے مالکان کو، اپنی آمدن پر ٹیکس کی ادائیگی سے استثنیٰ کیوں حاصل ہے؟۔ کئی عُلمائے کرام اِس۔قرآنی آیت کی بنیاد پر کہ ۔” الارض لِلّلہ“ ۔ یعنی زمین اللہ تعالیٰ کی ہے ۔ کا نعرہ لگا کر سرکاری زمین پر قبضہ کر کے، اُس پر مسجد اور مدرسہ تعمیر کر لیتے ہیں ، لیکن انہوں نے کبھی یہ فتویٰ نہیں دِیا کہ ۔جب متحدہ ہندوستان کی ساری زمین، اللہ تعالیٰ کی تھی تو، مسلمان بادشاہوں نے،( اپنے لئے خِدمات انجام دینے والے، مخصوص خاندانوں کو ، اُس زمین کا مالک کیسے بنا دِیا ؟۔انگریز اور سِکھّ حکمرانوں سے تو گلہ ہی کیا؟۔14اگست1947ءکے بعد کیا،شریعت کی رُو سے، یہ ساری زمینیں ،خُودبخود ۔مملکتِ خدادادِ پاکستان کی ملکیت نہیں ہو گئی تھیں ؟۔
چلئے چھوڑیں!۔آپ اتنا سخت فتویٰ نہیں دے سکتے ۔نہ دیں۔ لیکن یہ فتویٰ تو جاری کر سکتے ہیں کہ، جن لوگوں کو، زرعی زمینوںسے آمدن ہوتی ہے اور وہ حکومت کو ٹیکس نہیں دیتے تو،اُن کا یہ فعل جائز ہے یا نہیں ؟۔ جناب اسحٰق ڈار نے بھی ۔” پولے جیہے مُنہ نال“۔ یہ کہہ دِیا کہ۔”زرعی شُعبے کو تو ٹیکس سے استثنیٰ حاصل ہے “۔ لیکن اُن کی شہ پر ۔ایف۔بی۔آر کے افسران نے، اُن کی حسبِ منشاءٹیکس ادا نہ کرنے والے، تمام غیرکاشتکار ٹیکس گزاروں کے خلاف، ابھی سے ، چھُریاں ،کلہاڑیاں تیز کرنا شروع کر دی ہیں ۔مختلف نیوز چینلوں پر، ایک اعلیٰ افسر تو مُنہ بگاڑ کر۔ خوفناک نتائج کی دھمکیاں بھی دے رہے تھے ۔اُس تھانیدار کی طرح جو۔ چوری کی تفتیش کے لئے ،کسی گاﺅں کے زمیندار کی حویلی میں، مہمان نوازی کا لُطف اٹھا کر۔ اگلی صُبح،گاﺅں کے تمام غیر کاشتکارلوگوں کو وہاں بُلا کر ، زمیندار سے پوچھتا ہے کہ ۔” چودھری جی!۔ تسِیں دسّو ۔اینہاں وِچّوں چور کون اے ؟“۔
پاکستان میں، زرعی اصلاحات کا ڈھونگ۔ کئی بار رچایا گیا ،لیکن زرعی شعبہ کو ٹیکس سے مستثنیٰ ہی رکھا گیا ۔سب سے بڑی زیادتی۔” غریبوں کے حق میں انقلاب“۔ لانے کا وعدہ کرنے والے ۔”قائدِ عوام۔ فخرِ ایشیا“۔جناب ذوالفقار علی بھٹو نے کی۔بھٹو صاحب کے پُرانے ساتھی اور پنجاب کے سابق وزیرِاعلیٰ، جناب حنیف رامے(مرحوم) کا ایک مضمون ۔ستمبر1977ءمیں، انگریزی روزنامہ۔©"Frontier Post"۔ پشاور میں شائع ہُوا تھا ،جِس میں رامے صاحب نے کہا تھا کہ۔” اِس بات کا تو، بعد میں پتہ چلا کہ ذوالفقار علی بھٹو ، پاکستان میں سوشلزم نافذ کرنے کے لئے نہیں ،بلکہ سوشلزم کو روکنے کے لئے ،میدانِ سیاست میںاُترے تھے “۔ اِس بات کی تصدیق ، جناب ذوالفقار علی بھٹو ،محترمہ بے نظیر بھٹو اور جناب آصف زردای کے، حکومت کرنے کے انداز سے ہوگئی ہے ۔ زرعی شعبے کو ٹیکس کے دائرے میں لانا،صنعت کار میاں نواز شریف کی قیادت میں، تیسری بار وفاق میں برسرِ اِقتدار آنے والی مسلم لیگ ن کے بس کی بات بھی نہیں ہے۔ اِس لئے کہ مسلم لیگ ن میں بھی زمیندار طبقے کا غلبہ ہے جو، زرعی انکم ٹیکس دینا نہیں چاہتا۔ پاکستان میں ۔” طبقاتی بنیادوں پر سیاست “۔ فی الحال تو کامیاب نہیں ہُوئی تو، کیا اُس وقت کا انتظار کِیا جائے؟۔ کہ جب پاکستان میں (خدانخواستہ )طبقاتی جنگ شروع ہو جائے ؟۔ بجٹ کے خلاف ، جِس طرح احتجاج ہو رہا ہے اس سے تو یہی پتہ چلتا ہے کہ ”ٹیکسوں کا تھانیداری نظام “۔ اب نہیں چلے گا۔