نواز شریف عمران کا استقبال کریں تو مسکرائیں!

کالم نگار  |  ڈاکٹر محمد اجمل نیازی

کیا عمران خان بھی اب ایک تبدیل شدہ آدمی ہو گا؟ ابھی تک تو یہ بحث جاری ہے کہ نواز شریف تبدیل شدہ آدمی ہیں یا نہیں ہیں۔ خبر ہے کہ وہ قومی اسمبلی میں عمران خان کا استقبال کریں گے۔ میں اس حوالے سے ابھی بات کروں گا۔ میرے کالم کا موضوع یہی ہے صدر زرداری خوش ہیں کہ نواز شریف کو ایک بار پھر بری طرح پھنسا دیا گیا ہے۔ نجانے کس نے پھنسایا ہے؟ نواز شریف کی سنجیدگی بہت کچھ کہتی ہے۔ کہتے ہیں کہ انہیں اب معلوم ہوا ہے کہ معاملات کتنے بگڑے ہوئے ہیں اور دباﺅ کس کس طرف سے ہے۔ اندرونی اور بیرونی طاقتیں ”اپنا کام“ شروع کر چکی ہیں۔ اسحاق ڈار نے بجٹ پیش کرنے میں جلدی بلکہ جلد بازی کی ہے۔ نجانے یہ بجٹ کس نے بنایا ہے۔ کیا یہ بجٹ پیش کرنے سے پہلے نواز شریف کی نظر سے نہیں گزرا تھا۔ بہت گڑبڑ شروع ہو گئی ہے۔ پولیس نے رہی سہی کسر نکال دی ہے۔ یہ کس پلاننگ کا حصہ ہے۔ پولیس شہباز شریف اور حمزہ شہباز شریف کی قیادت میں لوڈشیڈنگ کے خلاف جارحانہ مظاہروں میں سر جھکا کے ساتھ ساتھ چلتی تھی اب وہ یہ غصہ بھی بیچارے لوگوں پر نکال رہی ہے۔
تو یہ کیا سازش ہے۔ پولیس خود ہڑتال کے موڈ میں لگتی ہے۔ یہ ہڑتال کس کے خلاف ہو گی؟ میں نے سنا ہے کہ شہباز شریف اپنے کاموں پر خوش ہیں مگر دو کاموں کے لئے افسردہ ہیں جس میں سے ایک یہ ہے کہ انہوں نے پولیس والوں کی تنخواہیں کیوں دگنی کی تھیں۔ خود انہوں نے یہ اظہار کیا تھا کہ اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ اس کے بعد تنخواہیں بڑھانے کے لئے ٹیچرز نے مظاہرہ کیا تو ان پر بے تحاشا تشدد پولیس کی طرف سے ہوا۔ انہیں غصہ تھا کہ ہم سے مقابلہ کرتے ہو۔ انہوں نے لیڈی ٹیچرز کو سڑکوں پر لٹا لٹا کر بے تحاشا مارا۔ اس کے علاوہ بھی پولیس کی زیادتیوں کے خلاف لوگ اب خدا سے بھی دعا نہیں کرتے۔ لوگ پچھلے حکمرانوں سے اتنے ذلیل و خوار ہوئے کہ نئے حکمرانوں کی طرف بھی نہیں دیکھتے۔ انہوں نے آسمان کی طرف بھی دیکھنا چھوڑ دیا ہے۔ نئے حکمرانوں کی مجبوریاں بھی نئی ہوں گی تو مجبور اور مقہور لوگ صبر کرنے اور انتظار کرنے کے علاوہ کچھ نہیں کر سکتے۔ اب صبر کا بھی کوئی اجر نہیں ملتا اور انتظار پر بھی اعتبار نہیں رہا۔ اب نئے وزیر شذیر بھی وہی باتیں کرتے ہیں جو پیپلز پارٹی کے وزیر شذیر کرتے تھے۔ خزانہ خالی ہے مگر وزیر خزانہ ہوتا ہے حتیٰ کہ حنا ربانی کھر کو بھی وزیر خزانہ بنا کے دیکھ لیا گیا۔ اسحاق ڈار کچھ کھر صاحبہ سے ہی سیکھ لیتے۔ وہ ہر لحاظ سے کامیاب تھیں۔ ان کا بجٹ ڈار صاحب والے بجٹ سے بھی برا تھا مگر ان کے خلاف کوئی مظاہرہ نہیں ہوا۔ ڈار صاحب کے لئے سوچنے کا مقام ہے۔ پھر حنا بی بی نے وزیر خارجہ کے طور پر کامیابی کے جھنڈے گاڑے حیرت ہے کہ اسحاق ڈار بھی وزیر خارجہ بننا چاہتے تھے۔ یہ وزارت نواز شریف نے اپنے پاس رکھ لی کاش وہ وزارت خزانہ بھی اپنے پاس رکھ لیتے۔
پرویز رشید کے لئے ایک نرم گوشہ میرے دل میں ہے۔ ذاتی طور پر وہ اچھے ہیں مگر مجھے تو گوشہ عافیت کی تلاش ہے۔ جو اس ملک میں کسی کو بھی حاصل نہیں ہے۔ پرویز رشید کہتے ہیں کہ اگر اسحاق ڈار کی بجائے کوئی اور وزیر خزانہ ہوتا تو اس نے ہاتھ کھڑے کر دئیے ہوتے۔ ڈار صاحب نااہل وزیراعظم گیلانی کی کابینہ میں صدر زرداری کے وزیر خزانہ تھے مگر وہ بجٹ پیش کرنے سے پہلے ہی ہاتھ کھڑے کرکے کابینہ سے باہر آ گئے تھے۔ اب انہوں نے خود ہاتھ کھڑے کرنے کی بجائے غریبوں کو ہینڈز اپ کرا دیا ہے۔ کم از کم یہ تو کیا ہوتا کہ پولیس والوں کی تنخواہیں بڑھائی ہوتیں تاکہ وہ زیادہ جوش و خروش سے تنخواہیں نہ بڑھانے کے خلاف مظاہرہ کرنے والے ملازمین کو ملزمان بنا کے خوب مار دھاڑ کرتے۔ تاکہ جمہوری حکومت میں کسی کو مظاہرہ کرنے کا حق استعمال کرنے کی جرات نہ ہوتی۔ الیکشن سے پہلے شریف برادران نے کم سے کم تنخواہ 15 ہزار مقرر کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ وعدہ پورا کر دیا گیا؟ اس کے بعد بھی ہمیں نواز شریف کی سنجیدگی کا پتہ نہیں چل رہا۔ اسداللہ غالب کے کالم کا عنوان ہی یہ ہے ”اک بار مسکرا دو“ ایک نئے ٹی وی چینل پر باقاعدہ یہ گیت چل رہا ہے۔ اس کے ساتھ نواز شریف کی سنجیدگی کی مختلف شکلیں دکھائی جاتی ہیں۔
سنا ہے اس نئے ٹی وی چینل کی ”سرپرستی“ اور کفالت خود بلکہ خود بخود صدر زرداری کر رہے ہیں۔ اس ٹی وی چینل کا کیپٹل لاہور ہے جبکہ صدر زرداری کے کیپٹل اسلام آباد اور کراچی ہیں۔ انہوں نے لاہور میں سیاسی سکونت اختیار کرنے کا اعلان کیا ہے۔ صدر زرداری کی مسکراہٹ اپنی پارٹی کی عبرتناک شکست کے بعد بھی نہیں ٹوٹی۔ اب اس مسکراہٹ کی آہٹ وزیراعظم ہاﺅس میں بھی سنائی دے رہی ہے۔ اب تو نواز شریف پر لازم ہے کہ وہ تھوڑا سا مسکرائیں۔ وہ مسکراتے ہوئے اچھے لگتے ہیں۔ عطاءالحق قاسمی نے بھی انہیں درخواست کی ہے کہ میرے پاس نئے لطیفوں کا انبار اکٹھا ہو گیا ہے۔ یہ مصنوعی خوشی ہوتی ہے۔ میری گزارش پرویز رشید سے ہے کہ وہ یہ سراغ تو لگائیں کہ آخر وجہ کیا ہے؟ چیلنجز ہیں تو ان کا مقابلہ کریں۔ لوگوں کو بڑی امیدیں ان سے ہیں۔ یہ امیدیں خود انہوں نے بے بس لوگوں کی جھولی میں ڈالی ہیں۔ یہ جھولی پھٹی ہوئی ہے۔ پھر بھی ایک آدھ امید تو ابھی زندہ ہو گی۔ عجیب برا وقت آیا ہے کہ ہم مایوس بھی ہیں اور امید سے بھی ہیں۔ لوگ اس منجدھار میں غوطے کھا رہے ہیں نہ ڈوبنے دیا جاتا ہے نہ کنارے پر لایا جاتا ہے۔ یہ لوگ غریب تو ہیں پرلے درجے کے بدنصیب بھی ہیں اور برسوں سے ہیں۔
جب نواز شریف عمران خان کا استقبال کریں تو ضرور مسکرائیں۔ میری گزارش میڈیا سے ہے کہ وہ یہ مسکراہٹ لوگوں کو ضرور دکھائیں۔ کچھ لوگ خوشی سے رو پڑیں گے۔ عوامی مسائل کے لئے پیپلز پارٹی تحریک انصاف اورایم کیو ایم نے مل کر چلنے پر اتفاق کیا ہے۔ پیپلز پارٹی نے تو اپنے دور میں عوامی مسائل بڑھائے ہیں۔ انہوں نے ہی نواز شریف کی مسکراہٹ چھین لی ہے۔ صدر زرداری کا وار عمران خان پر بھی چلا ہے۔ سندھ میں ایم کیو ایم سے لڑائی اور وفاق میں صلح صفائی؟ شیخ رشید کو اس کام پر کس نے لگایا ہے۔
عمران خان تحریک انصاف کے امیر ترین جہانگیر ترین کے طیارے میں اسلام آباد آئے۔ یہ اچھا کیا کہ پارٹی کے مقتول عثمان کے گھر گئے۔ نواز شریف اپنے مخالفین کے لئے جوابی کارروائی میں یہ کریں کہ فوراً عمران خان کو قائد حزب اختلاف بنا دیں۔ وہ اپوزیشن لیڈر نہ بنے تو زیادہ خطرناک ہوں گے۔ صدر زرداری نے خورشید شاہ کو اپوزیشن لیڈر بنوا کے بھی نواز شریف کے لئے مشکل پیدا کی ہے۔ کبھی کبھی فرینڈلی اپوزیشن اصل اپوزیشن سے بھی خطرناک ہوتی ہے؟ اپوزیشن میں پوزیشن ہوتی ہے نواز شریف بتائیں کہ عمران خان سے انہیں کوئی ڈر نہیں۔ صوبہ خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کی حکومت کی حمایت کرکے نواز شریف نے بڑی معرکہ آرائی کی ہے۔ امید تھی کہ وہ عمران کے لئے اپوزیشن لیڈر کا اعلان بھی کریں گے مگر صدر زرداری جیت گئے۔